’’بادشاہ‘‘ نواز شریف ، ’’شہزادی‘‘ مریم نواز اور عمران خان ‘‘

’’بادشاہ‘‘ نواز شریف ، ’’شہزادی‘‘ مریم نواز اور عمران خان ‘‘

پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف ،وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف ،وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحقٰ ڈار ، قومی اسمبلی کے ارکان حمزہ شہباز اور کیپٹن صفدر کو نااہل قرار دلوانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا ہے پیپلز پارٹی کی طرف سے آج الیکشن کمیشن آف پاکستان میں باضابطہ طور ریفرنس بھی دائر کر دیا جائے گا جب کہ تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی پر سبقت حاصل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کے اعلان کے اگلے ہی روز وزیر اعظم محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دلونے کے لئے الیکشن کمیشن میںریفرنس دائر کر دیااور اس کے بعد عمران خان نے اپنی’’ روزمرہ ‘‘کی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف ’’چارچ شیٹ ‘‘ جاری کر دی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جن کے درمیان ’’حقیقی اپوزیشن‘‘ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت کئے بغیر ہی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے ’’ پانامہ پیپرز لیکس ‘‘ کی تحقیقات کے لئے بننے والے اپوزیشن کے 9جماعتی اتحاد کا شیرازہ مجوزہ احتساب کمیشن کے ٹی او آر تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کے بعد ہی بکھر گیا تھاجب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے پانامہ پیپرز لیکس کی تحقیقات کے ٹی او آر میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کا نام شامل کرنے پر اصرار کیا تھا ۔ پہلے مرحلے میں عوامی نیشنل پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ ،بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اور قومی وطن پارٹی نے9جماعتی اتحاد سے ’’غیر اعلانیہ ‘‘ علیحدگی اختیار کر لی رہی سہی کسر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے نکال لی دونوں جماعتوں نے وزیر اعظم کے احتساب کے لئے سڑکوں پر آنے کی کال دینے کی بجائے ’’نا اہلی ‘‘ کا ریفرنس دائر کر دیا سیاسی حلقوں میں دونوں جماعتوں کی جانب سے لئے جانے والے ’’یو ٹرن‘‘ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے’’ عید کے بعد عید‘‘ کی نوید سنانے والا’’ سیاسی جوتشی ‘‘ جو عملاً عمران خان کا ’’سیاسی دماغ‘‘ ہے کے تیار کردہ ’’مستقبل کی خوش کن سیاست ‘‘ کے نقشے پر اپنی ’’پر شکوہ عمارت‘‘ تعمیر کررہے ہیں نے بھی چپ سادھ لی ہے بقول لال حویلی کے مکین وہ آنے والے دنوں ’’جوڈو کراٹے اور خانہ جنگی ‘‘ دیکھ رہیں وہ دونوں جماعتوں (پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف) کو حکومت سے تصادم کا درس دے رہے ہیں لیکن اچانک انہوں نے سڑکوں پر آنے کو اپنی آخری ترجیح قرار دے دیا یہ اچانک ’’یو ٹرن‘‘ کسی ڈیل کا نتیجہ یا کسی قوت کے اشارے پر نواز شریف کو نااہل قرار دلوانے کا بوجھ عدلیہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت ہونے والے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمائوں کے اجلاس میں شریف خاندا ن کے جن 6افراد کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ان میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا نام بھی شامل تھا لیکن جب پیپلز پارٹی کے قانون دانوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ مریم نواز کبھی کسی اسمبلی کی رکن ہی نہیں رہیں مریم نواز کے پاس تاحال کوئی عوامی عہدہ نہیں ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی نے نا اہلی کے لئے دائر کئے جانے والے ریفرنسوں میں سے مریم نواز کا نام ڈراپ کر دیا ۔ لیکن اس کے باوجود ملکی سیاست میں ابھرتی سیاسی شخصیت مریم نواز ہی ان کا ٹارگٹ ہے مریم نواز جنہوں نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ملک میں عدم موجودگی میں خوش اسلوبی سے ’’سیاسی مورچہ‘‘ سنبھال رکھا ہے یہی وجہ ہے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ان کے وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھنے پر معترض ہیں وزیر اعظم محمد نواز شرنواز یف کے خلاف اثاثے چھپانے کے الزام میں الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بنی گالہ میں اپنے محل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وہی راگ الاپا جو وہ پچھلے تین سال سے الاپ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں شریف خاندان کی ’’بادشاہت ‘‘ہے، ہم اپنے ’’ بادشاہ‘‘ نواز شریف کااحتساب کرنا چاہتے ہیں لیکن اب کی بار انہوں نے مریم نواز کو ’’شہزادی ‘‘ کا خطاب دے دیا اور کہا کہ کوئی عہدہ نہ ہونے کے باوجود وہ وزیراعظم ہائوس میں بیٹھ کر ’’کار سرکار‘‘ چلا رہی ہیں وہ کس قانون کے تحت وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھ رہی ہیں عمران خان کو یہ غم بھی کھائے جا رہا ہے کہ و زیر اعظم محمد نواز شریف نے خود اپنی ریٹرن میں مریم نواز کو اپنا زیر کفالت ظاہر کیا ہے مریم نواز جن کے اپنے ذرائع آمدن نہیں ہیں انہوں نے ’’مے فیئر‘‘ کا اپارٹمنٹ کس طرح خریدا ؟ ان کے اس الزام کا جواب تو پانامہ پیپرز لیکس (جو ایک ’’چوری شدہ‘‘ دستاویز ہے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ) کی تحقیقات کے لئے قائم ہونے والے عدالتی کمیشن میں ہی دیا جاسکے گا دراصل مریم نواز کو اس لئے ٹارگٹ بنایا جار رہا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں اپنے والد میاں نواز شریف کی ’’سیاسی جانشین‘‘ کے طور پر سامنے آرہی ہیں ۔ عمران خان کا کہنا ہے مسلم لیگ (ن)جمہوری نہیں آمرانہ سوچ رکھنے والی پارٹی ہے،اگر جمہوری جماعت ہوتی تو مریم نوازوزیراعظم ہائوس نہ بیٹھتیں اپوزیشن جماعتوں کو مریم نواز کا وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھنا ہضم نہیں ہو رہا ۔شاید ان کو اس بات کا علم نہیں ان کی اس تنقید کے پیش نظر ہی مریم نواز کو حکومت میں اہم عہدہ دیا جا رہا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی وطن واپسی پر انہیں مشیر بنائے جانے کا امکان ہے ان کا منصب وفاقی وزیر کے برابر ہو گا وزیر اعظم کی کوشش رہی ہے کہ ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی حکومتی ذمہ داری نہ سونپی جائے لیکن ان کی علالت کے دوران انہوں نے جس خوش اسلوبی سے سیاسی امور پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے اب وہ ان کی مشیر کی حیثیت ہاتھ بٹائیں گی ۔ مریم نواز نے ملکی سیاست میں سرگرم حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ بہت جلد مسلم لیگ(ن) کے جلسوں سے خطاب کریں گی ۔ انہوں نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ملک میں عدم موجودگی میں ’’سیاسی مورچہ‘‘ سنبھالے رکھا وہ اپنے والد میاں نواز شریف کی عیادت کے لئے لندن نہیں گئیں سیاسی مورچہ سنبھالنے سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ’’قومی افق ‘‘ پر ان کی وزیر اعظم محمد نواز شریف کی’’سیاسی جانشین ‘‘ کی حیثیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے یہی وجہ ہے اب اپوزیشن کی توپوں کا رخ مریم نواز کی طرف ہے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمدنوازشریف نے مریم نوازکے حوالے سے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے کچھ ایسی ہی صورت حال پیپلز پارٹی کی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف عمران خان وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نااہلی کے لئے اس الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں جسے وہ پاکستان کا نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کا الیکشن کمیشن قرار دیتے ہیں ان کے خیال میں الیکشن کمیشن نے پاکستان میں جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے یہ بات قابل ذکر ہے تحریک انصاف اورپیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے جو اس وقت نامکمل ہے جس کے4ارکان کی تقرری کے لئے 12رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم ہو گئی ہے ممکن ہے ہفتہ عشرہ میں اس کے ارکان کی تقرری پر اتفاق رائے ہو جائے بصورت دیگر تقرری کے عمل میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے قانون کے مطابق کسی اسمبلی یا سینیٹ کے منتخب رکن کے خلاف الیکشن کمیشن میں براہ راست ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا منتخب رکن کے خلاف نا اہلی کی درخواست متعلقہ ادارے(قومی و صوبائی اسمبلی ،سینیٹ) کے سربراہ کو ہی دی جاسکتی ہے لیکن دونوں جماعتوں نے دانستہ غلط راستہ اختیار کیاہے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا ڈرامہ رچایا ہے دوسری طرف مسلم لیگ(ن) نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی عید الفطر کے بعد پہلے اتوار واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پنجاب کے’’ دل ‘‘ لاہور میں تاریخی استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اس بات کا فیصلہ بھی وزیر اعظم ہائوس میں مریم نواز کی زیر صدارت میں ہوا ہے مسلم لیگ (ن) نے یہ سیاسی فیصلہ اپوزیشن کے ’’سیاسی چیلنجوں اور جلسہ جلسہ ‘‘ کی سیاست کا جواب دینے کے لئے کیا ہے اگرچہ یہ کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم کا استقبال میاں نواز شریف کی اجازت سے مشروط ہے لیکن وزیر اعظم ہائوس میں مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس بلاوجہ نہیں تھا شنید ہے مریم نواز عید الفطر کے بعد آزاد جموں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں جلسوں سے خطاب کریں گی انہوں نے کئی سالوں سے اپنے آپ کو ’’وزیر اعظم ہائوس اور جاتی امرا‘‘ میں قید کر رکھا تھا اب وہ آنے والے دنوں میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو ٹوئیٹرپر جواب دینے کی بجائے جلسوں میں جواب دیں گی شاید نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ان کے مقابلہ کے لئے قدرے’’ جواں اور توانا آواز‘‘ میدان سیاست میں موجود ہوگی مریم نواز بے نظیر بھٹو کی جگہ تو نہیں لے رہیں لیکن’’ سیاسی سوچ اور تعلیم ‘‘کے لحاظ سے ان سے کم نہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر جس طرح تحریک انصاف کا تعاقب کیا وہ اپنی مثال آپ ہے انہوں نے سوشل میڈیا پر نہ صرف تحریک کو شکست دی ہے بلکہ اپنی برتری تسلیم کرالی ہے اب وہ میدان سیاست میں بھی اپنی حیثیت تسلیم کرالیں گی۔