پاکستانی جرنیلوں کا دھرتی ماں کا تحفظ اور برہمن دیوارِ فتنہ

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشن کی میٹنگ میں یہ طے پایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری کے بارڈر علاقے میں دونوں ممالک سیز فائر برقرار رکھیں گے اور جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کیلئے میکنزم بنانے‘ بریگیڈیئر کی سطح پر ملاقاتیں کرتے رہنے‘ ہاٹ لائن رابطہ برقرار رکھنے‘ غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کیلئے نئی پالیسی‘ اعتماد سازی بڑھانے پر اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ڈی جی ایم او میجر جنرل عامر ریاض اور بھارت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیہ نے اپنے اپنے وفد کی قیادت کی۔ دوسری طرف پاکستان‘ بھارت رینجرز اور بارڈر سکیورٹی فورس (بھارتی پی ایس ایف) کے درمیان ششماہی میٹنگ ہوئی جس میں بھارتی بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل شری سوبیش جوشی کے 13 رکنی وفد نے پاکستان رینجرز (پنجاب) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خان طاہر جاوید کی سربراہی میں متنازعہ امور اور مستقبل کے لائحہ عمل پالیسی پر مذاکرات کئے۔ پاکستانی وفد میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ پاکستان رینجرز کی طرف سے میجر جنرل خان طاہر جاوید نے ورکنگ باﺅنڈری اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے ملحقہ متنازعہ بارڈر پر بھارتی فورس کی بلاجواز‘ بلااشتعال فائرنگ‘ شراب‘ منشیات کے سمگلروں کے بھارتی بارڈر فورس کی سرپرستی میں پاکستان داخلے‘ جاسوسوں کے نیٹ ورک مع ثبوت‘ بھارتی چھوٹے طیاروں‘ ہیلی کاپٹر یا جاسوس طیاروں کے پاکستان کی جاسوسی و سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کے معاملات بہت سنجیدگی اور پُرزور انداز میں اٹھاتے ہوئے بھارتی جنرل اور ان کی ٹیم کو زمینی حقیقت‘ اصل صورتحال‘ دلائل ‘ ثبوتوں سے لاجواب کرکے پاکستانی مو¿قف کو سچ ثابت کر دکھایا۔ نیز میجر جنرل خان طاہر نے چناب رینجرز کے متعدد سیکٹروں میں گزشتہ تین ماہ کی بھارتی فائرنگ‘ مارٹر گولہ باری‘ ہتھیاروں کی پُرامن محاذوں پر بے گناہ شہریوں اور مویشیوں کی ہلاکتوں اور نقصانات کا معاملہ بھی اٹھایا جس پر بھارتی افسران کھسیانے ہوکر جھوٹا الزام لگاتے رہے کہ پاکستان کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی۔ بھارت کے جرنیل بغیر اطلاع‘ بلا اشتعال بھارتی حملوں کا کوئی ٹھوس جواب دینے میں ناکام رہے۔ یہی صورتحال پاکستان سے ”در اندازی“ اور سمگلنگ کے جھوٹے بھارتی الزامات کے دوران پیش آئی۔ بھارتی بارڈر فورس کو بتایا گیا کہ خشک مٹی پر پاﺅں کے نشانات بتاتے ہیں کہ جاسوس اور سمگلر بھارتی علاقے سے پاکستانی علاقے میں داخل ہوتے ہیں اور یہ بھارتی بارڈر فورس کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے کیونکہ بھارت نے 16 فٹ بلند تاریں اور لوہے کے ناقابل عبور گیٹ لگا رکھے ہیں جو کھول کر بھارتی بی ایس ایف جاسوس اور سمگلر پاکستان بھیجتی ہے جن میں سے اکثر یا ہمارے رینجرز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں یا گرفتار ‘ زخمی ہوتے ہیں۔ بھارت کے الزام کو پاکستان رینجرز نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ بھارتی طاقتور سرچ لائٹوں‘ قریب قریب ناکہ بندی‘ بلند تاروں کی باڑھ‘ رات کو دیکھنے والی دوربینوں کے ہوتے بھارت میں سمگلر نہیں جا سکتے۔
پاکستان رینجرز کے دلیر اور باغیرت سربراہ نے مادر وطن کے علاقے کا تحفظ کرتے ہوئے دفاعی، قومی سلامتی، قانونی دفاع، شہریوں کے جان مال کی حفاظت پاکستان رینجرز کے موقف اور ایکشن کا بڑی کامیابی سے دفاع کیا اور خصوصاً ”بھارٹی دیوار فتنہ“ جو مقبوضہ جموں و اکھنور، دریائے چناب کے قریب متنازعہ پاک بھارت بارڈر پر تعمیر کرنے کے منصوبے کو غیر قانونی اور دونوں ممالک کے مابین متنازعہ بارڈر پر پختہ تعمیرات نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کا باور کرایا اور انتباہ بھی کیا کہ بھارت باز رہے۔
بھارت نے امن و دوستی، تنازعات کے حل، سیز فائز کی پابندی کے اچانک فیصلے اور عملی اقدامات نہیں کر لئے۔ بھارت نے پاکستان کی طرف سے آئندہ کسی ممکنہ جنگ میں جھمب جوڑیاں اور سرگ پور (ہیڈمرالہ) کے بارڈرز سے ٹینکوں اور توپوں کے حملے کو روکنے کےلئے جموں اور اکھنور شہروں کو محفوظ بنانے کیلئے امن دوستی کی آڑ میں ”بھارتی دیوار فتنہ“ بنانے اور مکمل کرنے کا”ہندو بنئے کی چال“ والا منصوبہ بنایا ہے تاکہ مستقبل میں سری نگر کو جانے والے سپلائی روٹ وغیرہ کو ہمیشہ کےلئے محفوظ بنا لیا جائے۔ یاد رہے کہ 12 سال قبل بھی جنرل مشرف نے بھارت سے امن مذاکرات اور کمپوزٹ ڈائیلاگ، کشمیر کے مرحلہ وار”حل“ کے اقدامات کئے اور جنگ بندی کی تھی۔ اس کا فائدہ بھارت نے اٹھا کر 200 کلومیٹر کے اپنے علاقے میں پختہ اور محفوظ بلند مورچے، تاروں کی باڑھ، جاسوسی کے برج، پل، رابطہ سڑکیں، مکمل کر کے جنرل مشرف کو مات دے ڈالی بھولے یا بکے ہوئے سابق جرنیل کو یہ بھی وژن نہ تھا کہ وہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لئے ”وقت دیتا رہا جیسے کارگل میں دراس، لیہہ، لداخ کے بھارتی مورچے فتح کر کے خالی کرنے کا جاہلانہ فیصلہ کیا اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کلنٹن کے پاس امریکہ بھیج کر جنگ بندی کروا لی اپنے سینکڑوں فوجی شہید کروا کر بھارت کو فتح کئے علاقے واپس کئے ۔یہ پیشہ وارانہ طور پر نالائق جرنیل ہونے کے ثبوت ہیں۔ آج کی فوجی قیادت اور سیاسی قیادت کے پاس ملک بچانے کا اختیار ہے اور قومی مفادات کی نگہبانی کا بھی۔ شکر خدا کا کہ آج آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ویژن کے مطابق ڈی جی ایم او میجر جنرل عامر ریاض اور ڈی جی رینجرزپنجاب میجر جنرل خان طاہر نے مقبوضہ جموں اور اکھنور شہروں کے سامنے متنازعہ ”بھارتی دیوار فتنہ انگیزی“ کا مسئلہ بڑے زور سے قومی غیرت کے تقاضوں کے عین مطابق اٹھا کر فوجی اور رینجرز قیادت کا مشترکہ سچا موقف بھارتی ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کو بتا دیا ہے کہ یہ غیر قانونی دیوار کی تعمیر امن کو نقصان پہنچائے گی۔ میجر جنرل عامر ریاض نے بھارتی وفد کو بتایا کہ وہ ماضی میں بلاجواز پاکستانی فورسز اور عام دیہات شہریوں پر گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ اب معاہدہ کیا ہے تو اسے برقرار رکھنا بھارت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی بھارت کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی ”پہلے حملہ“ کر کے محاذ کھولا یا معاہدہ یا قانون توڑا!! یہ ہمیشہ بھارت ہی کرتا ہے جب مقبوضہ کشیر میں مجاہدین بھارتی افواج کو مارتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ فوجی جرنیلوں نے قومی مفادات کا جو تحفظ کیا ہے اور مذاکرات کی میز پر جیتے ہیں اس عمل کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بھارتی وزیراعظم سے بھی زیادہ زور سے اٹھائیں تاکہ”جموں“ کے سامنے ”بھارتی دیوار فتنہ“ تعمیر ہونے سے روکی جا سکے!