کیا وقت کا چناﺅ درست تھا؟

کالم نگار  |  جاوید صدیق

اسلام آباد میں دو روز قبل منعقد ہونے والی ڈی۔8 کانفرنس اسلام آباد اعلامیہ جاری کرنے کے بعد ختم ہوئی۔ پاکستان نے کانفرنس کی میزبانی کے ذریعے ایک اچھی سفارتی پیشرفت کی تھی لیکن یہ کانفرنس وہ اثر مرتب نہیں کر سکی جس کا پاکستان خواہاں تھا۔ کانفرنس کے آغاز سے ہی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے بڑی بدمزگی پیدا ہوئی۔ ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے خاصی محنت کی وہ خود بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے گئیں لیکن بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کانفرنس میں شرکت کے لئے ایسی شرط لگا دی جو پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں تھی۔ حسینہ واجد ابھی تک ماضی کی تلخیوں کو بھول نہیں پائیں۔ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ پاکستان 1971ءکی زیادتیوں پر بنگلہ دیش سے معافی مانگے۔ محترمہ نے پہلے تو اپنے وزیر خارجہ کو بھیجنے کی حامی بھر لی لیکن بعد میں اپنا ایک مشیر بھیج دیا۔
مصر کے وزیر خارجہ محمد مرسی کا بھی اسلام آباد بے چینی سے منتظر تھا۔ ان کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی 23 نومبر کو طلب کیا گیا تھا جس سے انہوں نے خطاب کرنا تھا۔ محمد مرسی سے پہلے مصر کے صدر انوار السادات نے 1974ءمیں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ مصر کے صدر ڈی ایٹ کانفرنس میں شرکت کرتے تو قریباً چالیس برس کے بعد کسی مصری سربراہ کا یہ پہلا دورہ ہوتا لیکن مصری صدر کی ہمشیرہ کے انتقال اور غزہ کے بحران کے باعث وہ بھی نہ آ سکے۔ جس سے کانفرنس کا رنگ قدرے پھیکا پڑ گیا۔
پھر ایک واقعہ ملائشیا کے نائب وزیراعظم کے ساتھ پیش آیا۔ انہیں سکیورٹی والوں کا سلوک پسند نہیں آیا۔ جس پر وہ روٹھ گئے انہیں منانے کے لئے بہت جتن کئے گئے پھر کہیں جا کر وہ کانفرنس میں شرکت پر آمادہ ہوئے ان کی آمد سے کانفرنس اڑھائی گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔
ڈی ایٹ کانفرنس کے دوران راولپنڈی کراچی اور پشاور میں ہونے والے دھماکوں نے بھی فضا کو مکدر کر دیا۔ جس روز ڈی ایٹ کانفرنس کو اخبارات اور چینلز میں لیڈ سٹوری بننا تھا اسی روز دھماکوں اور ان میں تلف ہونے والی جانوں کی خبر نے کانفرنس کی خبر کو پیچھے دھکیل دیا۔
ایران کے صدر احمدی نژاد اس کانفرنس میں ”سٹار آف دی شو“ تھے۔ ایرانی سفارت خانہ نے صدر احمدی نژاد سے مقامی سینئر صحافیوں کی ڈنر پر ملاقات کرائی۔ اگلے روز ایرانی صدر نے ایرانی سفارت خانہ میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس کانفرنس کی کوریج کے لئے پاکستان اور غیر ملکی ٹی وی چینلوں کو کیمرہ لانے کی اجازت نہیں مل سکی۔ صرف پی ٹی وی اور ایران کا سرکاری ٹی وی پریس کانفرنس کور کر سکا۔ احمدی نژاد نے اس پریس کانفرنس میں ایک تو پاکستانی میڈیا کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ پاکستان میڈیا بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میڈیا کے ذریعہ پاکستانی قوم تک اپنا پیغام پہنچاﺅں۔ انہوں نے پاکستان کو ایران کی طرف سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی خبر دی اور یہ بھی بتایا کہ لمبے ہاتھوں اور لمبی زبان والے امریکہ کی مخالفت کے باوجود پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ 2014ءمیں مکمل ہو جائے گا۔ ایک صحافی نے ایرانی صدر سے راولپنڈی اور کراچی کے واقعات پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے کمال چابکدستی سے ان واقعات پر بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ہمارے دشمن ہمیں لڑا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اور پاکستانی صحافی نے ایرانی صدر سے پوچھا کہ بلوچستان میں جنداللہ کی ایران مخالف سرگرمیوں پر ان کا کیا تبصرہ ہے تو ایرانی صدر نے جواباً کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین سکیورٹی معاملات پر مکالمہ ہوتا رہتا ہے۔
ڈی ایٹ کانفرنس کے انعقاد کی ٹائمنگ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ محرم کے دنوں اور غزہ کے بحران کے دوران کانفرنس کا انعقاد وہ نتائج نہیں دے سکا جس کی حکومت اور کانفرنس کے منتظمین توقع کر رہے تھے۔