کچھ ’اڑتے ہوئے پتوں‘ پر

کالم نگار  |  خالد احمد

جناب غلام مصطفی کھر نے رات گئے ماضی کے پردے سرکاتے ہوئے تین ایسی باتیں کیں جنہیں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کی تفہیم کے سلسلے میں تین نئے ابواب کے اضافے کا درجہ حاصل ہے!
جناب غلام مصطفی کھر وقت نیوز ٹی وی نیٹ ورک کے پروگرام ’روبرو‘ میں بہت دھیمے لہجے میں سہج سہج گفتگو آگے بڑھاتے دکھائی دئیے۔ انہوں نے بہت سے ’ذاتی‘ پہلو بھی اُجاگر کئے اور قومی سیاسی منظرنامے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی! اور صاف صاف باتیں کرتے ہوئے کچھ ایسی باتیں بھی کر گئے جنہیں پاکستانی سیاست کے حقیقی طلباء کیلئے ’معلومات کا خزانہ‘ کہا جا سکتا ہے! مگر وہ باتیں صرف وہی بتا سکتے تھے! اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے‘ اپنی یاداشتیں مرتب کرنے کا مطالبہ انتہائی بجا مطالبہ ہے۔
جناب غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پنجاب کا گورنر بناتے وقت ان سے فرمایا ’تم پنجاب کے گورنر کے طور پر پنجاب کے حقوق کا تحفظ کرو گے! اور نواب آف کالا باغ کی طرح اپنے صوبے کو سنبھالو گے! اور مجھ سے انہی کی طرح صاف اور کھرے لہجے میں بات کرو گے! ہم دوست رہیں گے مگر اب تم گورنر ہو اور مجھ سے گورنر کی طرح بات کرو گے!‘
ہمارے لئے یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ جناب ذوالفقار علی بھٹو بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ نواب آف کالا باغ‘ مغربی پاکستان کے گورنر کے طور پر صدر محمد ایوب خان کو کئی بار جناب ذوالفقار علی بھٹو سے ’ہوشیار‘ رہنے کا مشورہ دے چکے تھے! مگر وہ نواب آف کالا باغ کی سیاسی اور انتظامی بصیرت کے حد درجہ قائل تھے! یہ بات پہلی بار ’وقت ٹی وی نیٹ ورک‘ کے ذریعے عام آدمی تک پہنچی ہے!
جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں جناب صدر اور جناب گورنر کی گفتگو کے پس منظر میں ایک ’انٹیلی جنس رپورٹ‘ بھی مرتب ہوئی اور جنابِ صدر کی میز پر پہنچی مگر انہوں نے یہ ’رپورٹ‘ قابلِ اعتنا نہیں سمجھی!
جناب غلام مصطفی کھر نے بتایا کہ انہوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو ’سمجھوتے‘ کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا‘ جس پر انہوں نے جناب کھر کو ملک سے نکل جانے کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا اور وہ ملک سے نکل جانے میں کامیاب بھی ہو گئے! جناب مصطفی کھر نے فرمایا کہ انہوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو سے کہا کہ ملک کیلئے ایک ’زندہ بھٹو‘ زیادہ ضروری ہے مگر وہ سمجھتے تھے کہ ’غیر ملکی دباؤ‘ کسی کو بھی انہیں ہاتھ نہیں لگانے دے گا جبکہ جناب غلام مصطفی کھر کا کہنا تھا کہ وہ ان کے ’مخالفین کی سفاکی‘ سے بخوبی آگاہ تھے اور انہیں اس کے بارے میں مطلع کر چکے تھے!
جناب محمد ضیاء الحق نے ایک بار کہا تھا ’’مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر کے ’سیاست دانوں کی ٹریڈ یونین‘ سرگرم ہو گئی ہے!‘‘ اور ہنستے ہنستے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا تھا!
جناب غلام مصطفی کھر نے ایک ذیلی سوال کے جواب میں کہا ’’میں سمجھتا ہوں جناب نوازشریف نے درست فیصلہ کیا ورنہ جنرل مشرف انہیں بھی پھانسی پر چڑھا دیتا! وہ انتہائی سفاک آدمی تھا!‘‘
جناب غلام مصطفیٰ کھر نے ایک اور گتھی یوں سلجھائی ’میں نے پارٹی چھوڑ دی تو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کے وہ تمام جاگیردار اپنے گرد جمع کر لئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے آگے ہار چکے تھے اور ان سب کو پارٹی ٹکٹ بھی دے دیا! یہ لوگ بھٹو کے گرد صرف انتخاب جیتنے کیلئے جمع ہوئے تھے اور ان کے ’ہتھ کنڈوں‘ نے پورا ’انتخاب‘ الٹ کے رکھ دیا! اور انہیں نئے سرے سے انتخاب کی راہ پر بھی نہ چلنے دیا!‘
1977ء کی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک کے دوران ابھرنے والا ’نظام مصطفی‘ کا نعرہ نظر انداز کرنا جناب محمد ضیاء الحق کیلئے ممکن نہ تھا! لہٰذا وہ دوبارہ انتخابات کرانے کے چارٹر کے ساتھ ’میدانِ عمل‘ میں نکل آئے اور پھر انتخابات غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر کے ’استصواب عام‘ کی راہ پر چل نکلے!
جناب غلام مصطفی کھر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ’حقیقی وارث‘ وہ خود ہیں اور وہی اس پارٹی کو دوبارہ بطور پارٹی کھڑا کر سکتے ہیں اور پھر اسے جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا میں سے کسی اہل فرد کے حوالے کر سکتے ہیں! انہوں نے فرمایا کہ محترمہ اور زرداری کے درمیان تو علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ وصیت جس کے تحت پارٹی جناب آصف علی زرداری اور جناب بلاول بھٹو زرداری کی ’ملکیت‘ قرار دی جا رہی ہے‘ سراسر جعلی ہے!
جناب غلام مصطفی کھر پاکستان مسلم لیگ نون میں اپنا کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہے اور پاکستان پیپلز پارٹی انہیں اپنانے کیلئے تیار نہیں‘ ایسے میں جبکہ کوئی انہیں پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہا وہ ’ذاتی یادداشتیں‘ مرتب کرنے کیلئے اپنے ’نوٹس‘ NOTES سے رجوع کر سکتے تھے مگر وہ ملک کی موجودہ صورتحال میں گھر بیٹھ کر ’تماشا‘ دیکھنے کیلئے تیار نہیں! یہ تمام باتیں ان کے ارادوں کا پتہ دیں نہ دیں! مگر ان کی ’سیاسی اور انتظامی بصیرت‘ پر ضرور روشنی ڈال رہی ہیں! حالانکہ اُن سے پوچھا جا سکتا تھا کہ وہ اپنے کتوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں؟ یا ‘ ہم جیسے انسانوں سے؟ تو ان کا صاف اور کھرا ضمیر ہم جیسے انسانوں کے حق میں کچھ کہنے کیلئے درکار ’وقفہ‘ یا Lengthened Pause اپنی طوالت ’کھنچ‘ جانے بعد اصل جواب تک راہ نمائی ضرور کر دیتا!
مستقبل اپنی جھولی میں کیا کچھ رکھتا ہے؟ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا! مگر ’دعا‘ تو ہر کوئی کر سکتا ہے! تو ہم اپنے اور اپنے وطن کے بہتر مستقبل کیلئے دعاگو بھی ہیں اور اپنی بساط کے مطابق ’محنت کوش‘ بھی کہ محنت کش ہی یہ ملک چلا رہے ہیں اور یار لوگ مزے اڑا رہے ہیں :
یہ شہر کے باسی ہیں کہ اُڑتے ہوئے پتے
یہ شہر کے حاکم ہیں کہ جنگل کی ہوَا ہیں