نواز شریف ’’ہارڈ لائنرز‘‘ کے’’نرغے‘‘ میں

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف ’’ہارڈ لائنرز‘‘ کے’’نرغے‘‘ میں

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ’’نا اہلی‘‘ کے بعد پہلی بار مسلم لیگی وکلاء کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ہے انہوں نے ووٹ کے تقدس اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی قائم کر دی ہے جو باقاعدہ طور پر ’’قومی ڈائیلاگ‘‘ کرے گی یہ کمیٹی سیاست دانوں، وکلائ، تاجروں، اساتذہ سمیت تمام طبقات سے ’’مقالمہ‘‘ کرے گی یہ تحریک قیام پاکستان جیسی تحریک ہو گی جس میں ہر پاکستانی اپنا حصہ ڈالے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ ’میں اپنی بحالی کی نہیں حق حکمرانی کی جنگ لڑ رہا ہوں،70سالوں میں کسی جمہوری وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی’’طاقت اور عدالت‘‘ کے گٹھ جوڑ نے ملک کو آمروں کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ آمروں کو حکمرانی اور آئین کا حلیہ بگاڑنے کی بھی اجازت دیتی رہی ہے وزرائے اعظم جیلوں میںگئے جلاوطن ہوئے اور پھانسی کے تختے پر چڑھے لیکن کسی آمر کو سزا نہیں ہوئی ہمیں وہ سوراخ بند کرنا ہوں گے جہاں سے جمہوری حکومتوں کو ڈسا جاتا ہے اور عوام کے مینڈیٹ کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے۔ میاں نواز شریف نے وکلاء کی’’بیٹھک‘‘میں بڑی خوبصورت اور پر اثر تقریر کی ہے میں اس تقریر کو لکھنے والی عالم فاضل شخصیت کو بھی جانتا ہوں جن کے سامنے الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں اشاروں کنایوں میں اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کا سلیقہ کوئی ان سے سیکھے لیکن ان کے الفاظ کی کاٹ وہی جانتا ہے جس طرف ان کا اشارہ ہے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف بھی ایسی لکھی ہوئی تقریر پسند کرتے ہیں جو ان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہو۔ میاں نوازشریف ایک دکھی سیاست دان ہیں انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 62،63کا سہارا لے کر اقتدار سے نکا لا گیا، مارشل لاء لگا اور نہ ہی شب خون مارنے کی ضرورت پیش آئی، انہیں ایک عدالتی فیصلے سے اقتدار چھوڑنا پڑا عدالتی فیصلے کے بعد میاں نواز شریف نے اشارتاً کہا ہے کہ ’’میں نے جس طرح 4 سال اقتدار میں گزارے ہیں میں ہی جانتا ہوں‘‘ میاں نواز شریف اپنے اقتدار سے نکالے جانے کی اصل وجوہات بتانے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی وہ قوتیں اپنی’’خاموشی‘‘ توڑ رہی ہیں جن کے بارے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف کو اقتدار سے نکالے جانے کا موجب بنی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر دو مائنڈ سیٹ پائے جاتے ہیں ایک’’مائنڈ سیٹ‘‘سمجھتا ہے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بھی نواز شریف کا کچھ نہیں بگڑا وفاق اور دو صوبوں میں ان کی حکومت ہے 2018ء کے انتخابات تک ان حکومتوں کو بچا کررکھیں، نیب کیسز کو طوالت دے کر ’’فوری انصاف‘‘کی بھینٹ چڑھنے سے بچیں ہر صورت میں تصادم کی راہ نہ اپنائی جائے اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ کسی ’’ادارے‘‘ نے مسلم لیگ (ن) میں توڑ پھوڑ شروع نہیں کیا کسی حکومتی رکن کو مسلم لیگ(ن) چھوڑنے کی ترٖغیب نہیں دی گئی اس بات کا اندازہ لگا جا سکتا ہے کہ بات صرف نواز شریف کو نکالے جانے تک محدود تھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت ختم نہیں کی جا رہی لیکن دوسرا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ اس تباہی و بربادی کا ذمہ دار اس ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کو قرار دے رہا ہے جو پچھلے 4سال سے ’’مفاہمت‘‘ کے گیت گا رہا ہے تصادم سے روکنے کی کوشش کرتا چلا آرہا ہے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ایک صلح جو لیڈر ہیں جو تیسری بار حکومت ملنے پر کچھ کر گذرنے کا عزم رکھتے تھے انہوں نے ملک کو امن وآشتی کا گہوارہ بنانے کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی عملاً قیادت کی جمہوری حکومت اتنی بڑی جنگ کے لئے وسائل فراہم نہ کرتی تو اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنا ایک خواب نظر آرہا تھا جسے نواز شریف نے حقیقت کا روپ بخشا انہوں نے دھرنا دینے والے ’’آلہ کاروں‘‘ کے خلاف کامیاب جنگ لڑی لیکن عدالتی محاذ پر انہیں’’شکست‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے وہ بار بار اس بارے میں استفسار کرتے نظر آئے ہیں کہ’’بتایا جائے کہ ان کوکیوں نکالا گیا ہے ؟‘‘ ممکن ہے اس تھیوری میں بڑی حد تک صداقت ہو جو قوتیں پاک بھارت تعلقات کو اپنے زاویے سے دیکھتی ہیں،اٖفغان جنگ میں پاکستان کے کردار اور پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ان کی سوچ میاں نواز شریف کے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتی، وہ ان کے ’’گھر‘‘جانے کا باعث بن گئی ہوں۔ مسلم لیگ (ن) میں ’’صلح جو‘‘ عناصرآہستہ آہستہ غیر متعلق ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کل تک میاں نواز شریف جن کی مشاورت کے بغیر اپنا کوئی سیاسی قدم نہیں اٹھاتے تھے آج وہ ان سے دور کھڑے دکھائی دیتے ہیں ان کو ’’مشاورتی‘‘ عمل سے نکال دیا گیا ہے جو لوگ کل تک میاںنواز شریف’’کان اور آنکھیں‘‘ تصور کی جاتے تھے آج میاں صاحب کو بوجوہ ان کے مشوروں میں کوئی کشش نظر نہیں آتی میں حیران و پریشان ہوں پچھلے دوتین ہفتے ’’جاتی امرا‘‘ میں ہونے والے فیصلوں میں وہ شخصیت نظر نہیںآرہی جس کے بغیر میاں نوازشریف کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے تھے آج وہ ان سے دور بیٹھی ہے۔ ممکن ہے نوازشریف کا اس سے ٹیلیفون پر رابطہ ہو لیکن بظاہر اس شخصیت کا میاں نوازشریف سے قریبی رابطہ نہیں رہا نواز شریف ’’جاتی امراٗ‘‘ میں ان عناصر کے’’نرغے‘‘ میں ہیں جو ہر وقت انہیں اس بات کا احساس دلاتے رہتے ہیں ’’آپ کے ساتھ زیاتی ہوئی ہے۔ آپ انقلابی رہنماء ہیں باہر نکلیں آپ پاکستان کے ارد گان ہیں‘‘۔ انہیں کوئی یہ بات باور کرانے والا نہیں وہ پاکستان کے ’’اردگان ہیں اور نہ ہی انقلابی شخصیت بلکہ وہ ایک ’’ریفارمر‘‘ ہیں جو پاکستان کو ایک فلاحی مملکت بنانا چاہتا ہے وہ ملک کے 21 کروڑ لوگوں کے دلوں پر حکومت کر تا ہے جس کے لئے لاکھوں لو گ اپنے گھروں میں بیٹھے دعائیں کرتے ہیں جب وہ ان کو ووٹ دینے کی’’کال‘‘ دیتا ہیں تووہ اس کے بکس ووٹوں سے بھر دیتے ہیں لیکن اس کے چاہنے والے ’’احتجاجی سیاست‘‘ کے حامی نہیں مگروہ اپنے قائد کے حکم پر ’’کھمبوں‘‘ کو بھی ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھجوا دیتے ہیں اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں میاں نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں ان کے پایہ کا کوئی لیڈر نہیں بے شک عمران خان ملک میں بڑے بڑے جلسے منعقد کررہے ہیں لیکن آج بھی میاں نواز شریف سے بہت پیچھے ہیں آصف علی زرداری احتساب عدالت سے آخری مقدمہ بری ہونے کے باجود ان کو ’’گنگا جمنا‘‘ نہایا ہوا نہیں سمجھتے جب کہ پاکستان کی بہت بڑی اکثریت نواز شریف کو ’’نا اہل‘‘ قرار دئیے جانے باوجود بے گناہ تصور کرتی ہے۔ میاں نواز شریف نے ابھی تک ’’ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ممکن ہے وہ آئندہ چند دنوں میں اس کا اعلان بھی کر دیں گے لیکن اس کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) میں سینئر قیادت کو شامل کیا جائے جن کی لوگ بات سننے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اسی طرح ان لوگوں کو قریب تر لانے کی ضرورت ہے جن کو شعوری طور پر ان سے دور کیا جا رہا ہے ’’سیاسی بونے‘‘ انہیں دور کر کے اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر 2017ء میں نواز شریف اس ’’کچن کیبنٹ‘‘ کی مشاورت سے محروم ہو گئے جس کی ’’مشاورت‘‘ سے وہ تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے ہیں لیکن اب تو ایسا دکھائی دیتا ہے ’’کچن کیبنٹ‘‘ ختم ہو گئی ہے یا پھر اس کی تشکیل نو کر دی گئی ہے اس میں کچھ نئے لوگوں نے جگہ لے لی ہے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے میاں نواز شریف جی ٹی روڈ پر اپنی سیاسی قوت کی دھا ک بٹھانے کے بعد ’’جاتی امراٗ‘‘ میں بیٹھ گئے ہیں انہیں اپنے آپ کو ’’جاتی امرا‘‘ سے باہر نکال کر شہر شہر کوچہ کوچہ کا دورہ کر کے پارٹی متحرک کرنا چاہیے ان کا کارکنوں سے گروپوں کی صورت میں ملنا چاہیے جو ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترستے رہتے ہیں مسلم لیگ (ن) کا بنیادی کیڈر مضبوط بنائیں اور پارٹی کی تنظیم نو کریں ملک کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کا سرے سے کوئی سیکرٹری جنرل ہی نہیں متعدد عہدے خالی پڑے ہیں عدالتی فیصلے کے بعد میاںنواز شریف کو صدارت چھوڑنا پڑی ہے 7ستمبر2017ء سر پر کھڑا ہے کسی کو معلوم نہیں میاں نواز شریف کا سیاسی جانشین کون ہو گا ؟ میاں نواز شریف اپنا زیادہ وقت ’’جاتی امرا ئ‘‘ میں گذارنے کی بجائے ان مسلم لیگی رہنمائوں کے پاس جائیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ’’ناراض‘‘ ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں یا مخالف کیمپ میں چلے گئے ہیں ان سب کو واپس لانے کی کوشش کریں۔ جو ہونا تھا سو ہوگیا اس کا رونا رونے کی بجائے اس کو غیر موثر بنانے کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے نواز شریف کی واپسی کے راستے خود بخودکھل جائیں گے کوئی ان کا چوتھی بار اقتدار میں آنے کا راستہ نہیں روک سکے گا۔ 2018ء کے انتخابات کی تیاری ابھی سے کر لی جائے ہوم ورک مکمل کر لیا جائے تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ میاں نواز شریف کو تصادم کی راہ پر لے کر چلنے والے ان کے دوست نہیں ہو سکتے لہٰذا میاں نواز شریف کو تصادم سے بچ کر اپنی منزل مقصود حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔