حافظ سعید کیلئے کلمہ خیر اور ایک انمول تقریب

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
حافظ سعید کیلئے کلمہ خیر اور ایک انمول تقریب

بھارت پاکستان کے ایک آدمی سے بہت ڈرتا ہے اور بھارت کی حمایت میں امریکہ بھی حافظ سعید سے ڈرتا ہے۔ پاکستان میں ایک آدمی آج کل گرفتار ہوتا ہے اور وہ حافظ سعید ہیں۔ امریکہ بھی حافظ صاحب کی رہائی پر پریشان ہے۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے مگر وہ اتنا کمزور بھی ہے کہ ایک آدمی سے گھبراتا ہے۔
بلکہ جس طرح امریکہ نے ان کی رہائی پر اپنا ردعمل دیا ہے جو میرے خیال میں ردی عمل ہے۔ آخر حافظ صاحب کتنی بڑی طاقت ہیں کہ امریکہ اس بات سے بھی پریشان ہے کہ حافظ صاحب پاکستان میں رہا ہوئے ہیں۔ اور خوف میں سات سمندر پار امریکہ کی پالیسی کیا ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے کہ بے نظیر بھٹو نے بڑی مشکلات کا پاکستان میں مقابلہ کیا تھا۔ یہ مثال اتنی برمحل نہیں ہے مگر میرے پاس کوئی اور ایسی شخصیت نہیں۔
جبیب جالب نے اس صورتحال کا نقشہ خوب کھینچا ہے۔
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
ہمیشہ مجید نظامی حافظ سعید کو ملنے کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ خاص طور پر کشمیر کی آزادی کے حوالے سے حافظ صاحب کی خدمات اور کارروائیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی رہائی کی خبر سن کر میں خوش ہوا۔ میں ان سے ایک تعلق رکھتا ہوں۔ اور ان کی حکمت عملی مجھے بہت پسند ہے۔
آج ہی امریکہ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حافظ سعید کو فوراً گرفتار کرو۔ ابھی تو ان کو رہائی ملی ہے
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
حافظ صاحب بہت سادہ آدمی ہیں۔ وہ اب بھی پورے پروفیسر ہیں مگر ان کے دل میں کیا آئی کہ وہ کشمیر کے لیے سینہ سپر ہو گئے اور بھارت کے لیے ایک قوت بن کر چھا گئے۔
اب بھارت اور امریکہ دونوں ان سے ڈرتے ہیں۔ نجانے پاکستان کی انتظامیہ ان سے کیوں ڈرتی ہے۔ آج کل کوئی اور اہم شخص گرفتار نہیں ہوا۔ مگر وہ حافظ صاحب کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ البتہ یٰسین ملک قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں ان کی اہلیہ مشال ملک میدان میں ہیں۔
میں حافظ صاحب کے لیے مبارکباد کا لفظ کیا استعمال کروں؟ مبارکباد ہمارے لیے کہ ہم ان کی گفتگو سنیں گے۔ ان کی گرفتاری کا نقصان ہوا کہ مجھے امیر حمزہ سے ملے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تک یحیٰی مجاہد اور علی عمران شاہین سے بھی رابطہ نہیں ہوا۔ میں انشااللہ حافظ صاحب سے ملنے جائوں گا تو وہاں دوستوں سے ملاقات بھی ہو گی۔
جمعہ کی رات لاہور پر خوب طاری ہوئی۔ تقریب کے مہمان عامر شہزاد صدیقی تھے۔ جن کی کتاب اوراق زیست کے لیے دوست خواتین و حضرات اس اکیلی شام کی خاموشیوں میں ڈاکٹر صغرا صدف کے پیلاک پنجابی کمپلیکس میں ہوئی۔
عامر شہزاد صدیقی ملتان سے تشریف لائے تھے۔ ملتان سے ہی ایک اچھی شاعرہ اور دانشور یاسمین خاکوانی تشریف لائیں۔ سٹیج پر ملتان کے زیادہ لوگ تھے اور ہال میں بھی ان کی تعداد کم نہ تھی۔ حاضرین خواتین و حضرات کم تھے مگر عامر شہزاد نے کہا کہ میرے لیے یہ بھی بہت ہیں۔ ساری تقریب میں کوئی بھی اٹھ کے نہ گیا۔ تقریب بہت بھرپور رہی۔
تقریب کی میزبان بہت اچھی شاعرہ اور بہت مستعد خاتون انمول گوہر تھیں۔ اس ماحول میں اور اتنی کالی رات کا ہمسفر ہو کر اتنی خوبصورت اور دلچسپ تقریر کر ڈالی۔ انمول اپنے نام کے سارے معانی جانتی ہیں۔ رہی سہی کسر برادرم خواجہ عاصم نے پوری کر دی۔ انہوں نے محفل کو جگائے رکھا اور لاکھوں کے دلوں میں مسکراہٹ کو قائم رکھا۔ وہ دھمیے انداز میں ہنسنے ہنسانے کی بات بھی کرتے رہے۔ ان کی کمپیئرنگ کچھ لمبی ہو گئی۔ لوگوں کی مرضی ہوتی کہ مقرر جائے اور خواجہ صاحب آئیں تو کوئی بات بنے اور خواجہ صاحب نے بات خوب بنائی۔
میرے ساتھ سٹیج پر یاسمین خاکوانی بھی موجود تھیں۔ وہ ملتان سے سرائیکی زندگی کے کئی منظر اٹھا لائی تھیں۔ ان کی سرائیکی غزل نے بڑا مزا دیا۔ انمول گوہر کا شعری مجموعہ بھی ان کے ہاتھ میں تھا جو انہوں نے میرے ہاتھوں میں دے دیا۔ کتاب کے نام پر غور کریں۔ ’’ہم نے لفظوں میں زندگی رکھ دی‘‘ میں نے ان کی کتاب میںایک زندگی دیکھی جس میں لفظ روشنی کی طرح تھے۔
آئینے کے ہیں روبرو دونوں
ایک جیسے ہیں ہو بہو دونوں
ایک دوجے کے دل میں دھڑکیں گے
کر رہے ہیں یہ گفتگو دونوں
کون ایسا حصار توڑے گا
جب ہوں دونوں کے چار سو دونوں
آج کر لو جو بات کرنی ہے
آج بیٹھے ہیں روبرو دونوں
مقررین نے عامر شہزاد کے لیے بہت اچھی گفتگو کی۔ تقریب میں ملتان اور لاہور سے خواتین و حضرات شامل تھے۔ عامر صاحب نثر کے آدمی ہیں ان کے کالموں پر مشتمل کتاب ایک ادبی کتاب بھی ہے کہ اب کالم کو باقاعدہ صنعت سخن تسلیم کر لیا جائے گا۔ کچھ کالم کے نیچے بشکریہ نوائے وقت لکھا ہوا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔ شاعروں کے ہجوم اور مشاعروں کے غبار میں اعلیٰ نثر کی ایک کتاب لانا اچھی بات ہے۔ اب تو زیادہ تر کتابیں کالموں کے حوالے سے آ رہی ہیں۔
پیلاک کی ڈائریکٹر جنرل صغرا صدف بھی تھوڑی دیر کے لیے تشریف لائیں۔ انہیں سٹیج پر بلایا گیا تو وہ باقاعدہ ڈائس پر آ کے کھڑی ہو گئیں۔ تقریر کی اور چلی گئیں۔ اب وہ بہت اچھی تقریر کر لیتی ہیں۔ ہمیشہ پنجابی میں بولتی ہیں۔ کئی لوگوں کو شک پڑ گیا ہے کہ کہیں انہیں اردو بھول تو نہیں گئی۔ پانچ سال سے کبھی ان کے منہ سے اردو نہیں سنی۔ وہ کسی طرح بھی لسانی تعصب میں مبتلا نہیں ہیں مگر وہ پنجاب کمپلیکس کی ڈی جی ہیں۔ پیلاک کی بلڈنگ میں پنجابی سنگت کا اجلاس بھی ہوتا ہے جو آسیہ اکبر ایڈووکیٹ چلاتی ہیں۔
٭٭٭٭٭