نواز شریف، آصف علی زرداری اور ’’کپتان‘‘ کے درمیان ’’کھلی جنگ‘‘

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف، آصف علی زرداری اور ’’کپتان‘‘ کے درمیان ’’کھلی جنگ‘‘

پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا دورا ہو جس میں حکومت اور اپوزیشن باہم’’ شیر و شکر‘‘ ہوئے ہوں ملک میں غیر جمہوری حکومت مسلط ہو جائے یا مارشلائی نظام نے جگہ لے لی ہوتو پھر اس کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جاتی ہیں اور جمہوریت کی بحالی کے لئے ساتھ چلنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں لیکن جب جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے اسے اپوزیشن کمزور کرنے کا ایڑی چوٹ کا زور لگا دیتی ہے ۔جب پرویز مشرف کی مارشلائی حکومت میں میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے پاکستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی اور انہیں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا تو دونوں کے درمیان کئی ملاقاتوں کے بعد 2006ء میں لندن میں ’’میثاق جمہوریت‘‘ ہوا لیکن اس معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہو پائی تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ’’این آر او‘‘ کر کے پاکستان واپس آنے کی راہ ہموار کر لی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سے ’’سیاسی بے اصولی اور میثاق جمہوریت ‘‘کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس کے احتجاج کو در خور اعتنا نہ سمجھا کیونکہ وہ اس وقت جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ’’اقتدار میں شراکت کا سودا‘‘ کر چکی تھی لیکن جب محترمہ بے نظیر بھٹو جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے انتخابات سے قبل پاکستان واپس آگئیں تو انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت عملاً آصف علی زرداری کے پاس آگئی ۔2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ’’رومانس‘‘ کا آغاز ہوا 2008کے انتخابات کے نتائج نے ایک وقت دونوں کو اس حد تک قریب کر دیا کہ مسلم لیگ (ن) ،جنرل پرویز مشرف سے حلف لینے پر آمادہ ہو گئی پھر جنرل پرویز مشرف سے جان چھڑانے کے دونوں رہنمائوں کے درمیان ’’عہدو پیمان‘‘ ہوئے جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے نکلوانے کے بعد آصف علی زرداری زرداری ہائوس میں میاں نواز شریف سے کئے گئے معاہدے سے مکر گئے دونوں کے درمیان کم و بیش پانچ سال لڑائی میں ہی گذرے میاں نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے لئے ’’لانگ مارچ‘‘ کی قیادت کی اور میمو گیٹ میں کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود جب میاں نواز شریف 2013ء کے انتخابات کے بعد مسند وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے تو انہوں نے آصف علی زرداری کو اسی طرح عزت و توقیر سے ایوان صدر سے رخصت کیا جس طرح آصف علی زرداری نے گارڈ آف آنر سے جنرل پرویز مشرف کو گھر بھجوایا ۔ جب 14اگست2014ء کو ’’کپتان‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری کی مدد سے پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوا تو یہ آصف علی زرداری ہی تھے جنہوں نے بظاہر جمہوریت کو بچانے کے لئے میاں نواز شریف کا ساتھ دیا لیکن اصل میں ساتھ دینے کی وجہ عمران خان کا پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک پر ’’ڈاکہ ‘‘ڈالنا تھا لیکن جب آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کے اپنی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر ’’اینٹ سے اینٹ ‘‘ بجانے کی دھمکی دی تو میاں نواز شریف نے نہ صرف آصف علی زرداری کے اعزاز میں دیا جانے والا کھانا منسوخ کر دیا بلکہ ان سے ملنے سے ملاقات سے معذرت کر لی آصف علی زرداری تعزیت کے لئے جاتی امرا آنا چاہتے تھے لیکن انہیں نہ آنے کا پیغام دے دیا۔ میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے لئے آصف علی زرداری سے اس حد تک دور ہو گئے کہ آصف علی زرداری کو ڈیڑھ دوسال تک ’’خود ساختہ ‘‘ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی پاکستان واپس آنے کے لئے انہیں کسی کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا پڑا جب سے وہ پاکستان واپس آئے ہیں ’’ اسٹیبلشمنٹ اور نادیدہ قوتوں ‘‘ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر کام کرنے کے لئے تیار کھڑے ہیں وہ ’’نواز دشمنی‘‘ میں بہت آگے نکل گئے ہیں آصف علی زرداری کو ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی کی گرفتاری کا بھی بڑا صدمہ ہے اگرچہ پیپلز پارٹی والے اس کی ذمہ داری چوہدری نثار علی خان پر ڈالتے ہیں لیکن وہ ان قوتوں کا نام نہیں لیتے جنہوں نے ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی پر ہاتھ ڈالا ہے جب کہ چوہدری نثار علی خان نے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر متعلقہ ادارے کے سربراہ سے اظہار ناراضی کیا تھا ایان علی کا تو سارا معاملہ ہی وفاقی وزارت خزانہ سے متعلق تھا البتہ وفاقی وزارت خزانہ کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ نے ایان علی کا نام ای سی ایل پر ڈالا تھا جہاں تک مجھے علم ہے میاں نواز شریف اپنے دور اقتدار میں بڑی حد تک پیپلز پارٹی پر ’’مہربان‘‘ رہے چوہدری نثار علی خان کا وزارت داخلہ چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے چوہدری نثار علی خان ایف آئی اے کو پیپلز پارٹی کے بد عنوانی میں ملوث رہنمائوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے تو وزیر اعظم آفس سے کارروائی روک دینے کا فون آجاتا تھا۔ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں چوہدری نثار علی خان پیپلز پارٹی کے ’’ازلی دشمن‘‘ ہیں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ان کے پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار ہو گئے لیکن پیپلز پارٹی کے بدعنوانی کے دور میں ان کے ایسے تعلقات بگڑے کہ پھر سنور نہ پائے حتیٰ کہ پچھلے چار پانچ سال میں شاید ہی ان کی پیپلز پارٹی کے کسی لیڈر سے ملاقات ہوئی ہو بلکہ پچھلے چار پانچ سال کے دوران پیپلز پارٹی کا ہدف چوہدری نثار علی خان ہی رہے ہیں اب تو شاید آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے میاں نواز شریف کے خلاف یک طرفہ محاذ کھول رکھا ہے ممکن ہے میاں نواز شریف نے مشترکہ دوستوں کی وساطت سے آصف علی زرداری سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہو لیکن جس تواتر سے آصف علی زرداری میاں نواز شریف سے نہ ملنے کے اعلانات کر رہے ہیں وہ ایک ’’سیاسی مذاق‘‘ بن کر رہ گیا ہے میاں نواز شریف بھی کہنے پر مجبور ہو گئے ’’ معلوم نہیں آصف علی زرداری کس کوخوش کرنے کے لئے مجھ سے ملاقات نہ کرنے کے اعلا نات کر رہے ہیں‘‘ جب بات کچھ بڑھی تو وزیر خارجہ خواجہ آصف جو پیپلز پارٹی کی اندر کی باتیں جانتے ہیں اور انہیں آصف علی زرداری پر بڑا مان بھی ہے نے ایک ٹویٹ کر کے آصف علی زرداری کو خاموش کرا دیا ہے انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں آصف علی زردای کو ٹوئیٹر کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے ’’ آصف علی زرداری صاحب ! اپنے آپ پر کنٹرول کریں بصورت دیگر ہمیں کچھ کہنا پڑے گا وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں ہماری زبان نہ کھلوائیں ‘‘ تادم تحریر آصف علی زرداری کو گویا ’’چپ ‘‘ ہی لگ گئی ہے ہماری 70سالہ سیاسی تاریخ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’’جنگ و جدل‘‘ اور فوجی حکومتوں سے بھری پڑی ہے لیکن سیاسی قبیلہ میں ایک خرابی پائی جاتی ہے جب ایک سیاست دان مصیبت میں پھنس جاتا ہے تو دوسرا اسے نکالنے کی بجائے اسے مزید دھکا دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ باہر نکل کر جانبر نہ ہو سکے کجا اس کے بعد کوئی اور دھکا دے کر اسی کنویں میں ڈال دے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جن کے تعلقات نے ’’دشمنی‘‘ کی صورت پیدا کر لی ہے ایک طرف پارلیمنٹ میں دونوں جماعتیں نواز شریف دشمنی میں باہم شیر و شکر نظر آتی ہیں لیکن دوسری طرف عمران خان سید خورشید شاہ سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب ہتھیانے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن اب اسے بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دیا ہے ’’کپتان‘‘ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے’’ دو مکھی‘‘ لڑائی لڑرہے ہیں آصف علی زرداری بھی کبھی کبھار ان کی شان میں’’ قصیدہ خوانی ‘‘کرتے رہتے ہیں یہ الگ بات ہے میاں نواز شریف عمران خان کا نام بھی اپنی زبان پر نہیں لاتے بلکہ انہوں نے ایک بار یہاں تک کہا کہ ’’وہ تو سیاست سے نابلد ہیں آصف علی زرداری کی تمام تر ناراضی کے باوجود ان سے بات ہو سکتی ہے‘‘ انہوں نے تحریک انصاف کو ایک فاشسٹ جماعت کا طعنہ دیا ہے تحریک انصاف کے لئے ملکی سیاست میں پیپلز پارٹی کے بد عنوانی کے دور میں گنجائش پیدا ہوئی ہے دراصل تحریک انصاف ہی پیپلز پارٹی کی اصل دشمن ہے جس نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صفایا کر دیا ہے آج آصف علی زرداری میاں نواز شریف سے بار بار ملاقات نہ کرنے کے اعلانات کر کے اسٹیبلشمنٹ کی قربت حاصل کرنا چاہتے ہیں آصف علی زرداری کی ’’بے بسی‘‘ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے وہ ہر وہ کام کرنے کے لئے تیار ہیں جس سے اسٹیبلشمنٹ ان کے ’’ سیاسی جرائم‘‘ معاف کرنے کے لئے تیار ہو جائے سب کو اس بات کی سمجھ ہے آصف علی زرداری مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں کی از سر نو حد بندی کی آئینی ترمیم کی منظوری کی راہ میں کیوں حائل ہیں ؟ وہ ایک ایسا سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں جو نہ صرف عام انتخابات کے التوا کا باعث بن سکتا ہے بلکہ حکومت کے لئے ’’ایمرجنسی ‘‘ لگا کر ایک سال کی مدت بڑھانے کا جواز بھی فراہم کر سکتا ہے وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن نے تو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ’’اگر آئینی ترمیم منظور نہ ہو ئی تو ایمرجنسی لگا کر ایک سال کے لئے قومی اسمبلی کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوعیت کی محاذ آرائی میں تاحال سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نا اہلی کے باوجود ان کی نامزد کردہ حکومت اپنے قدموں پر پوری قوت سے کھڑی ہے اور اپوزیشن کے ہر حملہ کو ناکام بنا رہی ہے۔ میاں نواز شریف نے ’ قومی اسمبلی میں ’جاتی امرا‘‘ میں بیٹھ کر اسلام آباد کے ایوانوں میں ان تمام عناصر کو شکست دے دی ہے جو ان سے اب پارٹی کی صدارت بھی چھین لینا چاہتے ہیں انتخابی اصلاحات کے قانون میں اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ’’نا اہل قرار دئیے گئے شخص کو پارٹی قیادت سے ہٹانے ‘‘کی ترمیم کو ایوان زیریں میں بھاری اکثریت سے مسترد کروا کر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پوری پارلیمانی پارٹی میاں نواز شریف کی پشت پر کھڑی ہے ۔