رہبر پاکستان کی یاد میں

کالم نگار  |  نعیم احمد
رہبر پاکستان کی یاد میں

رہبر پاکستان محترم مجید نظامی مرحوم کی ساری زندگی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کی خاطر جہاد بالقلم میں گزری۔ وہ اس مملکتِ خداداد کی محبت میں انتہا پسند تھے۔ اس کے بنیادی مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح تھا۔اس امر پر وہ فخر کرتے تھے۔ قلم کے تقدس‘ لفظ کی حرمت پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ اپنی اصول پرستی سے اہلِ قلم کا اقبال بلند کیے رکھا۔ مجیب الرحمن شامی نے ایک بار کہا تھا کہ ”مجید نظامی کا اہلِ صحافت میں وہی مقام ہے جو شاعروں میں علامہ محمد اقبال کا ہے۔“ بے شک! اگر کوئی اپنے قلم کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر راج کرنا چاہتا ہے تو اسے محترم مجید نظامی کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے ممکنہ نتائج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہر جابر سلطان کے روبرو کلمہ¿ حق بلند کیا اور اس کی پاداش میں ہونے والے نقصانات کو بڑی استقامت سے برداشت کیا۔ صحافتی وقار کے لیے ان کی جدوجہد ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ 

وہ بابائے قوم کے ایک بے لوث سپاہی تھے۔ تحریکِ قیامِ پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے جان و مال اور عزت و آبرو کی بیش بہا قربانیوں کا بچشم خود مشاہدہ کیا تھا‘ لہٰذا پاکستان کے خلاف کوئی بات سننے کے ہرگز روادار نہ تھے۔ وطن عزیز کے خیرخواہوں کو جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے اور بد خواہوں کو صریح دشمن تصور کرتے تھے۔ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے شدت سے متمنی تھے۔ ان کے نزدیک کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔ چنانچہ اس کی تکمیل کی خاطر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف جہاد کی وکالت بڑی شدّومد ّکے ساتھ کرتے تھے۔ خود کو ”سرٹیفائڈ مجاہد“ کہتے تھے کیونکہ قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے جدوجہد آزادی میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں ”مجاہد پاکستان“ کا سرٹیفکیٹ اور شمشیر عطا کی تھی۔ کشمیر کاز سے اٹوٹ وابستگی کی بناءپر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام انہیں ”مجاہدِ کشمیر“ کے لقب سے یاد کرتے ہیں‘ اپنا محسن سمجھتے ہیں۔
خارزارِ صحافت میں قدم رکھتے وقت جن اصولوں کو اپنایا‘ تادمِ آخر ان پر مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ ناموافق حالات اور حکومتی دھونس کے سامنے ان کی اولوالعزمی ان نوجوانوں کے لیے مینارہ¿ نور کی حیثیت رکھتی ہے جو میدانِ صحافت میں طبع آزمائی کا شوق رکھتے ہیں۔ دراصل اللہ بزرگ و برتر نے انہیں بے مثال قوت ایمانی سے بہرہ مند فرمایا تھا‘ اس لیے تندوتیز ہواﺅں میں بھی حق و سچ اور حریت فکر کی مشعل فروزاں رکھی۔ اس نابغہ¿ روزگار شخصیت کو ہم سے جدا ہوئے تین سال بیت چکے ہیں مگر ان کی یاد ایک لمحے کے لیے ہمارے دل و دماغ سے محو نہیں ہوئی۔ ان کے اعلیٰ و ارفع آدرش‘ ان کا آئینِ حق گوئی و بیباکی‘ ان کی استقامت‘ ان کا بڑاپن ہمارے فکر و عمل کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ نظریہ¿ پاکستان کے پاسبانِ اعلیٰ کی حیثیت سے وہ ایسے بے شمار مجاہد تیار کرگئے جو مادروطن کی حرمت پر‘ اس کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ پر جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے خود کو پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے وقف کررکھا تھا اور اس مقصد کے لیے کئی اداروں کی داغ بیل ڈال گئے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ہو یا تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ، ایوانِ اقبال ہو یا ایوانِ قائداعظم، یہ سب ادارے بانیانِ پاکستان کے فکر و عمل کی روشنی میں قوم سازی کا عظیم الشان فریضہ انجام دینے کے لیے قائم کیے گئے۔ اہلِ صحافت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کی خاطر قائم کردہ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان بھی انہی کی مساعی¿ جمیلہ کا ثمر ہے۔
تحریکِ پاکستان، تحریکِ ختم نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفی، تحریکِ تحفظ ناموس رسالت، تحریکِ بحالی جمہوریت، کشمیری عوام کی تحریک حقِ خودارادیت ہوں یا بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی امداد کا معاملہ‘ ہر موقع پر محترم مجید نظامی صفِ اول میں دکھائی دیے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کی اُمنگوں اور جذبات کا پورا ادراک رکھتے تھے‘ ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے تھے۔ اللہ کریم نے انہیں دنیاوی لحاظ سے بڑے بلند مرتبے سے نوازا تھا مگر انہوں نے کبھی عجز و انکسار کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر کے طور پر انہوں نے ہمیشہ عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ انہی کی صف میں کھڑا رہنے کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام آج بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں‘ انہیں محبت و عقیدت سے یاد رکھتے ہیں۔ شرق وغرب‘ شمال و جنوب نگاہ ڈال لیں‘ ان کا نعم البدل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے دیدہ ور کو منظر عام پر لانے کی خاطرنرگس کو ہزاروں سال رونا پڑتا ہے۔ وہ ایک لیجنڈ تھے جو روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے‘ جو بظاہر دنیا سے پردہ فرماجاتے ہیں مگر بباطن اپنے عقیدت مندوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ ان کی روحانی طاقت اپنے پیروکاروں کو اس امر کی ترغیب دیتی رہتی ہے کہ وہ ان آدرشوں کو مشعل راہ بنالیں جن پر وہ زندگی بھر عمل پیرا رہے۔
وہ اہلِ قلم کے امام تھے جن کے مقتدی آج بھی وطن کا قرض اُتارنے میں پیش پیش ہیں۔ ان کے ملفوظات آج بھی ان وطن فروش عناصر پر لرزہ طاری کررہے ہیں جو پاکستان کو بھارت کی ایک تابع فرمان ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ وہ قافلہ¿ نظریہ¿ پاکستان کے سالارِ اعلیٰ تھے جن کے عَلم تلے وہ تمام پاکستانی متحد ہیں جو پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے علمبردار ہیں۔ اس بطل حریت کی تیسری برسی پرنظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں خصوصی نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ محترم محمد رفیق تارڑ نے کی۔
مقررین نے محترم مجید نظامی کی قومی، ملی اور صحافتی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے فکر و عمل کو مشعل راہ قرار دیا اور کہا کہ وہ عہد حاضر میں نظریہ¿ پاکستان یا دو قومی نظریے کے سب سے بڑے علمبردار اور مبلغ تھے جن کے نقش قدم پر گامزن ہو کر قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے نظریات و تصورات کے مطابق وطن عزیز کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اظہار خیال کرنے والی مقتدر شخصیات میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ مجیب الرحمن شامی‘ جسٹس(ر) آفتاب فرخ، سعید آسی، جمیل اطہر، چوہدری نعیم حسین چٹھہ، پروفیسر عطاءالرحمن، مولانا محمد شفیع جوش، بیگم مہناز رفیع، آزاد بن حیدر، مولانا امیر حمزہ، صاحبزادہ سلطان احمد علی، رانا محمد ارشد، خورشید احمد، صاحبزادہ پیر ہارون گیلانی، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم صفیہ اسحاق اور بیگم غزالہ شاہین شامل تھے۔ اس موقع پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن جسٹس(ر) خلیل الرحمن اورٹرسٹ کے چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف بھی موجود تھے۔ نشست کی نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے انجام دیے اور حاضرین کو آگاہ کیا کہ نظریہ¿ پاکستان فورمز کے تحت نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یوم مجید نظامی کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رہبر پاکستان کے وضع کردہ اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے پاکستان کو ایک جدید اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں محترم مجید نظامی کے ایصال ثواب کےلئے محفل قرآن خوانی بھی منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ‘ تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ‘پاکستان بنگلہ دیش برادر ہڈ سوسائٹی، تنظیم العارفین ‘ آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن اورتحریک تکمیل پاکستان کے عہدیداران اور کارکنان نے قبرستان میانی صاحب میںواقع محترم مجید نظامی کے مرقد پر حاضری دی‘ پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور اُن کے بلندی ¿ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔