وقوعہ کے دس روز بعد کی ”کرامت“

کالم نگار  |  سعید آسی

اصولی طور پر تو سانحہ سیالکوٹ کو ہمارے معاشرے پر لگے بربریت کے دھبے کو دھونے کیلئے ٹیسٹ کیس بنایا جانا چاہئے مگر ”سٹیٹس کو“ والوں کو شائد یہ بات وارا نہیں کھا رہی چنانچہ کوشش ہورہی ہے کہ شرف انسانیت کا جنازہ نکالنے کی اس گھناﺅنی واردات میں اِدھر اُدھر سے سارا گند اکٹھا کرکے وحشت و بربریت کا نشانہ بننے والے دونوں بھائیوں پر ڈال دیا جائے تاکہ اس بربریت کا جواز نکالا اور بربریت میں ملوث اہلکاروں اور دوسرے ملزمان کو بچایا جاسکے۔
اب جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کئے گئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کو ہے۔ بہبود آبادی کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر نے پوری کوشش کی ہے کہ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے پہلے پہلے انسانی بربریت کی بھینٹ چڑھنے والے دونوں بھائیوں کو سفاک ڈاکو تسلیم کرالیا جائے تاکہ بربریت ہی کو ان کی ماورائے عدالت سزا بنایا جاسکے۔
15 اگست کو یہ سانحہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب میں رونما ہوا تھا۔ اس سانحہ کے دس روز تک تو انہیں لب کشائی کی ہلکی سی بھی توفیق نہ ہوئی۔ جب انکے وفاقی کابینہ کے ساتھی رکن رحمان ملک گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ہمراہ سیالکوٹ میں مقتول بھائیوں کے گھر میں بیٹھ کر اس واقعہ کے بارے میں شرمندگی کا اظہار کررہے تھے، قوم سے معافی مانگ رہے تھے اور قاتلوں کو اسی مقام پر جہاں ان بھائیوں کی لاشوں کو لٹکایا گیا، سرعام پھانسی دینے کا اعلان کررہے تھے، اس وقت تو ڈاکٹر فردوس عاشق کو انہیں ٹوکنے کی بھی جرا¿ت نہ ہوئی اور اسکے بعد بھی وہ چار پانچ روز تک خاموش بیٹھی رہیں مگر اب انہیں اچانک الہام ہوگیا ہے کہ جن بھائیوں کے ساتھ بربریت کے بدترین واقعہ سے میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو آگاہ کردیا گیا ہے وہ تو اسی بربریت کے مستحق تھے۔ انہوں نے ایک جانب تو یہ کہہ دیا کہ وقوعہ کے بارے میں انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کو ہے اس لئے وہ اس معاملہ پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گی اور دوسری جانب انہوں نے جتنی بھی برائیاں اور خرابیاں ممکن ہوسکتی تھیں، مقتول بھائیوں کے سر تھوپ دیں، انہیں مسلمہ ڈاکو بنا دیا۔ انکے ڈاکو ہونے کی 66 گواہیاں بھی لے آئیں، انہیں ڈنڈا باری کے ساتھ ساتھ جوتا باری کا بھی مستحق ٹھہرا دیا اور ان سے اسلحہ بارود بھرا ایک بیگ بھی برآمد ہوا ثابت کرادیا جو اب انکے ڈاکو ہونے کے ثبوت کے طور پر ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائیگا۔ اتنی ”مسلمہ“ گواہی کو تو پولیس کو پہلے روز ہی اپنے حق میں استعمال کرنا چاہئے تھا مگر اس بربریت کا سارا ملبہ اپنے اوپر آنے کے باوجود پولیس کو مقتولین کے بیگ کی صورت میں اپنے پاس موجود اتنے بڑے ثبوت کو پیش کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوسکی مگر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈی جی ریسیکو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر کے ہاتھ اچانک یہ بیگ لگ گیا ہے چنانچہ انہوں نے سیالکوٹ میں الگ الگ مقامات پر ایک ہی وقت میں میڈیا کے سامنے آکر اس بیگ کی نشاندہی کردی۔
یہ مال مقدمہ وقوعہ کے دس روز بعد منظرعام پر لایا گیا ہے جبکہ پولیس کو تو مال مقدمہ پیش کرنے کیلئے چند لمحات کی مہلت ہی کافی ہوتی ہے بلکہ پولیس ناکے پر دھرے گئے کسی بے گناہ انسان کو مجرم ثابت کرنے کیلئے اسکی خالی جیب سے ہیروئین، چرس اور کارتوس تک ”جائے وقوعہ“ پر ہی برآمد کرلئے جاتے ہیں۔ اس لئے ملزم مقتولین سے ”برآمد“ کیا گیا بیگ دس روز بعد بذریعہ دو ڈاکٹر حضرات منظرعام پر لایا گیا ہے تو یہ بھلا کون سی اچنبے والی بات ہے۔ سب سے تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ ریسکیو 1122 سیالکوٹ کا انچارج تو مقتولین کی بے گناہی کی گواہی دے رہا ہے جس کے سامنے بربریت کا یہ واقعہ پیش آیا مگر اس فورس کے ڈی جی کو اپنے ہی محکمہ میں موجود موقع کی اس گواہی کا یقین نہیں اور وہ ایک ایسے بیگ کو جس پر ”بٹ برادران“ لکھا ہوا ہے، شائد مقتولین کے پیٹ سے برآمد ہوا ظاہر کرکے انہیں ڈاکو ثابت کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
وقوعہ کے بارے میں اصل فیصلہ تو انکوائری رپورٹ اور شہادتوں کی روشنی میں عدالت نے ہی کرنا ہے اور ممکن ہے سیالکوٹ کے گاﺅں بٹر میں مقتولین کی فائرنگ سے ہی نوجوان بلال کی ہلاکت ہوئی ہو جبکہ اس وقوعہ کے پس منظر میں ایک ”لو سٹوری“ اور ڈاکٹر رضوان نصیر کے حوالے سے مذہبی منافرت کا ایک قصہ بھی سامنے آرہا ہے مگر اس سب کے باوجود کیا اس بربریت کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے جس کا پولیس کی موجودگی میں دو نوعمر بھائیوں کو نشانہ بناکر ان میں سے ایک بھائی کی مردہ اور دوسرے کی زندہ لاش کو بجلی کے کھمبے کے ساتھ الٹکا لٹکا دیا گیا اور پھر ان لاشوں کو ایک ٹرالی میں پھینک کر دو گھنٹے تک پورے گاﺅں میں گھمایا جاتا رہا۔ میری پہلے دن بھی یہی تشویش تھی اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر رضوان نصیر کی جانب سے مقتول بھائیوں کی نعشوں پر دنیا جہان کا گند ڈالنے کے باوجود آج بھی یہی تشویش ہے کہ انصاف حاصل کرنے کا یہ طریقہ اختیار کرکے کیا اس سوسائٹی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اگر ہم سزا کے اسی طریقے کو سکہ رائج الوقت بنالیں گے تو پھر معصوم اور مجرم کی تمیز کہاں رہے گی۔ سب مشتعل ہجوم کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور سب ٹکٹکی پر لگے ہوں گے۔ اس طریقہ انصاف میں کوئی بے گناہ ثابت نہیں ہو پائیگا اور ہر ایک کیلئے بربریت والی سزا ہی انصاف قرار پائیگی۔ اس لئے سیالکوٹ کے سانحہ کو تو ایسی سزاﺅں سے بچنے کیلئے مثال بنانا چاہئے نہ کہ اس سانحہ کی بنیاد پر ایسے مزید سانحات کا راستہ کھولا جائے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو خود ہی فیصلہ کرلینا چاہئے کہ انہوں نے سانحہ سیالکوٹ کے حوالے سے کون سے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ سیلاب تو آچکا ہے، پاکستان پانی پانی ہوچکا ہے، ہم زلزلہ بھی بھگتا چکے ہیں، وہ پاکستان کو مزید کس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتی ہیں۔!