پُل صراط

سید ارشاد احمد ........
وزیراعظم اپنا‘ چیئرمین سینٹ اپنا‘ سپیکر قومی اسمبلی اپنی اور ایوان صدر اپنے قبضہ قدرت میں‘ جہاں صبح جئے بھٹو کے نعرے لگتے ہیں‘ رات کو دھمال ہوتا ہے‘ پھر بھی نہ دن کا چین نہ رات کا قرار۔ صدر زرداری اتنے پریشان کیوں ہیں؟
سازشیں کس حکومت کیخلاف نہیں ہوتیں‘ مغل شہنشاہوں جلال الدین اکبر اور اورنگزیب عالمگیر نے پچاس پچاس سال حکومت کی‘ اس دور میں الیکٹرانک میڈیا ہوتا تھا نہ اینکر پرسن ہر شب حکومت کے لتّے لیا کرتے تھے مگر حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے کئی اور حربے تھے جو انکے اندرونی اور بیرونی مخالفین فراخدلی سے استعمال کرتے رہے، اورنگزیب عالمگیر کو تو خاندان کے اندر اتنی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا کہ تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے لیکن کامیاب حکمرانی کا راز یہ نہیں کہ اپنے بیگانے سب حکومت کو اسکی مرضی کے مطابق پانچ دس سال تک مزے سے کام کرنے کا موقع فراہم کریں اور وہ ہاتھ پیر ہلائے بغیر اقتدار کے لڈو پیڑے کھاتی رہے۔
سول حکمرانوں میں سے سب سے زیادہ عرصہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور محمد خان جونیجو مرحوم نے حکومت کی۔ اول الذکر کو ایسٹبلشمنٹ اپنی افتاد طبع کے علاوہ مرحوم کی بعض متنازعہ پالیسیوں اور مخصوص طرز حکمرانی کی وجہ سے پسند نہیں کرتی تھی‘ اپوزیشن نے روز اول سے مخالفت شعار کیا اور اپوزیشن بھی آج کی طرح نظریاتی تشخص اور قوت عمل سے محروم نہیں تھی۔ پیرصاحب پگارا‘ خان عبدالولی خان‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ‘ مولانا مفتی محمودؒ‘ مولانا شاہ احمد نورانیؒ‘ سردار شیرباز مزاری‘ غوث بزنجو اور مولانا عبدالستار خان نیازی پر مشتمل جن میں سے ہر ایک شعلہ جوالہ تھا‘ امریکہ کی سازشیں الگ تھیں اور بھارت‘ سوویت یونین کو ساتھ ملا کر وقتاً فوقتاً ریشہ دوانیوں کی کھچڑی پکاتا رہتا تھا‘ مگر اپنے متکبرانہ روئیے کے باوجود پانچ سال نکال گئے‘ اگر انتخابات میں تاریخی دھاندلی کرکے اپنے زوال کو خود ہی دعوت نہ دیتے تو مزید پانچ سال بآسانی نکل سکتے تھے۔
بھٹو صاحب اپنے آپ کو مرد بحران کہا کرتے تھے‘ وہ خود ہی بحران پیدا کرتے اور پھر اس سے نمٹنے میں لگ جاتے‘ بعض لوگوں کے خیال میں 1977ء میں وہ دھاندلی بم کو لات مار کر اس طرح حکومت گنوا بیٹھے جس طرح 2007ء میں اچھی بھلی چلتی حکومت سے اکتا کر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی معزولی کے ذریعے ایک بحران کو دعوت دی۔ افتخار محمد چودھری تو اب بھی ملک کے چیف جسٹس ہیں مگر پرویز مشرف ان دنوں کہیں دکھائی دیتے ہیں نہ سنائی دیتے ہیں…ع
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں سنا ہے
سیاسی جماعت بنانے کیلئے مختلف ممالک میں چندہ اکٹھا کر رہے ہیں‘ غیرملکی چندے سے بننے والی جماعت پاکستان میں کیا انقلاب لائے گی‘ یہ فواد چودھری ہی بتا سکتے ہیں۔
آصف علی زرداری ذوالفقار علی بھٹو کے داماد ہیں، ان کی پارٹی کے شریک چیئرمین بھی۔ جونیجو صاحب بھٹو کی طرح نابغہ نہیں تھے۔ عوامی مقبولیت اور مضبوط عوامی پارٹی سے محروم لیکن، شفاف اندازِ حکمرانی کی وجہ سے ساڑھے تین سال تک حکمران رہے۔ اگر ضیاء الحق اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی نہ مارتے تو پانچ سال پورے کر لیتے۔ بھٹو صاحب خود بحران پیدا کرکے اس سے نمٹتے تھے‘ زرداری صاحب اڑتے بحران کو بغل میں لے کر اپنے ساتھیوں اور ہم وطنوں سے ’’داد‘‘ لیتے ہیں۔ ان دنوں ملک میں این آر او کی وجہ سے اودھم مچا ہوا ہے۔ این آر او روزاول سے قوم کی ناپسندیدگی کا سامنا کررہا ہے‘ اس بھوت سے چھٹکارے کی واحد صورت این آر او زدہ وزیروں‘ مشیروں سے نجات حاصل کرنا ہے مگر پیپلزپارٹی کے دانا بینا اور ہرفن مولا قائدین یہ سیدھا سادہ کام کرنے کے بجائے ڈیڑھ دو ہفتوں سے مجلس شام غریباں برپا کئے ہوئے ہیں۔ اسی چکر میں حریفوں کے ساتھ ایم کیو ایم جیسے حلیفوں پر بھی طعنہ زنی ہو رہی ہے۔
گزشتہ روز زرداری صاحب کے وفادار دوست ذوالفقار مرزا ایم کیو ایم پر گرجتے برستے یہاں تک چلے گئے کہ ’’چیف جسٹس 12 مئی کے واقعات کی تحقیقات کرائیں‘‘ جس کے جواب میں ایم کیو ایم نے بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ زرداری صاحب نے پاکستان کھپے ریلی سے جو ٹیلی فونک خطاب کیا‘ اس میں بھی پارٹی اور قوم کا حوصلہ بڑھانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ الٹا انکے مداحوں اور غم گساروں کو پیغام ملا…؎
ٹُک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا
پرویز مشرف کی طرح آصف علی زرداری خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپوزیشن بھی فرینڈلی ملی‘ اسکے باوجود حکمرانوں کا رونا دھونا دیکھ کر آدمی سوچتا ہے کہ حکمرانی کیلئے سازگار حالات کوئی معنی نہیں رکھتے‘ یہ پل صراط ہے یا کار گہہ شیشہ گری، جب اپنی ذات اور جماعت سے بالاتر ہو کر سوچنے اور ملک و قوم کیلئے کچھ کر گزرنے کی جرأت و صلاحیت نہ ہو‘ پارلیمنٹ‘ اسٹیبلشمنٹ‘ اپوزیشن حتٰی کہ امریکہ کی حمایت بھی حکمرانوں کے کام نہیں آتی‘ خودترحمی سے بھی کبھی کوئی بات بنی ہے۔