جس کا میں مولا اُس کا علیؓ مولا

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
جس کا میں مولا اُس کا علیؓ مولا

آج 21 رمضان ہے۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کا یوم شہادت ہے۔ آپ کی شہادت مسجد میں ہوئی نماز کے دوران سجدے کی حالت میں عبدالرحمن ابن ملجم نے خنجر سے وار کیا۔ آپؓ امامت فرما رہے تھے۔ اس موقع پر آپؓ نے تاریخی جملہ کہا۔ اللہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے بڑی کامیابی اور کیا ہو گی۔ ولادت اللہ کے گھر (کعبہ) میں ہوئی شہادت اللہ کے گھر (مسجد) میں ہوئی۔ 

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
زخمی حالت میں باپ کو بیٹے سہارا دے کے لے جا رہے تھے۔ صبح کا اجالا اندھیرے کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ اجالے کی طرح اچھے انسان امام علیؓ نے دوسرا جملہ دور آسمان پر اجالے کی آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے ستارے کو مخاطب کر کے کہا ”گواہ رہنا زندگی بھر علی نے تجھے طلوع ہوتے دیکھا ہے، تو نے کبھی علی کو سویا ہوا نہیں دیکھا“۔
قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔ خوف زدگی کے عالم میں اس کی حالت عجیب تھی۔ اُسے بُری طرح پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ مولا علیؓ نے فرمایا۔ جو شربت کا پیالہ میرے لئے لائے ہو پہلے ابن ملجم کو پلا¶۔ اُسے زیادہ ضرورت ہو گی۔ انہوں نے اس کے بعد اپنے بیٹوں کو وصیت کی۔ میں زندہ رہا تو ابن ملجم کو معاف کر دینا۔ دوسری صورت میں قصاص لینا تمہارا حق ہے۔ میں شہید ہو جا¶ں تو اُسے ایک ہی ضرب لگانا۔ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے۔ میری شہادت کے بعد تلواریں نیام سے نکال کر قتل عام نہ شروع کر دینا۔ صرف ابن ملجم سے انتقام لینا۔ دونوں بیٹوں کو وصیت فرمائی اور یہ وصیت سب کے لئے ہے۔ ہمیشہ ظالم کا دشمن رہنا اور مظلوم کا ساتھ دینا۔
ہم محترم المقام علامہ محمد حسین اکبر کی قیادت میں کربلا میں حاضر ہوئے۔ سات دن تک یہاں رہے۔ یہاں سے ہم نجف اشرف کوفہ اور بغداد بھی گئے۔ دیر تک مسجد کوفہ میں پھرتے رہے۔ یہاں کئی پیغمبروں کی سجدہ گاہیں بھی دیکھیں۔ وہ چشمہ بھی یہاں موجود ہے جہاں سے طوفان نوح پھوٹا تھا۔ کوفہ مولا علیؓ کا صدر مقام تھا۔ مسجد کوفہ دنیا کی پرانی مسجدوں میں سے ایک مسجد ہے۔ شہید محراب مسجد ہونے میں اولیت مولانا علیؓ کو حاصل ہے۔ آپ کو غسل آپ کے بیٹوں امام حسنؓ اور امام حسینؓ نے دیا۔ شاندار مسجد کوفہ سے ہم مولا علی کی رہائش گاہ کو چلے۔ چند منٹوں کی مسافت پر ایک چھوٹا سا گھر ہے آثار قدیمہ کے محکمے والوں نے اس کی حفاظت کے لیے کچھ تزئین کر دی ہے مگر یہ بہت سادگی اور آسودگی میں لپٹا ہوا گھر ایک عظیم الشان گھر ہے۔ اس گھر میں حسن و حسین (حسنین) کا کمرہ بہت چھوٹا سا کمرہ ہے۔ ساتھ آپ کی عظیم صاحبزادی حضرت زینبؓ کا کمرہ ہے۔ دل کو فاطمہ اور زینب دونوں نام بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس سے خوبصورت بامعنی اور زندہ نام کہیں اور نہ ہونگے۔ دونوں کی نسبت مولانا علیؓ سے جا کے ملتی ہے۔ اصل نسبت رسول کریم حضرت محمد کی ہے۔ فاطمہؓ بنت محمد اور زینبؓ بنت علیؓ۔ زینبؓ نہ ہوتی تو کربلا کو یاد کرنے والا کوئی نہ ہوتا۔ دربار یزید میں ان کی تقریر نے زمانے کی تقدیر بدل دی۔ مولا علیؓ حضرت فاطمہ الزہرا کے شوہر اور حضرت زینب کے بابا تھے۔ امام حسینؓ رسول کے نواسے علیؓ کے بیٹے ہیں۔ انسان بیدار ہوتا جا رہا ہے اور ہر قوم پکار رہی ہے۔ ہمارے ہیں حسینؓ۔ یہ کیا راز ہے۔ کربلا میں ہر طرف ایک ہی آواز گونجتی تھی۔ حسینؓ، حسینؓ۔ نجف اشرف میں یہ نعرہ بار بار لگتا ہے۔ نعرہ حیدری۔ یا علی، یا علی۔
مولا علیؓ نے فرمایا۔ ان کے مخاطب صرف اس وقت کے لوگ نہ تھے۔ یہ اقوال زریں ہیں اور سارے انسانوں سارے زمانوں کے لئے ہیں۔ یہ بات خود مولا علیؓ کی زندگی کی ایک حقیقت کی طرح آج بھی دمک رہی ہے۔ لگتا ہے جیسے وہ آج کے لوگوں سے مخاطب ہیں۔
”بے آبرو ہو کے جینا گندی موت سے بھی بدتر ہے اور موت کو آبرومند ہو کر گلے لگانا زندگی سے بڑھ کر ہے“۔ وہ شاعر تھے دانشور اور بہادر، تصوف کے چار سلسلوں میں سے تین مولا علی سے جا کے منسوب ہوتے ہیں۔ ایک سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ سے جا کے ملتا ہے۔ وہ بہت بڑے صوفی تھے، اور صوفی نامعلوم راستوں کا مسافر نادیدہ قوتوں کا مالک ہوتا ہے۔ وہ ربط و ضبط کے وارث اور ضبط کے سردار ہوتے ہیں۔
ایک حریف کو گرا کر مولا علیؓ اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے۔ اس سے پہلے کہ خنجر اُس کافر کے سینے میں اتار دیتے۔ اُس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ آپؓ اس کے سینے سے اٹھ آئے۔ وہ بہت حیران ہوا، اور پریشان ہوا۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کر رہا تھا۔ اب میری اپنی ذات اس میں شامل ہو گئی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بھی غصہ آ گیا ہے۔ یہ بات بے لوث طور پر نہیں کر رہا ہوں۔ اس لئے میں تمہیں قتل نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ”میں اللہ کے لئے تلوار چلاتا ہوں کیونکہ حق تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اپنے جسم کا غلام نہیں۔ میں شیر خدا ہوں۔ میرے دین پر میرا عمل گواہ ہے۔
مولا علیؓ کے ارشادات ایک جذبے کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔ وہ رسول کریم حضرت محمد کی حدیث کے اسلوب کو محبوب رکھتے ہیں۔ وہ امیر المومنین ہیں۔ خلیفة المسلمین خلیفہ راشد رفیق پیغمبر داماد رسول تاج سر بتول حیدر کرار فاتح خیبر شیر خدا حضرت امام حسینؓ کے والد آپ نے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی حقیقتیں بیان کر دی ہیں۔ چند جملے ملاحظہ کریں۔
٭ بارش کا قطرہ سیپی اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپی اُسے موتی بنا دیتی ہے اور سانپ اُسے زہر۔
٭ کوشش کرو کہ تم دنیا میں رہو۔ دنیا تم میں نہ رہے۔ کیونکہ کشتی جب تک پانی میں رہتی ہے خوب تیرتی ہے۔ جب پانی کشتی میں آ جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔
٭ شرافت عقل و ادب سے ہے نہ کہ مال و نسب سے ہے۔
٭ اگر کسی پر بھروسہ کرو تو آخر تک کرو۔ آپ کو ایک اچھا دوست ملے گا یا پھر ایک اچھا سبق۔