ہے کوئی منزل آشنا؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

رفیق ڈوگر...............
آپ کے پاس کوئی اپنی سواری نہیں تو آپ نے کبھی کسی ویگن یا بس میں تو سفر کیا ہوگا کسی بھی سواری ویگن یا گاڑی کے کسی ایک ٹائر میں اس کی گنجائش سے زیادہ ہوا بھر دی جائے تو کیا ہوتا ہے؟ پہنچا سکتی ہے وہ گاڑی یا ویگن مسافروں کو سلامتی کے ساتھ ان کی منزل تک؟ ہر کار، ویگن اور بس کے پہیوں کی تعداد سے بھی آپ لازماً آگاہ ہوں گے اگر کسی چار پہیوں والی گاڑی کے کسی ایک ٹائر میں اس کی فطری گنجائش سے بہت زیادہ ہوا بھر دی جائے تو کیا انجام ہوگا اس کی سواریوں کا؟ ڈرائیور اور کنڈکٹر کا؟ ٹینک سے عام سائیکل تک کے ٹائر میں کتنی ہوا بھرنا ہے سب کو معلوم ہے یہ ہوا بھرنے والے کو بھی اور اسے چلانے والے کو بھی، کیا یہ ممکن ہے کہ سائیکل کے ٹائر میں یا کسی ویگن کے کسی ایک ٹائر میں اتنی ہوا بھر دی جائے جتنی ٹینک کے ٹائر میں بھری جاتی ہے؟ اگر کسی ویگن کے کسی ٹائر میں ہوا بھرنے والا ٹینک کے ٹائر جتنی ہوا بھر دے تو وہ اس کے ڈرائیور کا دشمن ہوگا یا دوست؟ اور اس کی سواریوں کا؟ کیا ہر ڈرائیور کو یہ بتایا اور سمجھایا نہیں جاتا اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے سے پہلے کہ ’’ہوا پوری رکھیں‘‘؟ اور جہاں ’’ہوا پوری رکھیں‘‘ کی سلامتی کی ہدایت کو ڈرائیور اور اس کے کلینر کنڈکٹر اپنے سے اور سواریوں سے دشمنی سمجھنے لگیں؟ اس خرابی کی بنیاد کہاں ہوتی ہے؟ علم و آگہی میں یا جہالت و ناتجربہ کاری میں؟ ہمارے ملک اور معاشرے کی خرابیوں اور بربادیوں کا ایک سبب گنجائش سے زیادہ ہوا کا بھر جانا ہے۔ فطری گنجائش سے زیادہ اختیار اقتدار اور مال و زر کی ہوا کا بھر جانا۔ ہم اس راہ سے کب اور کہاں بھٹکے تھے جس پر چلتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن حاصل کر لیا تھا؟ کیا اسی وقت نہیں جب غیر فطری حادثاتی افراد کے ہاتھوں میں اقتدار و اختیار آگئے تھے؟ آغاز سکندر مرزا نے کیا ایوب خان فوجی تو تھا مان لیا مگر اسے ملک بنانے اور چلانے کا کوئی تجربہ بھی تھا؟ اس کا اقتدار پر قبضہ منزل کی بجائے منزل کے الٹے رخ سفر کا آغاز تھا جو آج تک جاری ہے اس کے بعد سے آنے والوں میں سے کسی نے بھی اس قوم کو اس منزل کی طرف سفر کی راہ پر کیوں نہ ڈالا جس کا تعین حکیم الامت نے کیا تھا اور جس پر چلتے ہوئے حضرت قائداعظمؒ کی قیادت میں اہل اسلام و ایمان قیام پاکستان تک پہنچ گئے تھے؟ اسی لئے تو نہیں کہ وہ سب حادثاتی قائدین و حکمران ہوتے تھے غیر فطری طریقوں سے اقتدار و اختیار پر قابض ہو جانے والے ان میں سے کسی کے بھی دل میں کبھی وہ تمنا زندہ نہیں رہی جس کی حکیم الامت نے دعا کی تھی۔ ان کے یا ان جیسوں کے سامنے مثال کس کی ہوتی تھی اور ہے قبضہ کرنے اور قابض رہنے کیلئے؟ ایوب خان کی‘ وہی جس کے راج کی برکات کے نغمے الاپنے والے اس کے بعد ملک کے اقتدار و اختیار پر قابض ہو جاتے رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کس کا ساتھی تھا؟ کہاں حاصل کی تھی اس نے سیاسی تربیت؟ اس کے سامنے حکیم الامت کی تعلیمات تھیں؟ قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کے ایثار و قربانیاں تھیں؟ اس کا ایجنڈا کیا تھا؟ وہی جو 1940ء میں اس شہر لاہور میں برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت نے طے کیا تھا یا ہرصورت ہر طریقہ سے اقتدار و اختیار پر قبضہ کر لینا؟ اس کی جمہوریت نے کیا دیا تھا اس ملک اور قوم کو؟ اور ایسا کیوں ہوا تھا؟ اس لئے ہی نہیں کہ وہ حادثاتی قائد عوام تھا سیاسی عمل کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچا ہوا تھا اس نے کہیں بھی کسی بااصول سیاسی پارٹی میں تربیت حاصل نہیں کی ہوئی تھی اس کی جمہوریت نے سقوط ڈھاکہ دیا اور پھر محمد ضیاء الحق کا مارشل لاء دیا۔ اس کی حکمرانی کے سارے دور کو دیکھیں تو جتنے سیاستدان اور معصوم لوگ اس جمہوری دور(؟) میں مار دیئے گئے تھے اس کی مثال ملتی ہے کہیں کسی جمہوری ملک اور معاشرے میں؟ قوم کی ایک بدقسمتی کے حادثہ میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ذوالفقار علی بھٹو نے کتنے مزید حادثوں سے دوچار کر دیا تھا اس ملک اور قوم کو؟ ضیائی مارشل لاء کا حادثہ بھی اس کی جمہوریت کی کوکھ سے ہی نمودار ہوا تھا اس حادثے کی وجہ سے بھٹو کو غیر فطری طریقے سے اقتدار سے الگ کر دیا گیا اس کی پھانسی اور غیر فطری موت نے مزید حادثوں اور حادثاتی قیادتوں کو جنم دیا اس سے ایک ایسی CHAIN OF REACTION AND ACTIONS شروع ہوگئی جس میں قائد کا پاکستان اور اس کے عوام پھنستے چلے گئے، پھنستے چلے جا رہے ہیں اگر ایوب خان اقتدار و اختیار پر قابض نہ ہوا ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو کہاں ہوتا؟ اگر ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں نہ آیا ہوتا اسے پھانسی نہ دی گئی ہوتی تو بے نظیر بھٹو کہاں ہوتیں؟ اگر بے نظیر بھٹو نہ آئی ہوتیں سیاست و اقتدار کے میدانوں میں اور قاتلوں نے ان سے زندگی نہ چھین لی ہوتی تو آصف علی زرداری کہاں ہوتا آج؟ اس کے سامنے اقتدار کے حصول اور اس پر قائم رہنے کیلئے مثالیں اور نمونے کون ہیں؟ اسے معلوم ہے کہ وہ کونسی منزل ہے جس کی طرف 1940ء میں اہل ایمان و ا سلام نے عزم کی کمر باندھی تھی؟ اور اگر محمد ضیاء الحق کے اقتدار و اختیار پر قبضہ کا حادثہ پیش نہ آیا ہوتا تو کہاں ہوتا آج میاں محمد نواز شریف؟ کس پارٹی میں درجہ بدرجہ تربیت حاصل کر کے آئے تھے وہ اقتدار میں وہ نہ ہوتے تو ان کے خاندان والے خادم کہاں ہوتے؟ خدمت کے میدانوں میں جو بھی اقتدار و اختیار والے پائے جاتے ہیں وہ تقریباً سب ہی حادثاتی اقتدار کے ذریعے سیاست میں آئے ہوئے ہیں، قوم کی بدقسمتیوں اور حادثات کے ذریعے آئے ہوئے ہیں، ان کے سامنے مثالیں اور نمونے کون کون ہیں؟ قائد اور ان کے ساتھی یا ایوب خاں اور اس کے بعد والے حادثاتی حکمران؟ ہے کوئی جس کے بارے میں کہہ سکیں کہ وہ جمہوری سیاسی عمل کی پیداوار ہے؟ قائد اور اقبال کی خدمات و تعلیمات سے آگاہ اہل فکر و دانش کیا فرماتے ہیں کہ کون ہے وہ جو اس ملک اور قوم کو اس منزل تک لے جاسکتا ہے حاضر حال میں سے؟