ہکلاہٹ اور مزار بی بی پاک دامن

کالم نگار  |  نصرت جاوید
ہکلاہٹ اور مزار بی بی پاک دامن

بچپن سے نوجوانی کی طرف بڑھتے ہوئے مراحل کے دوران کچھ مہینوں کے لئے میں ہکلانا شروع ہوگیا تھا۔ میرے ماں باپ ہی نہیں محلے داروں کی اکثریت بھی ہکلانے کے خوف سے میری اختیار کردہ خاموشی کے بارے میں بہت پریشان ہوگئی کیونکہ انہیں میری باتیں بہت پیاری اور ان سے پوچھے ہوئے سوال بہت معصوم لگتے تھے۔ وہ سب یکجا ہوکر میری ہکلاوٹ کا مداوا تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے۔
نصابی حوالوں سے تقریباََان پڑھ ہوتے ہوئے بھی میرے والد ضرورت سے زیادہ ”عقل پرست“ تھے۔ سرسید احمد خان کا بہت ذکر کیا کرتے۔ مولوی حضرات سے طنزیہ بحثوں میں الجھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ماں میری ان کے مقابلے میں مکمل طورپر ”ضعیف الاعتقاد“تھیں۔ان کی نظر میں لاہور میں موجود ہ مختلف ہستیوں کے مزاروں پر باقاعدگی سے حاضری دے کر ہر مسئلے کا حل ڈھونڈا جاسکتا تھا۔ چند مزار انکی دانست میں کچھ مخصوص مسائل کے حوالے سے گویا Specialistsکا درجہ رکھتے تھے۔
میرے والد کو یقین تھا کہ میرا ذہن ضرورت سے زیادہ تیز ہے۔ میں اپنے ذہن میں جمع ہوئی باتوں کو تیزی سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ زبان مگر ذہن کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ تھک جاتی ہے۔ تھوڑا وقت گزرنے کے بعد ٹھیک ہوجاﺅں گا۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔
میری والدہ کا مگر اصرار تھا کہ مجھے یا تو کسی کی ”نظرلگ گئی ہے“ یا کسی حاسد کے جادو ٹونے کا نشانہ بن گیا ہوں۔مجھے انتظار کی نہیں ”روحانی توڑ“ کی ضرورت ہے۔ والد مرحوم کے خوف سے مگر وہ اپنے خیال کو خود تک محدود رکھے ہوئے میری ہکلاہٹ دور کرنے کے لئے کسی مخصوص مزار کی تلاش میں مصروف رہیں۔ پتہ نہیں کیوں اور کیسے بالآخر انہوں نے دریافت کیا کہ مجھے چند جمعراتیں بی بی پاک دامن کے مزار پر لے جاکر میری ہکلاہٹ دور کی جاسکتی ہے۔ وہ ”خفیہ مشن“ کی طرح مجھے وہاں لے جانا شروع ہوگئیں۔ بی بی پاک دامن کے مزار کو جاتے ہوئے مجھے ان سے بارہا وعدے کرنا پڑتے کہ میں اپنے والد کو اس مشن کی بابت کچھ نہیں بتاﺅں گا۔
میں یہ بات ہرگز طے نہیں کرسکتا کہ میری ہکلاہٹ بالآخر میرے والد کے تجزیے کے مطابق چند مہینے گزرجانے کے بعد خودبخود دورہوگئی یا اسے دور کرنے کا اصل سبب میری والدہ کا ”خفیہ مشن“ تھا۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو۔ میری ہکلاہٹ نہ صرف دور ہوگئی بلکہ مجھے ریڈیو پاکستان لاہور نے جو آوازوں کی تلاش کے معاملے میں کافی کڑا معیار برقرار رکھے ہوئے تھے مجھے سکول براڈکاسٹ کے چند پروگراموں میں حصہ لینے کے لئے ہر ہفتے مدعو کرنا بھی شروع کردیا۔
میں اپنے گھر سے ریڈیو پاکستان ہمیشہ پیدل جایا کرتا تھا۔ ریلوے سٹیشن سے ڈیوس روڈ کی طرف مڑتا جس کے سرے پر اس سڑک کا نام ”شاہراہِ عبدالمجیدبن بادیس“ ایک بڑے پتھر پر لکھا ہوتا تھا۔ لاہور کے کسی بھی رہائشی نے اس سڑک کو مگر اس نام سے کبھی نہیں پکارا۔ بہرحال اس سڑک پر چلتے ہوئے میں جب بھی پاکستان ریلویز کا ہیڈکوارٹر کراس کرتا تو مجھے ہمیشہ اپنی والدہ کے ہمراہ بی بی پاک دامن کے مزار پر جانا ضرور یاد آجاتا۔
میں خود اس مزار پر اپنی ہکلاہٹ سے نجات پانے کے کئی سال بعد ان اخبارات کے لئے فیچرز وغیرہ لکھنے کو کئی بارگیا ہوں جہاں سے میں نے اپنی صحافت کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے اس مزار کو مخدوش سے مخدوش تر ہوتے دیکھا۔ اس سے ملحقہ قبرستان اگرچہ بہت تیزی سے بڑھتا گیا۔ بعدازاں اس مزار سے ملحق کئی ایکڑاراضی پر قبضہ گروپوں نے دُکانیںوغیرہ بھی بناڈالیں۔ قبضہ گروپوں کی بنائی دُکانوں کے علاوہ منشیات فروشوں نے اس مزار سے ملحقہ قبرستان کو بھی اپنے مکروہ دھندے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ لاکھوں اسرار اور بھید چھپائے وہ خاموشی جو میں نے اس مزار کے ہر سو پھیلے ہوئے اپنے بچپن میں دیکھی تھی اب بے ہنگم ہجوم، گند اور منشیات کی نذر ہوگئی۔ میری بچپن کی یادوں سے جڑا ایک اور سنگ میل تباہ وبرباد ہوگیا۔
تاریخ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مستند جسے ثابت کرنے کو دستاویزات وغیرہ بھی موجود ہوتی ہیں اور وہ تاریخ جسے ORALکہا جاتا ہے۔ جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ نسل در نسل منتقل ہوئی تاریخ نام نہاد”مستند“ تاریخ سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ لاہور کے قدیمی رہائشیوں کی ORALہسٹری کے مطابق واقعہ کربلا کے بعد حضرت علیؓ کی ایک دُختر بی بی رقبہؓ کسی نہ کسی طرح کچھ بیبیوں کے ہمراہ بالآخر اس مقام پر آکر پناہ گزین ہوگئی تھیں۔ ان کی بدولت اس مقام پر لاہور کی پہلی مسجد بھی قائم ہوئی جہاں داتا گنج بخشؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسی ہستیوں نے چند روز قیام کرکے چلے وغیرہ کی ریاضتیں بھی کی تھیں۔ یہ مقام لہذا مقدس اور تاریخی ہے اور اس کی کسی نہ کسی صورت بحالی لاہور کی تاریخ کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔
میرے ایک قاری نے مجھے ایک ویب لنک بھیجا ہے جس کی بدولت مجھے علم ہوا کہ پنجاب کے چند لوگوں نے اس مزار کے تحفظ وتوسیع کے لئے ایک باقاعدہ تنظیم بنارکھی ہے۔
قندھار سے کئی صدی قبل قصور میں آکر بسنے اور بعدازاں اسی شہر کو سکھوں سے بچانے کے لئے 30سال تک لڑنے والے ”حسن زئی“ قبیلے کی ایک شاخ ممدوٹ خاندان بھی تھا۔ اس خاندان کا قیامِ پاکستان کی تحریک میں کردار بھی کافی اہم رہا ہے۔اسی خاندان کی ایک خاتون جو ان دنوں پاکستان مسلم لیگ نون کی خاتون رکن قومی اسمبلی بھی ہیں جو اس تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لئے بہت محنت کررہی ہیں۔
اس خاتون رکن اسمبلی کا نام ڈاکٹر اسماءہے۔ان کی کاوشوں سے اس تنظیم کے ابتدائی اجلاس میں بیگم کلثوم نواز بھی تشریف لائی تھیں اور اس تنظیم کی معاونت کا وعدہ بھی کیا تھا۔بہر حال اس تنظیم کی کاوشوں سے شہباز صاحب نے خطیر رقم بی بی پاک دامن کے مزار کی بحالی اور وہاں تک پہنچنے کے راستے کو کشادہ بنانے کے لئے مختص بھی کردی۔ وہ رقم مگر مختص ہی رہی۔ قبضہ گروپ حالات کو جوں کا توں رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے۔
میری سردار ایاز صادق سے اس ضمن میں بات نہیں ہوئی۔ اس لئے میں اس الزام کی تصدیق کرنے سے قاصر ہوں کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ”اپنے حلقے“ میں مو¿ثر قبضہ گروپوں کے خوف سے اس مختص رقم کو خرچ نہیں ہونے دے رہے اور شہبازصاحب کو ان دنوں اورنج ٹرین بنانے اور چلانے سے فرصت ملے تو اور چیزوں پر بھی دھیان دیں۔ویسے انہیں یہ بات یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہکلاہٹ کے دورے ان پر بھی کبھی کبھار حاوی ہوجاتے ہیں۔ شاید ان کی ہکلاہٹ کا علاج بھی بی بی پاک دامن کے مزار کے لئے کچھ کرنے میں موجود ہو۔