پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کی ضرورت ہے

کالم نگار  |  محمد مصدق

  ڈویلپنگ 8 کنٹریز کی کانفرنس اگرچہ اسلام آباد میں ہوئی لیکن اس کانفرنس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کمزوریاں عیاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔ ہر دو سال بعد ہونے والی ڈی 8 کانفرنس میں ممبر ممالک کے سربراہ شریک ہوتے ہیں۔ پاکستان نے پہلے ہی صرف مصر کے صدر روسی کو وی وی آئی پی صدر کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا جو یقیناً ایک اچھا فیصلہ نہیں تھا کیونکہ جب مختلف ممالک کے سربراہ کسی کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں تو خارجہ تعلقات کے پروٹوکول کے لحاظ سے سب کا درجہ یکساں ہوتا ہے! شائد اسی وجہ سے بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے سربراہوں نے خود شریک ہونے سے معذرت کر لی لیکن اس وقت صورتحال پاکستان کیلئے ندامت کا باعث بن گئی جب مصر کے صدر مرسی نے بھی ڈی 8 کانفرنس میں شرکت سے معذوری کا اظہار کر دیا اب کیونکہ صدر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہوا تھا تو اصولاً نہ صرف ایران کے صدر احمدی نژاد کو خطاب کی دعوت دینی چاہئے تھی بلکہ دوسرے شریک سربراہوں اور اعلیٰ عہدےداروں کو بھی خطاب کرنے کی دعوت دیکر پاکستان ان کے دل جیت لیتا لیکن صرف امریکہ کی ناراضگی سے خوفزدہ حکمرانوں نے پارلیمنٹ کا اجلاس منسوخ کر دیا لیکن پاکستان کے خارجہ تعلقات ڈی 8 ممالک سے مستحکم کرنے کا موقع گنوا دیا جبکہ دوسری طرف انڈیا کی خارجہ پالیسی کا محور اس کی معیشت ہے یہی سبب ہے کہ جب امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں لگائیں تو انڈیا نے بزنس مینوں کا ایک بہت بڑا وفد ایرانی مصنوعات کا سودا کرنے کیلئے ایران پہنچا بلکہ خود انڈین حکومت نے امریکہ کا منہ چڑانے اور سستا تیل حاصل کرنے کیلئے ایران سے تیل کی درآمد میں زبردست اضافہ کر دیا۔
اس تناظر میں اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم صرف امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بناکر بیٹھے ہیں یورپی یونین نے جب سیلاب کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو رعایتیں دینے کا اعلان کیا تو اس وقت انڈیا نے بنگلہ دیش کو اکسایا اور اس کے اعتراض پر پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس پر مکمل ڈیوٹی فری کی سہولت 2013ءمیں ملے گی۔ اس کا ایک بنیادی سبب صرف یہ ہے کہ جن عالمی تنظیموں کے ساتھ پاکستان نے معاہدے کئے ہوئے ہیں ان کے بارے میں دفتر خارجہ میں یا تو کسی کو علم نہیں ہے یا پھر وہ معاہدے کسی الماری میں بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب صرف اسی مسئلہ پر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش پاکستان کے مفاد کے خلاف یورپی یونین میں اعتراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس نے بھی دیگر ملکوں کی طرح معاہدے پر دستخط کئے ہوئے ہیں کہ کسی ممبر ملک کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔
 پاکستانی معیشت کا ایک مسئلہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر عالمی مالیاتی اداروں کو ادائیگی کرنے کے بعد کم ہو رہے ہیں وہ تو بھلا ہو ان لاکھوں محب وطن پاکستانیوں کا جو بیرون ملک سے سالانہ بارہ ارب ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ بھیج کر ہماری معیشت کو بچا رہے ہیں۔
OIC سمیت دوسری عالمی اسلامی تنظیموں میں ایسے پاکستانیوں کو نمائندگی کیلئے بھیجا جاتا ہے جنہیں ان تنظیموں سے فائدہ اٹھانے کیلئے پیپر ورک کرنا بھی نہیں آتا۔ OIC کے سالانہ اجلاس میں مختلف ممالک کو ان کی فزیبلٹی کے مطابق فنڈز جاری کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان کا وفد کسی میگا پراجیکٹ کی فزیبلٹی رپورٹ ساتھ لیجانی پسند نہیں کرتا۔
صرف ایک کرنسی ڈالر پر انحصار کرنے کی وجہ سے پاکستان کے مالیاتی اداروں کے تعاون سے ڈالر دنیا بھر میں بے شک گر جائے لیکن پاکستان میں اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور آئندہ بجٹ تک سو کے تاریخی ہندے کو چھو جائے گا ایران سمیت متعدد اسلامی ممالک اس بات پر آمادہ ہیں کہ ہمیں ڈالر کی بجائے اپنی اپنی کرنسی میں باہمی تجارت کرنی چاہئے حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سے انڈیا قرضہ ڈالر میں لیتا ہے لیکن واپس اپنی کرنسی میں کرتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت ایک نئی معاشی ٹیم تشکیل دے تاکہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے کم از کم خارجہ تعلقات متوازن بناکر پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ تو ایک دوسرے کی کرنسی میں ٹریڈ کریں۔ ویسے ایران تو بارٹر سسٹم کے تحت بھی تجارت کرنا چاہتا ہے۔ اسے مثبت جواب ملنا چاہئے۔