تہہ در تہہ دولت مند اور یوم ولادت قائد!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک

پاکستان بننے کے بعد مغربی پاکستان کی وزیر صحت ایک محترمہ تھیں اور کچھ زیادہ ہی صحت مند تھیں۔ صحافیوں نے انہیں ’’وزیر صحت مند‘‘ کا بھی خطاب دیا اور یہ جملہ بھی چست کیا ’’تہ در تہ   صحت مند‘‘ لیکن کل ’’تہہ در تہہ دولت مندوں‘‘ کی فہرست سامنے آئی اور 25 دسمبر کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یوم ولادت بھی تھا۔ جس عظیم شخصیت نے ہمیں یہ ملک لیکر دیا تھا اور  اسی روز تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن لیجنڈ صحافی، اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ آج سے زیادہ مبارک دن کوئی اور نہیں ہے اور پھر یہ بھی کہا کہ پاکستان اللہ کا تحفہ ہے۔ قائداعظم اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے  تھے… تو پھر یہ دولت حاصل کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کر لینے والوں کی تجربہ گاہ کیسے بن گئی؟ اس فہرست کے مطابق تو اس غریب ملک کے وزیراعظم سب سے امیر آدمی ہیں۔ جبکہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ان کے بعد سب سے امیرآدمی ہیں۔ شاید چھوٹے بھائی نہیں ہیں اس لئے یہاں بھی ’’حفیظ مرتب‘‘ کا خیال رکھا گیا ہے عمران خان کے اثاثے فی الحال ان دونوں شخصیات کی نسبت کم ہیں کیونکہ ان کا سیاسی کردار اور اقتدار بھی ان کی نسبت کم ہے فہرست کے مطابق باقی کے بے چارے کروڑ پتی، لکھ پتی تو ان کے آگے غریب نظر آتے ہیں سوال یہ ہے کہ پاکستان بنتے وقت بھی یہ اتنے امیر تھے کیونکہ قائداعظم نے جب یہ ملک پاکستان بناکر اس قوم کو سونپا تھا تو اس نومولود ملک کے اندر وسائل کی بیشمار کمی تھی اور اقتصادی حالت ناگفتہ بہ تھی تو پھر 66 سال کے بعد پاکستانی عوام تو وہی سوال کر رہی ہے کہ خدارا ہماری معاشی حالت بگڑی جا رہی ہے اور ملک کے اندر توانائی کے بحران کے علاوہ اور مسائل بھی موجود ہیں نہ تو کوئی انڈسٹری لگ رہی ہے نہ نئی ملازمتوں کے امکانات ہیں بڑے بڑے ادارے تباہ کر دیئے گئے ہیں اور اگر بڑے بڑے اداروں کے سربراہان اور بیوروکریٹس کی چھان بین کی جائے تو وہ بھی کروڑوں کے مالک نکلیں گے تو کیا یہ لوگ 66 سال قبل اس ملک میں اتنی امارات لیکر وارد ہوئے تھے…  یعنی کہ ’’تہہ در تہہ دولت مندی‘‘ قائداعظم کی کوششوں سے حاصل کئے گئے اس ملک کی وجہ سے ان لوگوں کو حاصل ہوئی اور ان سیاستدانوں کی جیبوں میں چلی گئی اور ملک کے تمام تر وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ہوتا چلا گیا۔ اس لئے 66 برس کے بعد ان امیروں اور غریب ملک کی غریب عوام کے درمیان کے فرق کو محسوس کیا جا سکتا ہے کیونکہ معاملہ یہاں ختم ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ امارات اور دولت مندی کا یہ سلسلہ مستقبل میں آگے کی نسلوں تک بڑھنے کے امکانات نظر آ رہے ہیں اور ایسے میں بھی قائداعظم اور اس ملک کے عوام کے لئے ان کے دلوں میں احساس تشکر نہیںپایا جاتا اور ان میں سے شاید ہی کوئی سچے دل سے عقیدت اور محبت کا وہ اظہار کرتا ہے جو ’’نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کے پلیٹ فارم پر نظر آتا ہے جس کے ہر اجتماع میں پاکستانی طلبا و طالبات، محب وطن دانشور سکالر خواتین اور تحریک پاکستان کے کارکنان کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں اور یہ دن ’’تہوار‘‘ کی شکل اختیار کر جاتا ہے ورنہ تو ’’رسم کیک کٹائی‘‘ کی چھریوں پر ہاتھ رکھ کر محض تصویر تصویر بنانے والے بھی بہت سارے نظرآ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کراچی مزار قائد پر ان کے قریبی عزیزوں کو وہ تصویر بھی نظر آتی ہے کہ جس میں بانی پاکستان کے عزیزواقارب سادہ سادہ سے کپڑوں میں فاتحہ خوانی کر رہے ہوتے ہیں اور  دراصل تو قائداعظمؒ کے عزیز واقارب اور پاکستانی  عوام کی موجودہ معاشی صورتحال ملتی جلتی نظر آتی ہے کہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم نے تنخواہ کے آخری چیک پر دستخط کئے تو ان دستخطوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نحیف قائداعظم کے  ہاتھ کتنے لرز رہے تھے  آج 66 سال کے بعد پاکستان میں ایک بھی ایسا لیڈر موجود نہیں کہ جسے لرزتے ہاتھوں سے تنخواہ کا چیک وصول کرنا پڑتا ہو اور وہ تنخواہ کے انتظار میں بیٹھا نظر آتا ہو، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کی ساری دولت پر ان کا حق ہے اور ان میں سے ایک شخص بھی ایسا  نہیں ہے  کہ جو اپنے کچن میں ایک عام  پاکستانی شخص کے برابر کی خوراک کھاتا ہو بلکہ ایک پورے بڑے پاکستانی کنبے کی ضروریات کے برابر بچی ہوئی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے اور یہ منظر سرکاری سیمینارز اور تقریبات میں بھی آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے اس لئے جب دوسرے ممالک سے مہمان سربراہان یا دوسرے لوگ آتے ہیں تو پاکستان کا ایک  اور ہی نقشہ دیکھ کر واپس جاتے ہیں جس کا ایک بات سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کہ ’’سی این جی‘‘ کے لئے سردی میں لمبی قطاروں میں عوام سردی میں کھڑی…… اس ملک کی معاشی مہنگی اور توانائی کے بحران میں کن مشکلات کاشکار ہے جبکہ مہنگائی کے ہر روز کے اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے مگر یہ ساری باتیں ان لوگوں کو کہاں سمجھ میں آئیں گی کہ جن کے اثاثوں کا واضح فرق قائداعظم کی سالگرہ کے موقع پر عیاں ہوا ہے اور امریکہ کے سامنے بھی ان کے سرجھکے ہوئے ہیں اور اس لئے ان میں سے کوئی بھی شخص قائداعظم کا یہ جملہ نوٹ نہیں کرتا جو ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ ’’قائداعظم پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے اور ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ راستہ بھی دکھا دیا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعاون کو مضبوط اسلامی بلاک کی بنیاد بنایا جائے!!