کریڈٹ کا ڈس کریڈٹ

کالم نگار  |  سعید آسی

 چلیں مان لیا کہ آپ موبائل فون سروس پر اڑھائی تین روز کے لئے پابندی عائد کر کے عاشورہ¿ محرم کے ان دو دنوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کی کئی سازشوں کا توڑ کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن جناب آپ کے اس اقدام سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ آپ کو ملک کی سالمیت کے درپے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بھی علم ہوتا ہے اور یہ اطلاعات بھی آپ کے پاس موجود ہوتی ہیں کہ دہشت گردی کی ان سازشوں کے سوتے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں اور دہشت گردوں کو اپنی انگلیوں پر نچانے والے ہاتھ کس کے ہیں۔
موبائل فون سروس کی دو اڑھائی روز کی بندش سے ملک کے کروڑوں شہریوں نے جو اذیت برداشت کی ہے، اگر اس کا نتیجہ ملک میں مجموعی طور پر امن و سلامتی کے مثبت پیغام کی صورت میں برآمد ہوا ہے تو ایسی اذیت بار بار برداشت کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں مگر کیا دہشت گردی کے تدارک کا یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہے؟ اور کیا خیال ہے جناب آپ کا کہ موبائل فون سروس 30، 35 گھنٹے بند کر کے آپ نے ملٹی نیشنل موبائل فون کمپنیوں کو جو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، وہ اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں گی؟ ایسی کمپنیاں تو اپنا سودا بیچنے اور اپنا منافع کھرا کرنے کے لئے حکومتوں کی حکومتیں الٹا دیا کرتی ہیں۔ ملکوں کے مابین جنگوں کا ماحول بنا دیتی ہیں۔ کسی نہ کسی سازش کے ذریعے انسانی قتل عام کی نوبت لے آتی ہیں اور ایک زخم کھا کر سو تیر چلا دیتی ہیں۔ اس لئے آپ نے ان کے چھابے میں ہاتھ ڈالا ہے تو ان کے انتقام کا نشانہ بننے کے لئے بھی تیار رہئے، ان کمپنیوں نے اپنے سستے پیکجز اور بے لگام انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو افیون سے بھی بڑھ کر جو نشہ لگایا ہے کیا وہ اس نسل کو آپ کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لئے انہیں لگائے گئے اپنے نشے کو دو آتشہ بنانے کی کوشش نہیں کریں گی تاکہ کل کو آپ قیام امن کے نام پر ان سے پھر یہ نشہ چھیننے کی کوشش کریں تو وہ آپ کے گلے پڑنے کے لئے دوڑے چلے آئیں۔ آپ دیکھتے جائیے۔ یہ موبائل فون کمپنیاں اب اپنے بے انتہا منافعوں میں سے نکال کر کوئی نہ کوئی مفت پیکج بھی لانے والی ہیں۔ اس لئے آپ اب دوبارہ موبائل فون سروس بند کرنے کا رسک نہ لیں بلکہ اس سروس کو دہشت گردوں تک رسائی اور ان کی گرفت کے لئے استعمال کریں۔
اگر آپ کے بقول دہشت گرد موبائل فون سروس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھ کر اپنی مذموم کارروائیوں کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچاتے ہیں تو آپ اس سروس میں موجود جاسوسی نظام کے ذریعہ دہشت گردوں کی گردنیں کیوں نہیں دبوچ سکتے؟ اب تو موبائل فون میں موجود ڈیوائس کے ذریعے موبائل فون آف ہونے کی صورت میں بھی اس شخص کے ٹھکانے تک پہنچا جا سکتا ہے جس کے ہاتھ میں متعلقہ موبائل فون ہو گا۔ تو پھر حضور والا آپ کے پاس یہ اطلاعات موجود ہوتی ہیں کہ فلاں وقت میں اتنے دہشت گرد فلاں علاقے میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے فلاں جگہ پر دہشت گردی کی واردات ڈالنی ہے جو آپ کی اطلاع کے عین مطابق رونما ہو بھی جاتی ہے تو پھر ان دہشت گردوں کے ہاتھوں میں موجود موبائل فونوں کی مدد سے انہیں واردات ڈالنے سے پہلے ہی کیوں دبوچا نہیں جا سکتا۔ اس مقصد کے لئے تو موبائل فون سروس کا برقرار رہنا ہی سودمند ہوتا ہے جبکہ یہ سروس بند کر کے درحقیقت دہشت گردوں کو اپنے محفوظ ٹھکانوں میں جانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
مجھے ہی نہیں، ملک کے ہر ذی شعور شہری کو اس معاملہ پر سخت تشویش ہے کہ کسی بھی علاقے میں دہشت گردی کی کوئی بھی واردات رونما ہوتے ہی تحریک طالبان کے ترجمان کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر دہشت گردی کی واردات کی خبر کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز کی صورت میں چل رہی ہوتی ہے جو اگلے روز اخبارات کی زینت بنی بھی نظر آتی ہے۔ یہ مبینہ ترجمان آخر کسی نہ کسی ذریعے سے تو میڈیا تک اپنا بیان یا پیغام پہنچاتا ہو گا۔ موبائل فون کے ذریعے یا ای میل کے ذریعے۔ پھر ایسے ترجمانوں کی گردن دبوچنا ناممکن کیسے بن جاتا ہے۔ بھائی صاحب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اگر آپ کو ڈرون حملوں کے لئے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پیشگی علم ہوتا ہے اور آپ وہاں سم کی شکل میں ڈیوائس رکھوا کر میزائلوں کی بوچھاڑ میں انسانی جسموں کے پرخچے اڑوا دیتے ہیں تو تحریک طالبان کے ترجمان کوئی غیبی انسان تو نہیں کہ وہ آپ کے تصورات سے بھی اوجھل رہتے ہیں۔ رحمان ملک صاحب کمانڈو ٹوپی پہنے ہر جگہ پر میڈیا کے سامنے آ کر دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنانے والی اپنی کامیابیوں کے ڈنکے بجا رہے ہوتے ہیں تو جناب تحریک طالبان کے مبینہ ترجمانوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا انہوں نے آپ کی کمانڈو ٹوپی کے مقابلے میں کوئی سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے کہ وہ میڈیا پر اپنے بیانات کی شکل میں آپ ہی طرح دندناتے نظر آتے ہیں مگر ان پر کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے نہ وہ قانون کے کسی شکنجے کی گرفت میں آتے ہیں۔ پھر کیا سمجھا جائے حضور والا! یہ کوئی باہمی ملی بھگت، کوئی گٹ مٹ تو نہیں؟ اگر آپ موبائل فون سروس کی بندش کی شہریوں کو اذیت دے کر دہشت گردوں کو محفوظ ہونے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں تو آپ کے سارے معاملات کی کڑیاں ملاتے ملاتے بات کہاں تک جا پہنچے گی۔ مجھے تو ذاتی طور پر موبائل فون سروس کا بند ہونا اس لئے بھلا لگتا ہے کہ اس سروس کے ذریعے انٹرنیٹ پر دی جانے والی بے راہ روی کی ترغیب کو کچھ عرصہ کے لئے بریک لگ جاتی ہے اور اس وبا کے زیر اثر آئے ہمارے پیر و جواں جگراتوں سے نکل کر اپنے خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچانے کی کم از کم سوچ سے تو ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اگر بے راہ روی اور مادر پدر آزادی کی جانب دھکیلے جانے والے ہمارے معاشرے کو بچانے کی نیت سے موبائل فون سروس بند کر دی جائے تو یقیناً اس کے دوررس اثرات برآمد ہوں گے۔ مگر دہشت گردوں کی سازشوں کا توڑ کرنے کے نام پر موبائل فون سروس بند کرکے شہریوں کو اذیت اور دہشت گردوں کی سپورٹ پہنچائی جائے گی تو آپ کی یہ حکمت عملی ”بیک فائر“ ہو سکتی ہے۔ آپ موبائل فون بند کرنے کا کریڈٹ نہیں، اس سروس کو برقرار رکھنے کا ڈس کریڈٹ لیں اور دہشت گردوں کی گردنیں ناپیں جو آپ کی رسائی سے دور ہرگز نہیں۔ آپ کا یہ ڈس کریڈٹ ہی آپ کا اصل کریڈٹ بنے گا۔ ورنہ آپ کے چال چلن کے بارے میں یہی تصور کیا جائے گا کہ
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
شریکِ جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے