فیض آباد آپریشن

کالم نگار  |  جاوید صدیق
فیض آباد آپریشن

دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں امن و امان کے حوالے سے کئی آپریشن ہوئے۔ 1977ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا گیا تو فوج نے جو آپریشن کیا تھا اس کا نام آپریشن ’’فیئر پلے‘‘ Fair Play رکھاگیا تھا۔ پانچ جولائی 1977ء کو آپریشن فیئر پلے کو عملی جامہ پہنانے والے دسویں کور کے اس وقت کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی نے راقم کو 1981ء میں ایک Exclvsive انٹرویو دیتے ہوئے اس آپریشن کی تفصیلات بتائی تھیں۔ لیفٹننٹ جنرل چشتی نے بتایا کہ چار جولائی کی رات کو جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پی این اے کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہے‘ (مذاکرات میں شامل پی پی پی اور پی این اے کے لیڈروں نے بعد میں اپنی کتابوں اور انٹرویوز میں دعوے کئے ہیں کہ چار جولائی 1977ء کی رات گئے ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے کہ فوج نے مارشل لاء لگا دیا) تو جنرل ضیاء الحق نے کور کمانڈروں کا اجلاس بلایا اور کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اس لئے مارشل لاء لگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی نے بتایا کہ مجھے آپریشن فیئر پلے پر بھی عملدرآمد کا ٹاسک دیا گیا۔ جنرل چشتی کے مطابق آپریشن فیئر پلے‘ صرف اتنا تھا کہ جب مارچ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے بھٹو حکومت کے خلاف انتخابی دھاندلی پراحتجاجی تحریک شروع کی اور پیر مردان شاہ پگارا نے اعلان کیا کہ وہ ایک لانگ مارچ کریں گے اور راولپنڈی میں وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کریں گے تو مسٹر بھٹو نے وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی فوج کے حوالے کر دی تھی۔ اس وقت سیکیورٹی پر مامور فوج کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ کسی بھی شخص کو بغیر اجازت وزیراعظم ہاؤس میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ جب پانچ جولائی کو مارشل لاء لگانے کا فیصلہ ہوا تو وزیراعظم ہاؤس پر سکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے فوجی دستے کو ہدایت دی گئی کہ کسی کو بھی وزیراعظم ہاؤس سے بلااجازت باہر نہ جانے دیا جائے۔ آپریشن فیئر پلے صرف اتنا تھا۔ مسٹر بھٹو اور ان کے وزراء اور پی این اے کی قیادت کو حفاظتی حراست میں لے کر مری پہنچا دیا گیا ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔
جولائی 1980ء میں جب تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے جنرل ضیاء الحق کی طرف سے زکوۃٰ اور عشر آرڈریننس جاری کئے جانے کے بعد احتجاج کیا تو تحریک کے کارکنوں نے اسلام آباد سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا دے کر سیکرٹریٹ کو مفلوج کر دیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق حکومت نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ساتھ دھرنا ختم کرانے کے لئے مذاکرات کئے اور ان کا مطالبہ منظور کر لیا۔ بنکوں کے ذریعہ زکوۃٰ کی لازمی کٹوتی کو ایک ڈیکلریشن کے ساتھ مشروط کردیا گیا۔ اس طرح ٹی این ایف جے کا یہ دھرنا پرامن طورپر ختم کر دیا گیا۔ محمد خان جونیجو کی حکومت میں شریعت محاذ نے پارلمینٹ ہاؤس کے سامنے کئی احتجاجی مظاہرے کئے۔ ان مظاہروں میں محمد خان جونیجو حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ وہ ملک میں شریعت نافذ کرے۔ شریعت محاذ کو اس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کی حمایت حاصل تھی۔ یہ احتجاج بھی کسی تشدد کے بغیر ختم ہو گیا۔ 1992ء کے آخر میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں بننے والے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایف پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نے نوازشریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو مسلم لیگ ن کی حکومت نے اسلام آباد کو سیل کر دیا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے زرداری ہاؤس سے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور وہ ساری رکاوٹوں کو توڑ کر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے پہنچ گئیں لیکن نوازشریف حکومت نے انہیں پنجاب بدر کر دیا۔ یہ احتجاج آخر کار 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان اور نوازشریف کے استعفوں پرختم ہوا۔ فوج نے ملک میں 1993ء میں نئے انتخابات کرائے۔ زرداری حکومت کے دوران علامہ طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ ایک دھرنا دیا تھا۔ جو حکومت نے کامیابی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ختم کرا دیا۔ 2013ء میں بننے والی نوازشریف حکومت کو 2014ء کے موسم گرما میں عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے مشترکہ دھرنے کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے اس دھرنے کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش قراردیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے خود اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو یہ دھرنا ختم کرانے کے لئے کردارادا کرنے کی درخواست کی۔ جنرل راحیل شریف کی کوششوں کے باوجود ھرنا ختم نہ ہوا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ کے بعد تحریک انصاف نے اپنے طورپر یہ دھرنا ختم کردیا۔
موجودہ حکومت نے بلا ضروت اور بلاجواز ایک ایسی صورت حال پیدا کردی کہ تحریک لبیک یا رسول اﷲ والوں نے فیض آباد میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔ تین ہفتے تک جاری رہنے والے اس دھرنے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کی زندگی ایک طرح سے مفلوج کردی۔ فیض آباد انٹرچینج اور پل دارالحکومت اور راولپنڈی کو آپس میں ملاتا ہے۔ دونوں شہروں کو ملانے والی بڑی شاہراہ فیض آباد سے گزرتی ہے۔ فیض آباد سے ہی اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی بڑی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے سے ملاتی ہے۔ تحریک لبیک والوں نے اپنے احتجاج کے لئے فیض آباد کو منتخب کر کے دونوں شہروں کے درمیان نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ سرکاری ملازمین‘ طلبہ کی نقل وحرکت میں خلل پڑ گیا۔ تجارتی سرگرمیاں بھی بھی معطل ہو گئیں۔ حکومت نے دھرنا دینے والوں کے اس مطالبہ پر دھیان نہ دیا کہ وزیر قانون زاہد حامد استعفیٰ دیں کیوں کہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ کی عبادت میں ترمیم کی ذمہ داری ان کی وزارت پر ہے۔ مذاکرات بھی ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ا یک درخواست پر حکومت کو حکم دیا کہ وہ فیض آباد دھرنا ختم کرائے‘ سپریم کورٹ نے بھی اس دھرنے کا نوٹس لیا۔ حکومت نے ہفتہ کی صبح جو آپریشن کیا‘ لگتا ہے کہ بغیر کسی منصوبہ بندی اور زیادہ غور فکر کے بغیر کیا گیا۔ نیم دلانہ اور بغیر کسی حکمت عملی کے کئے گئے ا س آپریشن نے پورے ملک کو احتجاج میں دھکیل دیا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ وہ یہ آپریشن نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہے تھے لیکن ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے انہیں آپریشن کرنا پڑا۔ بغیر کسی جامع اور موثر تیاری کے ہونے والے اس آپریشن کا نتیجہ یہ ہے کہ دھرنے والوں کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ آرمی چیف نے بھی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کرے اور مسئلہ کا پرامن حل ڈھونڈے۔ پروفیسر احسن اقبال اب سخت آزمائش میں ہیں۔ انہوں نے ہفتہ کی رات فوج بھی طلب کر لی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوج طلب کرنے کے لئے جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں بھی فاش قسم کی زبان کی غلطیاں تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سارے معاملے میں حکومت کس قدر سنجیدہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ایک سال قبل ایک جنونی شخص سکندر نے بلیو ایریا میں اپنی بیوی کے ہمراہ پستول نکال کر دارالحکومت کو سات گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔ پیپلز پارٹی کے راہنما اور قومی اسمبلی کے سابق رکن زمرد خان سے نہ رہا گیا ا ور وہ سکندر نامی اس شخص کو پکڑنے بلیو ایریا پہنچ گئے تھے۔ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی اہلیت کا اندازہ اس واقع سے لگایا جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭