ایہہ پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے ........!

کالم نگار  |  بشری رحمن

آخر ان کا قصور کیا تھا....؟ان کا جرم کیا تھا ....؟ان کا گناہ کیا تھا ....؟ ان سے غلطی کیا ہوئی تھی....اے ظالم لوگو! جواب دو‘ ملک میں عدالتیں بھی ہیں‘ ملک میں کورٹ کچہریاں بھی ہیں‘ انصاف دلوانے والے بھی ہیں۔ اور قانونِ قدرت کی سب سے بڑی عدالت بھی ہے۔ اللہ سمیع و بصیر و علیم ہے۔ وہ سنتا ہے‘ دیکھتا ہے‘ جانتا ہے .... اور وہی منتقم بھی ہے۔ پھر اے سفاک لوگو! تم نے دو معصوم بچوں پر دن دیہاڑے اتنا ظلم کیوں ڈھایا۔ اس آسمان کے نیچے اس زمین کے اوپر تم شداد بن گئے۔ اور ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہ رہا .... وہ پکارتے رہے‘ منتیں کرتے رہے .... اور تم انہیں لہولہان کرتے رہے .... لہو میں نہلاتے رہے ....
اے ننگ انسانیت قاتلو! تم کہاں سے آئے ہو؟ تم کس کی اولاد ہو .... کیا تمہیں تمہاری ماوں نے نہیں جنا .... کیا تم نے اپنی ماوں کا دودھ نہیں پیا .... کیا تمہاری پیدائش کے وقت تمہارے کان میں اذان نہیں دی گئی تھی۔ کیا دنیا میں آتے ہی تمہیں حی علی الفلاح کا پیغام نہیں دیا گیا تھا۔ کیا تمہاری گویائی کو کلمہ و طیبہ سے پاک نہیں کیا گیا تھا۔ کیا تمہارے ہاتھوں نے قرآن پاک کے صفحات پر انگلی رکھ کے اللہ کا بھیجا ہوا سبق یاد نہیں کیا تھا .... کیا تم نے اپنے باپ کے وقار کو کبھی اجاگر نہیں کیا تھا .... مجھے بتاو تو سہی تم ہو کون .... تم آئے کہاں سے ہو....؟ اے بدبودار لوگو! تم میرے ملک کے باشندے نہیں ہو سکتے .... تم درندے ہو‘ تم نے پاکستانیوں کا سر جھکا دیا ہے۔ ساری دنیا کے سامنے پاکستان کی تذلیل کر دی ہے۔ تمہیں کس عدالت نے حق دیا تھا کہ تم ڈنڈے مار مار کر دو لعل قتل کر دو۔ ایک ماں کی کوکھ اجاڑ دو۔ ایک باپ کا بڑھاپا برباد کر دو .... ایک گھر کے روشن چراغ بجھا دو۔ اے وہ سب خبیث لوگو! میں تمہیں انسان کہتے ہوئے لرز جاتی ہوں۔ تم دائرہ بنا کر لہو کا یہ کھیل دیکھتے رہے۔ تمہاری آنکھیں کیوں نہ پھوٹ گئیں۔ تمہارے کان کیوں نہ پھٹ گئے‘ تمہاری چیخیں کیوں نہ نکل گئیں .... تم بے حسی کے ساتھ لہو کا وہ کھیل دیکھتے رہے جیسے وہاں بکرے ذبح ہو رہے ہوں یا مرغیوں کی کھال کھینچی جا رہی ہو‘ کیا وہاں تمہاری برہنہ خواہشوں کا کوئی برہنہ ناچ ہو رہا تھا.... کیا تمہاری اپنی اولاد نہیں ہے‘ کیا تمہارا اپنا کوئی مائی باپ نہیں ہے۔ تم نے معصوم زندگیوں کے وحشیانہ قتل کو ایک تماشا سمجھ کر دیکھا۔
اوئے تم ہو کون مجھے بتاو تو سہی مجھے تو تم انسان ہی دکھائی نہیں دیتے۔ کسی شیطان کے چیلے دکھائی دیتے ہو۔ تمہاری غیرت مر گئی ہے‘ تمہاری حمیت فنا ہو گئی ہے‘ تمہاری انسانیت دم توڑ چکی ہے۔ اس سفاکی اور بے حیائی سے تو کوئی جانور کو بھی نہیں مارتا۔ میں نے ایک بار عجیب منظر دیکھا تھا۔ ایک بازار کے اندر چند نابکار نوجوان ایک کتے کو ڈنڈوں سے مار رہے تھے اور چیاوں چیاوں کر کے کتے نے سارا بازار سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اسی وقت مسجد کے اندر سے ایک بزرگ برآمد ہوئے انہوں نے ان لڑکوں کو للکارا اور کہا او کم بختو! اس بیدردی سے کیوں مار رہے ہو‘ یہ تو جانور ہے بے زبان ہے‘ تمہارے ظلم کے خلاف بول نہیں سکتا مگر تم تو انسان ہو‘ تم تو اس کی چیخیں سن سکتے ہو‘ بند کرو اسے مارنا .... اس طرح سارے بازار والے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے کتے کو بچا لیا .... میں حیران ہوں تمہاری بدبختی اور بداعمالی پر .... تم دو بچوں کی آہ و بکا سنتے رہے .... تم ان کی منت سماجت سنتے رہے .... اس طرح تو کوئی کسی جانور کو بھی ذبح نہیں کرتا‘ تم سب اندھے بہرے اور گونگے ہو گئے۔ وہ سب منحوس مکروہ لوگ جو وہاں کھڑے تھے‘ کھڑے رہے‘ دم آخر تک دم نکلنے کا نظارہ کرتے رہے .... کسی کی اولاد کا قیمہ کرتے رہے .... ارے تم میں سے کسی کا دل نہیں ہلا .... خدا کے واسطے بتاو تم کون ہو.... مجھے تمہارے انسان ہونے پر شک ہے۔ انسان کے اندر پھر بھی تھوڑی بہت انسانیت باقی رہ جاتی ہے....!
سیالکوٹ کے لوگو! تم پر حرف آرہا ہے۔ تمہارے اندر ایسے گھناونے لوگ ہیں جنہوں نے صرف قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا بلکہ حقوق اللہ کی پامالی بھی کی‘ کسی کی زندگی لینے اور دینے کا حق اور اختیار صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم اللہ کے قہر سے بچ نہیں سکو گے۔ او مردودو! تم بھاگ کر کہاں جاو گے یہ زمین تم پر تنگ ہو جائے گی۔ خواہ تم تحت الثریٰ میں چھپ جاو .... یہ آسمان تم پر سے سایا اٹھا لے گا‘ خواہ تم کوئی پناہ گاہ ڈھونڈ لو .... ماں کی آہ عرش کے کنگرے ہلا دیتی ہے .... مظلوم کا خون بستیوں کی بستیاں تباہ کر دیتا ہے۔ او شیطان کے چیلو! بتاو تو سہی تم ہو کون .... رمضان المبارک میں جبکہ جنگیں ختم کر دی جاتی ہیں تم نے دو معصوم روزہ داروں اور حافظ قرآن کو اذیتیں دے دے کر‘ کچل کچل کر‘ تڑپا تڑپا کر مار ڈالا .... پاکستان کی ساری مائیں تم پر لعنت کے ڈونگرے برسا رہی ہیں ساری ماوں کے کلیجے چھل گئے ہیں۔ ساری مائیں مسلسل رو رہی ہیں۔ ساری مائیں تم پر شرمسار ہیں.... دور اور قریب کے کھڑے ہوئے سب سرکش اور بے دین لوگو! تم نے پاکستان کی 62سالہ تاریخ مسخ کر کے رکھ دی ہے۔ یہ ایسا معمولی واقعہ نہیں ہے کہ دنیا فراموش کر دے گی۔ جب بھی کسی زبان میں پاکستان کے معاشرے کا ذکر ہو گا تمہاری کالی کرتوت اس کا عنوان بن جائیگی۔ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں کو بھی تم بہت پیچھے چھوڑ گئے ہو .... تم سب جہنمی ہو.... دوزخی ہو‘ سب کے سب کرنے والے دیکھنے والے .... لانے والے .... وردی والے .... ٹرک والے.... تم میں سے ہر شخص قاتل ہے۔ جو مار رہا تھا‘ جو دیکھ رہا تھا‘ جو سن رہا تھا‘ جو باندھ رہا تھا‘ جو لٹکا رہا تھا‘ جو چپ چاپ کھڑا تھا .... اپنے ناپاک قدموں سے پاکستان کی زمین کو ناپاک نہ کرو .... جو کوئی جھوٹی گواہیاں دینے کو آگے آئے گا وہ بھی قاتل ہو گا .... جو تمہیں بچانا چاہے گا وہ بھی قاتل ہو گا .... کیونکہ تم نے بھی کسی کے دل کے ٹکڑوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
یوں تو پچھلے کئی سالوں سے یہ پیارا پاکستان آزمائشوں کے اندر گھرا ہوا ہے۔ زلزلے کے روح کش حادثے میں ہزاروں جدا ہو گئے۔ خودکش حملوں میں ہزاروں بے گناہ جان ہار گئے۔ سیلاب بے پایاں ہزاروں زندگیاں لے گیا .... یہ سب آزمائشیں اور دکھ اللہ کی طرف سے تھے .... ناقابل فراموش ہیں .... مگر اے خبیثو‘ بدباطنو! جو کچھ تم نے ان دو معصوم بچوں کے ساتھ کر دیا ہے وہ تاریخ کا سب سے بڑا اور مکروہ حادثہ بن گیا ہے .... کون بھول سکے گا اسے کون معاف کر سکے گا اسے!!
ڈکھاں ڈکھڑے ڈتے ڈاڈھے
ہڈاں دا ماس غم کھا دے
ہمیشہ درد ہین وادھے
پُنل ولدیں کریں جلدی! (خواجہ غلام فریدؒ)
ترجمہ:۔ آہ تیرے ہجر کے دکھ درد نے میرے تن کا گوشت کھا لیا ہے‘ ہڈیاں تک چبا لی ہیں‘ تو کب آئے گا .... یہ کرب مجھے جینے نہیں دیگا!