پاکستان پائندہ باد کانفرنس

کالم نگار  |  نعیم احمد
پاکستان پائندہ باد کانفرنس

آزادی کی قدر وہی جانیں جو اس سے محروم ہیں۔ جان و مال کی بیش بہا قربانیوں کے باوجود جن اقوام کے ہاں ابھی آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوا‘ ان سے دریافت کریں کہ اس نعمت عظمیٰ کی اہمیت کیا ہے۔ آزادی اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔ اسے پانے کی خاطر کوہ ہمالیہ جیسی بلند و بالا رکاوٹوں کو سر کرنا پڑتا ہے‘ آگ اور خون کے دریائوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ غیور قومیں اپنی آزادی کے ایام کو بڑے تزک و احتشام سے مناتی ہیں۔ اپنے تاریخی ورثے اور جدوجہد آزادی کے شاہسواروں کے کارناموں سے اپنی نسل نو کو آگاہ کرتی ہیں تاکہ اس میں بھی آزادی کے تحفظ کا جذبہ اور عزم پیدا ہوجائے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ تحریک پاکستان کے جذبوں کا امین ادارہ ہے اور اہل وطن کو اُن ولولوں سے سرشار کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد کررہا ہے جو تحریکِ آزادی کا طرۂ امتیاز تھے۔ حالیہ یومِ آزادی کے سلسلے میں بھی اس نے تقریباتِ آزادی کا شایانِ شان اہتمام کیا۔اس ضمن میں آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب اور قائداعظمؒ لائبریری کے اشتراک سے باغ جناح میں کتابوں کی شاندار نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک جاذبِ نظر سٹال لگایا گیا جہاں ٹرسٹ کی مطبوعات‘ پوسٹرز‘ سبز ہلالی پرچم‘ بیجز‘ جھنڈیاں اور یومِ آزادی کی مناسبت سے دیگر دیدہ زیب اشیاء ارزاں نرخوں پر فروخت کی گئیں۔ تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکنوں کی طالبعلموں سے روزانہ گفتگو بعنوان ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں اُنہوں نے جدوجہد آزادی اور اس دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ طلبا و طالبات کو جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل پر مبنی دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں۔ سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے مابین الگ الگ انعامی تقریری مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔ اسی سلسلے میں مقابلۂ مصوری بھی منعقد کیاجائے گا۔ مختلف شعبوں میں پاکستان کی گزشتہ 70سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا اور ان شعبوں کے ماہرین اور دانشوروں نے حاصل شدہ کامیابیوں اور پیش آمدہ چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ حسب روایت 13اگست کی شب مادرِ ملتؒ پارک‘ ایوان کارکنان تحریک پاکستان اور ایوان قائداعظمؒ پر چراغاں کرکے انہیں بقعۂ نور بنایا گیا۔ 13اور 14اگست کی درمیانی شب 12:00بجے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی حکومت پنجاب کی طرف سے ایوانِ قائداعظمؒ پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ پیش کیا گیا جسے بلامبالغہ ہزاروں لوگوں نے دیکھا اور دل کھول کر داد دی۔ پی ایچ اے کی جانب سے ایوانِ قائداعظمؒ کے باہر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کا جاذب نظر الیکٹرانک پورٹریٹ نصب کیا گیا جو دور سے ہی دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتا ہے۔14اگست کی صبح ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان کے احاطے میں چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محترم محمد رفیق تارڑ نے جدوجہد آزادی کے کارکنوں کے ہمراہ پرچم کشائی کی رسم ادا کی۔ پرچم کشائی کے بعد مذکورہ بالا یادگار پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور شہدائے کرام کے بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی۔ بعدازاں وائیں ہال میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانانِ خاص قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سپاہی یعنی کارکنانِ تحریک پاکستان تھے۔ اظہارِ محبت و تشکر کے طور پر انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ان کے خیالات و تاثرات سنے گئے۔اس مرتبہ تقریباتِ آزادی کا ایک اہم پہلو مختلف مقامات پر پاکستان پائندہ باد کانفرنسوں کا انعقاد تھا جن کا تصور رہبر پاکستان محترم مجید نظامی نے پیش کیا تھا۔ ان کا مقصد قوم میں مایوسی اور بددلی کو ختم کرکے وطن عزیز کے روشن اور محفوظ مستقبل پر اس کے اعتماد کو از سر نو مستحکم کرنا ہے۔ الحمدللہ! یہ نظریاتی اجتماعات ایک لحاظ سے تجدید عہد کے مترادف ہیں۔ وہ عہد جو ہمارے بزرگوں نے جدوجہد آزادی کے دوران ’’پاکستان کا مطلب کیا…لا الٰہ الا اللہ‘‘قرار دے کر اللہ تبارک و تعالیٰ سے کیا تھا۔ یہ کانفرنسیں وطن عزیز کے مختلف صوبوں اور علاقوں کے عوام کو نہ صرف حب الوطنی کے جذبات کے اظہار کے مواقع فراہم کررہی ہیں بلکہ ان میں وطن عزیز کے حوالے سے احساس تفاخر بھی بیدار کررہی ہیں۔ -4اگست کو باب الاسلام سندھ میں درگاہ بھرچونڈی شریف‘ 19اگست کو حافظ آباد جبکہ 22اگست کو پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پاکستان پائندہ باد کانفرنسیں بخیر و خوبی انعقاد پذیر ہوئیں۔ نظریۂ پاکستان فورم فیصل آباد کا شمار انتہائی فعال فورمز میں ہوتا ہے جس نے اپنی مدد آپ کے تحت شہر کے قلب میں نظریۂ پاکستان ہال بھی بنایا ہے۔ یہ کانفرنس اسی ہال میں منعقد ہوئی۔ اس فورم کے روحِ رواں الحاج میاں عبدالکریم اور جنرل سیکرٹری محمد ارشد قاسمی انتہائی جانفشانی سے کام آگے بڑھا رہے ہیں۔ قبل ازیں اس فورم کے سرپرست اعلیٰ الحاج شیخ محمد بشیر تھے جو بڑی متحرک نظریاتی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی وفات کے بعد فیصل آباد کی ممتاز سماجی و کاروباری شخصیت پرویزخالد شیخ اس فورم کے سرپرست کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں جو ایک دو نہیں بلکہ درجنوں تعلیمی‘ سماجی اور فلاحی اداروں کے سربراہ اور سرپرست ہیں۔ آپ انتہائی نیک نام ادارے ’’اخوت‘‘ کے پلیٹ فارم سے بھی فلاحی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور انجمن اسلامیہ کے بھی صدر ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی کے طفیل اُمید ہے کہ نظریۂ پاکستان فورم اب مزید عروج کی جانب گامزن ہوگا۔ کانفرنس میں تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے نظریۂ پاکستان فورم فیصل آباد کے صدر الحاج میاں عبدالکریم اور دیگر عہدیداران و کارکنان کو پاکستان پائندہ باد کانفرنس کے انعقاد پر ہدیۂ تہنیت پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ فورم فیصل آباد کے باسیوں بالخصوص نسل نو میں پاکستانیت اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ 

کانفرنس کے مہمان خصوصی نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس کی جدوجہد کی بدولت اب ہر طرف ’’پاکستان کا مطلب کیا…لا الٰہ الا اللہ‘‘ کی صدا گونج رہی ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کونسل کے تحت ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات روایتی جوش و جذبے سے منائی ہیں اور اب ہم چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محترم محمد رفیق تارڑ اور دیگر کارکنانِ تحریک پاکستان کی رہنمائی میں وطن عزیز کو ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے اور زیادہ محنت سے کام کریں گے۔ کانفرنس میں پرویز خالد شیخ‘ مولانا محمد ریاض کھرل‘ حاجی محمد عابد‘ میاں رفعت قادری‘ حامد سلطان دائودی‘ شیخ افضال شاہین‘ میاں عبدالوحید‘ مولانا محمد یوسف انور‘ حاجی محمد اسلم‘ علامہ محمود احمد قادری‘ صدر نظریۂ پاکستان فورم اوکاڑہ میاں علی حسن‘ پیر صدیق الرحمن اور لائبہ انصاری نے بھی اظہار خیال کیا۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض محمد ارشد قاسمی نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔
قارئین کرام! فیصل آباد نہ صرف ایک عظیم صنعتی شہر ہے بلکہ ہر قومی تحریک میں بھی یہ ہمیشہ صف اول میں رہا ہے۔ جس انداز اور رفتار سے نظریۂ پاکستان فورم فیصل آباد سرگرم عمل ہے‘ اسے دیکھتے ہوئے پورا یقین ہے کہ یہ شہر بہت جلد انشاء اﷲ نظریاتی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔ کانفرنس کے دوران باہمی مشاورت سے یہ بھی طے پایا کہ نومبر 2017ء میں فیصل آباد میں سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن میں قائم نظریۂ پاکستان فورمز کے عہدیداران کا اجلاس منعقد کر کے نظریاتی سرگرمیوں کو مزید مربوط اور موثر بنانے پر غور کیا جائے گا۔