ایک روشن فیصلہ

آلودگی اتنی شدید ہوگئی ہے کہ اکثر خوشنما چہرے بھی آلودہ سے دکھائی دینے لگے ہیں۔ جمہوریت کا چہرہ خدمت اور حکمرانی کا چہرہ عدل و انصاف اور اہل عدل کا چہرہ، باوردی حکمرانی کے چہرے کی تو بات ہی کیا کریں وہ جو دیگر چہرے ہیں ان پر بھی حالات کی گرد کی تہیں دبیز ہوتی جا رہی ہیں یا کی جا رہی ہیں آلودگی کے اس ماحول میں ایک روشن فیصلے کا ذکر شاید کچھ روشنی بھی پیدا کردے ایسا فیصلہ اور وہ فیصلہ کرنے والا جو اب اس جہان میں نہیں وہ فیصلہ وقت کے باوردی حکمران کے خلاف دیا تھا اس منصف نے اور اس سے شہنشاہ ہند جہانگیر کی بیگم نور جہاں کی روح اور ایک سابق وزیراعظم پاکستان کی بیگم‘ بیگم نون جو اس باوردی حکمران کی امور ثقافت کی باضابطہ مشیر بھی تھیں بہت خوش ہوئی تھیں۔ اس فیصلہ کا تاروز جزاء اہل علم و ثقافت کے عالمی حلقوں میں ذکر ہوتا رہے گا اور مرحوم ہو چکے جسٹس سردار محمد اقبال کا بھی۔ مقبرہ جہانگیر میں داخلہ کے مرکزی دروازے کے باہر گرائے گئے مکانات کی جو بنیادیں اور دور دور تک پھیلے آثار ہیں وہ سردار محمد اقبال مرحوم کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر محمد ضیاء الحق کی مرضی اور منشاء کے خلاف دئیے فیصلے کے گواہ ہیں اور وہ فیصلہ Land Marks Of Lahore نام کی ایک عالمی شہرت کی کتاب میں بھی شامل کرنا لازم خیال کیا گیا ہے شاید اس خیال سے کہ دنیا والوں کو معلوم ہو جائے کہ پاکستان میں ایسے اہل عدل و انصاف بھی ہو گزرے ہیں جو اس باوردی حکمران کی مرضی کے خلاف بھی فیصلے دے دیا کرتے تھے جس نے انہیں اس فیصلہ دینے کے منصب پر لگایا ہوتا تھا اور باوردی ضیاء الحق تھا تو پنجاب پر جنرل غلام جیلانی خان کا گورنر راج تھا وہ غلام جیلانی خان جس نے اپنے سارے راج میں شاید ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی تھی وہ اخبار نویسوں سے دور اور اخباروں سے بہت ہی قریب ہوتا تھا میرا مطلب ہے اخباروں میں شائع ہوئی اپنی کارکردگی کے بارے میں خبروں کا فوری نوٹس لیتا تھا شاہی مسجد کے سامنے بارہ دری کے ارد گرد بہت پرانے درخت تھے جیلانی صاحب نے محکمہ آثار قدیمہ والوں کو حکم دیا کہ وہ درخت کٹوا دیں ڈاکٹر رفیق مغل نے ان درختوں کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت بیان کی۔ ہم نے خبر چھاپ دی جیلانی صاحب نے اسی روز اخبار پڑھ کر ٹیلی فون کروا دیا ’’رہنے دیں نہ کاٹیں‘‘۔ قائداعظم لائبریری بنوائی تو انچارج انجینئر میاں شریف کو حکم دیا لائبریری کے سامنے سے مال کی طرف کے سب درخت کٹوا دیں سڑک سے گزرنے والوں کو لائبریری نظر آنا چاہئے میاں صاحب نے مجھے بتا دیا۔ جیلانی صاحب نے حکم واپس لے لیا ’’نوائے وقت والے کہتے ہیں تو رہنے دو‘‘۔ ان کے اس شہر پر بہت احسانات ہیں اتنے کہ کسی اور باوردی یا بے وردی گورنر کے نہیں۔ مگر مقبرہ جہانگیر کے سامنے زیر تعمیر بٹالہ کالونی پر وہ بھی خاموش رہتے تھے میں نے بریگیڈئر یعسوب کی موجودگی میں جو ان کے ملٹری سیکرٹری ہوتے تھے جہانگیر اور نور جہاں کی روحوں کو اور اس ملک اور شہر کے تاریخی ورثہ کو اس ظلم سے بچانے کی ضرورت بتائی تو بھی وہ خاموش ہی رہے۔ معلوم ہوا کہ جس پارٹی نے کالونی شروع کی ہے وہ بہت بااثر ہے اور پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی خلاف قانون اس کالونی کے لئے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہوا ہے۔ سردار اقبال وفاقی محتسب تھے میں نے بحیثیت پاکستان کے شہری کے ان کی عدالت میں ذاتی طور پر مقدمہ دائر کر دیا ہمارے ادارے کے جنرل منیجر ہوتے تھے رانا صاحب (مرحوم)۔ وہ پارٹی ان کے پاس بھی آئی رانا صاحب نے پوچھا کیا جھگڑا ہے اور واپس جا کر انہیں جواب دیدیا کیس کی سماعت ہوئی اسلام آباد میں مجھے اپنے خرچ پر وہاں جانا پڑتا تھا ۔ شیخ حفیظ صاحب (مرحوم) ان کے ادارے سے وابستہ ہو چکے تھے انہوں نے کیس سنا سردار صاحب کے پاس لے گئے ’’اس کے پاس تو کرایہ بھی نہیں ہوتا وکیل کیسے کرے گا‘‘۔ سردار صاحب نے فائل دیکھی، ’’یہ تو میرا فرض ہے اس اکیلے کا ہی تو نہیں‘‘۔ ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا ’’تم نے خلاف ضابطہ خلاف قانون منظوری کیوں دی تھی‘‘ اس کا جواب تھا ’’ مجھ پر دباؤ تھا‘‘ سردار صاحب کا پارہ بہت ہی کم چڑھتا تھا ’’تمہیں ڈائریکٹر جنرل نہیں ہونا چاہئے تھا‘‘ ان کے فیصلے اور حکم پر وہ کالونی گرا دی گئی تھی جس کی بنیادیں اب بھی زائرین ہر روز دیکھتے ہیں اور جو اہل عدل کے منصب والے کے باوردی حکمران کی مرضی اور منشاء کے خلاف فیصلے کی گواہ ہیں۔ ایک روز بیگم نون کا خط آیا پھر ان کا ایک بندہ آیا ’’بیگم صاحبہ ملنا چاہتی ہیں‘‘ وہ خوش تھیں ’’نور جہاں کی روح خوش ہوگئی جو تعمیر میں نہیں رکوا سکی تھی سردار اقبال نے نہ صرف رکوا دی بلکہ گرا بھی دی‘‘ وہ پارٹی کون تھی؟ کتنی بااثر تھی؟ اس کو چھوڑیں اس کا کتنے کروڑوں کا نقصان ہوگیا تھا؟ اس کا خیال کریں اور اس آلودگی میں اس فیصلے سے اندازہ کریں کہ یہاں کچھ ایسے اہل عدل بھی تو ہوتے تھے۔ ایک بار ایسے بھی ہوا تھا کہ نوائے وقت میں ایک کالم پر چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے توہین عدالت کے کیس کی سماعت کے لئے ہمارے خلاف سات رکنی بنچ قائم کیا تھا جس میں ان کے علاوہ مولوی مشتاق صاحب‘ قادری صاحب اور ظلہ صاحب بھی شامل تھے اس کیس کا کیا بنا تھا؟ وہ الگ موضوع ہے مقصد یہ بتانا ہے کہ ذاتی طور پر مجھ پر اس غصہ ناراضگی کے باوجود انہوں نے اتنی بڑی اتنی بااثر پارٹی کا وہ کروڑوں اربوں کا نقصان کر کے اور اپنے قدر دان باوردی حکمران کی ناراضگی کے اپنے ذاتی نقصان کے باوجود عدل اصول اور ضابطہ کا پلڑا جھکنے نہیں دیا تھا۔ تو پھر ایسے بھی تو اہل عدل ہم میں سے ہی تھے جن کے فیصلے یونیسکو والوں کے لئے بھی راہنما بنے ہوئے ہیں۔ اے این پی کے ایک مرکزی قسم کے رہنما ایک مذاکرے میں فرما رہے تھے کہ ’’ جج صاحبان کو بے روزگار ہو جانے کا بھی تو ڈر ہے؟ کوئی مسلمان اتنے باہوش منصب پر فائز ہو اور وہ اللہ کے علاوہ کسی اور سے بھی ڈرے؟ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ ایک روز اس نے اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے؟ وہی نہیں جو بھی کوئی جہاں بھی کہیں ہے سب نے ہی اللہ کے حضور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے اور آلودگی بہت بڑھتی جا رہی ہے اتنی کہ انسانیت کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے!!