اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

جس کی بھی سالگرہ 25 دسمبر کو ہے۔ وہ دہری مبارکباد کا مستحق ہے۔ مسلم لیگ ن کے متوالے وزیروں اور کارکنوں نے نوازشریف کی سالگرہ منائی۔ کیک پر چڑھائی کی۔ جیالوں، جیالیوں اور متوالوں، متوالیوں میں فرق مٹ گیا ہے۔ عمرانوں اور عمرانیوں کا حال بھی یہی ہے۔ ایک آدمی جس کی تصویر اخبار میں شائع ہوئی ہے وہ خود ایک بڑا سا کیک لگ رہا ہے۔ اس تصویر کو بیان نہیں کیا جا سکتا صرف دیکھا اور انجوائے کیا جا سکتا ہے۔ پنجابی زبان میں کوشش کرتا ہوں۔ ”منہ کیک سے تھپا ہوا۔ کپڑے لبڑے ہوئے“۔ اس گمنام بلکہ بے نام آدمی نے یہ تصویر خاص طور پر سنبھال کر اپنے بٹوے میں رکھی ہوئی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ بٹوے میں سنبھال رکھنے سے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ یہ تصویر کس کام آئے گی ایسی تصویریں کئی لوگوں کے پاس ہیں۔ تصویریں پرانی نہیں ہوتیں اور تقدیریں بھی پرانی نہیں ہوتیں۔ نوازشریف تیسری بار آئے ہیں تو لگتا ہے کہ پہلی بار آئے ہیں۔ عوام کا وہی حال ہے۔ حکام کا بھی وہی حال ہے۔
نوازشریف کی سالگرہ منانے کی خوشی ہے۔ مگر ان دوستوں کو یہ یاد نہیں رہا کہ آج قائداعظمؒ کی سالگرہ بھی ہے اور کرسمس بھی۔ یسوع مسیح کا یوم پیدائش ہے اور حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
نوازشریف کی سالگرہ منانے والوں نے طے کیا ہوا تھا کہ وہ قائداعظم ثانی اسی طرح بن سکتے ہیں کہ قائداعظم کو (خدانخواستہ) بھُلا دیا جائے۔
ترک وزیراعظم بھی خاص طور پر اس موقعے پر آئے۔ انہیں ایک دن اور ٹھہرا لیا جاتا تو وہ اس سالگرہ کی تصویر بھی سنبھال کر لے جاتے۔ اُن کا استقبال بڑی شان و شوکت سے کیا گیا۔ انہوں نے بھی اسلام آباد آنے کی بجائے لاہور آنا پسند کیا بعد میں وہ اسلام آباد گئے۔ حضوری باغ میں مغل بادشاہوں کی یاد تازہ کر دی گئی۔ مگر مینار پاکستان کے آس پاس ٹریفک پولیس اور ذلیل و خوار ہوتے لوگوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ وہ داتا دربار عرس پر جانا چاہتے تھے۔ اس خبر میں کہ حضوری باغ میں جمہوریت کا شاہی دربار لگا ہوا تھا۔
ترک وزیراعظم ابھی پاکستان میں تھے کہ ان کے خلاف امریکی اخبارات میں باقاعدہ مہم چلائی جانے لگ پڑی۔ یہ مہم تو پہلے سے شروع ہوئی ہے مگر پاکستان کے دورے کے بعد اس میں زور آ گیا ہے۔ مسٹر اردگان ترکی کو مسلم ترکی بنانا چاہتے ہیں۔ وہ شریف برادران سے مدد لینے آئے تھے۔ امریکہ کے ساتھ نوازشریف کے بڑے تعلقات ہیں۔ نوازشریف افغان صدر کرزئی کو بھی امریکہ کے لئے سمجھانے گئے تھے۔ اردگان نوازشریف کے پاس آئے کہ وہ صدر اوبامہ کو سمجھائیں مگر نوازشریف ترک وزیراعظم اردگان کو سمجھانے لگے۔ ترکی نے چین کے ساتھ بھی معاہدات کئے ہیں۔ یہ امریکہ کو پسند نہیں۔ پہلے تو ہم نے سوچا تھا کہ امریکہ نوازشریف کو بھارت دوستی اور ترک دوستی کے رستے پر لے آیا ہے تاکہ پاکستان چین سے دور ہو جائے۔ مگر چین بھی بہت گہری دانش اور روایات والا ملک ہے۔ وہ پاکستان کو اپنے قریب نہیں لا سکا تو دور بھی نہیں جانے دے گا۔ امریکہ اور چین کی قربتیں بھی پاکستان کی کوششوں کی مرہون منت ہیں۔ چین بھارت کو بھی اپنے سے دور نہیں ہونے دے گا۔ بھارت بھی امریکہ کے ارادوں سے واقف ہے۔ بھارت جنوبی ایشیا میں جو کچھ بننا چاہتا ہے۔ امریکہ کبھی ایسا نہیں چاہے گا۔ بھارت کو چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات اور تنازعات کے حل کرنا پڑیں گے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی تنازعات میں دوستوں دشمنوں کو الجھا کے رکھنا ہے۔ اسرائیل سے بڑھ کر امریکہ کا محبوب کون ہو گا مگر اسرائیل بھی مشرق وسطیٰ میں پریشانیوں کا شکار ہے۔
ترکی کو بھی امریکہ نے استعمال کیا ہے مگر اس کا استحصال نہیں کر سکا۔ ہم ترکی سے کیا چاہتے ہیں اور ترکی ہم سے کیا چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں کو کچھ معلوم ہے اور کچھ معلوم نہیں ہے امریکہ کو سب معلوم ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمران کی مہنگائی ریلی اس موقعے پر کیوں ہوئی۔ اس کا کوئی نتیجہ نکلا۔ تو اس کا مقصد کیا تھا؟ اس صورتحال میں ترک دورہ کتنا اہم تھا۔ نوازشریف کو دعوت مل گئی ہے اور شہباز شریف بھی اپنے وقت پر ترکی جائیں گے۔ بھارت میں الیکشن سے پہلے جا سکتے ہیں تو ترکی میں بھی جا سکتے ہیں۔ من موہن سنگھ کی چھٹی ہو گئی تو؟ ہم اردگان کے لئے دعاگو ہیں کہ وہ کم از کم دوسری بار تو وزیراعظم بنیں تیسری باری خود بخود آ جائیگی۔
26 دسمبر کو دنیا سے جانے والے منیر نیازی احتراماً 25 دسمبر کو فوت نہیں ہوئے وہ قائداعظم کو یاد کرتے تو افسردہ ہو جاتے تھے۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
اُن کے یہ اشعار تو قائداعظم سے ”قائداعظم ثانی“ تک کے پاکستانی کا المیہ اور نوحہ ہیں۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اِس شہر میں نامعتبر اُس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
وہ میرے قبیلے کا سردار تھا۔ نیازی قبیلے کا افتخار اور شاعروں کے قبیلے کا اعزاز۔ مجھے میرے دوست منیر نیازی کا جانشین بھی مروتاً کہہ دیتے ہیں۔ میرے لئے ان کی ہمنشینی بہت بڑی دولت تھی۔ یہ دولت آج بھی میرے پاس ہے۔
یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر
اسی سے فقیری میں میں ہوں امیر
منیر نیازی کے ساتھ میری نسبت سب سے بڑی رفاقت ہے۔ اور نسبت واقعی نسب سے بڑی ہے۔ حسب و نسب نسبت کے سامنے ہیچ ہے۔ ایسا شاعر اردو شاعری میں نہیں ہے۔ علامہ اقبال تو شاعر سے بڑی کوئی ہستی ہے۔ میر و غالب سے موازنہ بنتا نہیں ہے۔ بڑا چھوٹا شاعر ہونا میرے لئے اہم نہیں ہے۔ اتنا انوکھا شاعر کہاں ہے؟ کہیں بھی نہیں ہے۔ منیر نیازی کی سالگرہ کا کیک اُن کی اہلیہ مسز ناہید نیازی کے گھر کاٹا جائے گا۔ باجی ناہید منیر نیازی کے دوستوں کو جمع کرنے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔
26 دسمبر کو مشہور اور محبوب شاعرہ پروین شاکر بھی ایک حادثے میں فوت ہو گئی تھیں۔ محکمہ ڈاک کی طرف سے پروین شاکر کے لئے یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ چلیں اس بہانے خط لکھنے کا رواج شاید شروع ہو جائے۔ میرے پاس پروین شاکر کا ایک خط موجود ہے۔ تقریب کی صدارت نامور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر کر رہے ہیں۔ عرفانہ عزیز مہمان خصوصی ہیں۔ پروین کی کولیگ اور ہمنام پروین نادر آغا اسلام آباد سے تشریف لا رہی ہوں۔ اس حوالے سے شعیب جعفری کی خدمات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ تقریب پنجابی انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی۔ 26 دسمبر کو سارا دن انسٹی ٹیوٹ کے ریڈیو پر ڈاکٹر صغرا صدف نے منیر نیازی کے لئے پروگرام کیا۔ جس میں منیر نیازی کے دوستوں نے گفتگو کی۔ فرحت عباس شاہ نے اپنا خوبصورت کلام بھی نیازی صاحب کے لئے سنایا۔ منیر نیازی کے میزبان دوست ذوالقرنین اور نعیمہ نے خاص طور پر شرکت کی۔ یہاں قائداعظم کے لئے بھی پروگرام ہوا اور پنجابی میں ہوا۔
نوائے وقت کی منفرد کالم نگار شاعر اور مزاح نگار عارفہ صبح خان نے اپنے اس پسندیدہ شعر میں قائداعظم کے لئے ہم سب کی ترجمانی کی ہے۔
یہ زمیں کیا ہے آسماں اُس کو
یاد رکھے گا سب جہاں اُس کو
نجانے کیوں قائداعظم کا یوم ولادت مناتے ہوئے ہماری خوشی میں دکھوں کا خمار بھی اتر آتا ہے۔