غوث بخش مہر کا غداری سے انکار

کالم نگار  |  سالک مجید

سندھ کی سیاست میں غوث بخش مہر کا نام انتہائی عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے حلقہ اثر میں ووٹرز کی اکثریت کو ہر دور میںاپنا ہمنوا بنائے رکھا۔ یقیناً اس کے لئے انہوں نے سخت محنت کی اور مخالف سیاسی ہواﺅں کا رخ بھی موڑتے رہے‘ جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب سندھ میں انتخابی دنگل کی گنجائش تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ 2008ءکے الیکشن میں بھی غوث بخش مہر نے پیپلز پارٹی کی مخالفت میں الیکشن نہ صرف لڑا بلکہ الیکشن جیت کر قومی اسمبلی میں پہنچے اور ان کا بیٹا شہریار مہر بھی سندھ اسمبلی کا رکن منتخب ہوا اور دونوں باپ بیٹے بعدازاں وفاق اور سندھ میں وزیر بھی بن گئے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ آصف زرداری جس قاف لیگ کو قاتل لیگ کہہ چکے تھے اس سے وابستگی رکھنے والے سندھ میںالیکشن جیت جائیں گے لیکن شکار پور کے مہروں نے یہ کمال بھی کردکھایا۔ یہی کچھ گھوٹکی کے مہر خاندان نے بھی کیا اور ٹھٹھہ کے شیرازی اور مٹھی تھر پار کر کے ا رباب بھی کر گزرے۔
سابق وفاقی وزیر اینٹی نارکوٹکس اور مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر سردار غوث بخش مہر نے کہا ہے کہ سندھ میں متنازعہ بلدیاتی آرڈی ننس کے نفاذ کے بعد ان کے پیپلز پارٹی سے اختلافات شروع ہوگئے۔ وہ کسی صورت سندھ سے غداری نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے کئی ہفتے پہلے پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو وزارت سے استعفیٰ پیش کرکے ان پر واضح کردیا تھا کہ استعفیٰ واپس لینے کے لئے نہیں دیا۔ سندھ کی سب قوتوں پر لازم ہے کہ وہ پیر پگارا کا ساتھ دیں۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی طرف سے جمعہ کو غوث بخش مہر کو وزارت سے ہٹانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس پر غوث بخش مہر کا موقف ہے کہ وہ کئی ہفتے پہلے وزارت سے استعفیٰ اپنی پارٹی سربراہ کو پیش کرچکے تھے۔ وزارت سے برطرفی کے اعلان کے بعد غوث بخش مہر نے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دیدیا ہے۔ غوث بخش مہر نے کہا کہ ان کے حکومت سے اختلافات سندھ میں متنازعہ بلدیاتی آرڈی ننس نافذ کرنے پر شروع ہوئے جس کے بعد چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کرکے وزارت سے اپنا استعفیٰ انہیں پیش کردیا تھا اور واضح کردیا تھا کہ یہ استعفیٰ واپس لینے کے لئے نہیں دیا گیا۔ آپ وزیر اعظم کو دے دیں جبکہ سندھ اسمبلی کے رکن اپنے بیٹے شہر یار مہر کے حزب اختلاف کا ساتھ دینے کے بارے میں انہیں آگاہ کردیا تھا۔ غوث بخش مہر نے کہا کہ ہم ذاتی طور پر پیپلز پارٹی کی مدد کریں اور حکومت کا ساتھ دیں بلدیاتی آرڈی ننس کے نفاذ کے بعد یہ ہمارے لئے بہت مشکل تھا ہم سندھ کے ساتھ غداری نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت نے بلدیاتی نظام کے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے ہمیں اس کا احترام ہے ۔غوث بخش مہر نے کہا کہ سندھ سے غداری نہیں کی جاسکتی۔ چوہدری شجاعت حسین کو ہم پہلے ہی بتاچکے تھے۔ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لئے ان پر دباﺅ ڈالے جانے کے سوال پرسردار غوث بخش مہر نے کہا کہ سیاست میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پی پی میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پی پی سے نفرت بھی نہیں ہے لیکن اختلاف کی بنیاد بلدیاتی آرڈی ننس سے پڑی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سردار علی گوہر مہر، علی محمد مہر پی پی میں شامل ہوئے ہیں۔ شیرازی برادران نے بھی پی پی میں باقاعدہ شمولیت کے اعلان کے لئے جلسے کی تاریخ کا اعلان کیا تھا پر وہ کیوں نہ ہوسکا ۔یہ شیرازی ہی بتاسکتے ہیں لیکن میں مسلم لیگ (ق) میں ہی ہوں پارٹی نہیں چھوڑ رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہم پیر پگارا کے ساتھ ہیں سب کو پیر صاحب کا ساتھ دینا چاہیے لیکن نہ پیر صاحب نے مجھے مسلم لیگ فنکشنل میں شامل ہونے کے لئے کہا ہے اور نہ میں نے اس سلسلے میں ان سے کوئی رابطہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے قریبی رابطوں اور شمولیت کے بارے میں غوث بخش مہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ سے اب تک کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی البتہ بلدیاتی آرڈی ننس آنے سے پہلے عمران خان کی طرف سے کچھ صاحبان پارٹی میں شمولیت کی دعوت دینے آئے تھے اور میں نے ان پر واضح کردیاتھا کہ چوہدری شجاعت کے ساتھ ہوں۔
غوث بخش مہر ماضی میں نواز شریف کی حکومت میں بھی اہم سیاسی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مشرف دور میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب غوث بخش مہر کا نام سندھ کے وزیر اعلیٰ کےلئے بھی زیر غور آیا تھا لیکن پھر گھوٹکی کے علی محمد مہر نے میدان مار لیا تھا اور وزارت اعلیٰ سندھ شکار پور کی بجائے گھوٹکی کے حصے میں آگئی تھی‘ تب غوث بخش مہر کو وفاقی وزیر بنانے پر اکتفا کیا گیا تھا لیکن ان کے بیٹے کو شکار پور کا ناظم بننے کا موقع مل گیا تھا۔ تب سے پیپلز پارٹی کے ساتھ غوث بخش مہر اور ان کے بیٹے شہر یار مہر کے سیاسی اختلافات چلے آرہے ہیں۔ آئندہ الیکشن میں بھی غوث بخش مہر کو اپنے حلقہ اثر میں مضبوط پوزیشن حاصل ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت یہ خواہش کررہی تھی کہ غوث بخش مہر پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں جس طرح گھوٹکی مہر اور ٹھٹھہ کے شیرازی برادران اعلان کرچکے ہیں لیکن غوث بخش مہر اور ان کے بیٹے شہریار مہر نے اسٹینڈ لے لیا اور ان کا موقف بڑا واضح ہے کہ بلدیاتی نظام ان کو قبول نہیںہے اور اس نظام کی حمایت کرکے وہ سندھ کے ساتھ غداری نہیں کرسکتے۔
سندھ کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے غوث بخش مہر کے بارے میں یہ کہہ دیا ہے کہ انہیں ان کی پارٹی نے غداری کی سزا دی ہے‘ کیونکہ وہ قاف لیگ میں رہتے ہوئے فنکشنل لیگ سے رابطے کررہے تھے اور حکومت کا ساتھ دینے کی قاف لیگ کی پالیسی سے بھی انحراف کررہے تھے۔دہری شہریت کے بل پر بھی غوث بخش مہر کا نکتہ نظر مختلف نظر آیا۔ اگر اس حوالے سے بل پر رائے شماری ہوتی تو غوث بخش مہر حکومت کی حمایت نہ کرتے بلکہ مخالفت میں ووٹ دیتے یا غیر حاضر رہتے۔
غوث بخش مہر کے استعفیٰ اور نئی صورتحال سے سندھ میں قاف لیگ کے لئے پہلے سے موجود مشکلات میں مزیداضافہ ہوتانظر آرہا ہے‘ کیونکہ مضبوط نشستیںرکھنے والے پہلے ہی ہم خیال گروپ میں نظر آرہے ہیں اب چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کو سندھ میں قاف لیگ کو مزیدبکھرنے سے بچانے کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی جبکہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو بھی غوث بخش مہر سے سخت مقابلے کی تیاری کرنا پڑے گی۔