وزیر اعظم نواز شریف سے خصوصی ملاقات !

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ

وزیر اعظم میاں نواز شریف سے واشنگٹن میں ہماری ملاقات کے دوران ملکی سلامتی کے حوالے سے تسلی بخش گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے انتہائی مصروفیات کے باوجود ون آن ون ملاقات کا موقع دیا جس میں ہم نے روائتی انٹرویو کی بجائے وطن عزیز کے مستقبل اور مسلم لیگ کے حوالے سے دل کی باتیں کیں۔ہم نے اٹھارہ کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے قائد اعظم ؒ کے وطن کی سلامتی کے بارے میں مضبوط اور شفاف فیصلوں کی گزارش کی۔ حضرت قائد اعظم ؒ کی مسلم لیگ کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے میاں صاحب کی توجہ موجودہ مسلم لیگ کے حالات کی جانب دلائی اور انہیں بتایا کہ” اگر آپ نہیں تو پھر کون ؟آپ قوم کی امید بن کر آئے ہیں۔ پرانے مسلم لیگی بزرگوں کی نظر آپ پر لگی ہوئی ہے کہ آپ نظریہ پاکستان کو قائم رکھیں گے اور پاکستان کے مسائل کو منجھدار سے نجات دلائیں گے۔ میڈیا والے وزیر اعظم سے سوالات اور انٹرویو کرتے ہیں مگر ہم نے میاں صاحب سے سلام دعاکے بعد دوسری جو بات کی وہ یہ تھی کہ ”ون آن ون ملاقات کا موقع دینے کا شکریہ مگر میاں صاحب میں آپ کا انٹرویو کرنے کسی ذاتی کام سے نہیں آئی اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کی مراعات یا شاباش کی خواہشمند ہوں۔ میں ایک محب وطن پاکستانی اور قائد اعظم ؒ کے سچے سپاہی کی بیٹی کی حیثیت سے دل کی چند باتیں کرنے آئی ہوں۔ہم آپ کے خطاب سنتے ہیں مگر آج آپ ہماری سنیں۔ ہم پاکستان اور قائد اعظم کی مسلم لیگ کے حالات پر بات کرتے ہوئے فرط جذبات میں اپنے آنسوﺅں پر قابو نہ رکھ سکے ،آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔میاں صاحب حیران و پریشان ہماری حالت دیکھتے رہے اور مسلسل کہتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا فضل کرے،رحم کرے،بس آپ ملک کی سلامتی کے لئے دعا کریں۔ہمیںٹشو پیپر اور پانی کا گلاس تھماتے ہوئے تسلی دیتے رہے مگر حاکم وقت کے سامنے ملک کی صورتحال بیان کرتے ہوئے ہمارے جذبات بے قابو ہو گئے۔حاکم وقت کے خلاف تنقید اور منفی پروپیگنڈا کرنا آسان ہوتا ہے مگر حقیقت کا آئینہ دکھانا آسان نہیں لیکن جب ایک پاکستانی کی آنکھوں کے سامنے قیام پاکستان کے لئے قربان ہونے والی لاکھوں جانوں اور ہزاروں بہنوں کی آبرو ریزی کے مناظر گھومنے لگتے ہیں تو جذبات ہچکیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس وقت یہ یاد نہیں رہتا کہ سامنے کون بیٹھا ہے،حاکم وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ سے سچی محبت سے مل سکتی ہے۔ملکی معاملات تنقید سے حل نہیں کئے جا سکتے۔وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ہماری طویل ملاقات کا لب لباب وطن عزیز کی ایک بیٹی کی جانب سے درد بھری اپیل ،امید اور دعا تھی جس کو میاں صاحب نے بڑی درد مندی کے ساتھ نہ صرف محسوس کیا بلکہ ہمیں یقین دہانی دلائی کہ وہ ملک کو دلدل سے نکالنے کا عزم لے کر آئے ہیں ،ان کی نیت صادق ہے باقی اللہ تعالیٰ کے فضل اور عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ہماری میاں صاحب کے ساتھ خصوصی ملاقات کے دوران گفتگو کا سیاسی حصہ نوائے وقت میں شائع ہو چکا ہے۔ ہم نے جب میاں صاحب سے ”ایڈ نہیں ٹریڈ“ کی وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ نیویارک اور واشنگٹن کے دوروں کا مقصد ان اہم امور پر آواز اٹھانا تھا جن کی وجہ سے ملک آج تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ہم ملک سے ”ایڈ“ کی چھاپ کو مٹانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ ہمارے ساتھ عزت کا رویہ اختیار کرے اور ہمیں تجارتی منڈیوں تک رسائی دے۔ہم امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ملک امداد کی بدنامی سے نجات پا سکے۔پندرہ برسوں کی بدحالی کا سفر ہفتوں یا مہینوں میں طے نہیں کیا جا سکتا،گزشتہ حکومتوں کے ادوار کے دوران ملک کو جس نہج تک پہنچا دیا گیا ہے اس سے نکلنے کے لئے بہت صبر اور تگ و دو کی ضرورت ہے۔ ہم اندرون و بیرون ملک اہم پالیسیاں ترتیب دے رہے ہیں۔میاں صاحب نے واشنگٹن میںپاکستانی کمیونٹی سے بھی ملک میں سرمایہ کاری اور تعاون کی بات کی۔ ہم نے اس تعاون کی وضاحت چاہی کہ تمام پاکستانی سرمایہ دار نہیں ہوتے ،ان پاکستانیوں کے بارے میں کیا ہدایات ہیں جو بیرون ملک سے پاکستان میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں مگر وہ مالدار نہیں؟ اس پر وزیر اعظم نے کہا آپ کی بات درست ہے،ہمیں اوور سیز پاکستانیوں کو عملی لائحہ عمل پیش کرناہو گا اور اس پر ہم کام کریں گے اور باقاعدہ ایک پروگرام پیش کریں گے۔جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ میاں صاحب سے ہماری حالیہ ملاقات کا مقصد دل کی باتیں شیئر کرنا تھا لہذاہم بولتے رہے اور میاں صاحب ہمارے جذبات ،خیالات اور سوالات کو بڑے انہماک کے ساتھ سنتے رہے۔ہم نے میاں صاحب کو یاد کرایا کہ وہ آج جس کرسی پر تشریف فرما ہے ،وہ کرسی دربار نبوی کی عطا ہے ،ان کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ایک روحانی فریضہ ہے جس کا حساب لیا جائے گا۔ ہم اپنے ”حسن ظن “ کی فطرت سے مجبور ہیں۔ امید پر دنیا قائم ہے اور اگر میاں محمد نواز شریف بھی ملک کو دلدل سے نکالنے میں ناکام ہو گئے تو عوام کی مایوسی انتہاﺅں کو چھونے لگے گی۔واشنگٹن میں تین روز قیام کے دوران ہم نے وزیر اعظم کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں اور منفی و مثبت تاثرات کو بہت قریب سے دیکھا ،میاں صاحب کی نیت اور عزم پر شبہ نہیں مگر ان کو ایک مخلص اور تجربہ کار ٹیم کی ضرورت ہے۔سیاسی پسندو ناپسند سے بالا تر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایمانداراور شریف افسران کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا ہو گا۔ایمانداری، شرافت کا معیار جاننے کے لئے باقاعدہ ایک ٹیم ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں بے داغ ریٹائرڈ افسران شامل کئے جائیں جو اپنے تجربے اور ایمانداری کی بنیاد پر میرٹ کا تعین کر سکیں۔ اس طرح ایماندار ریٹائرڈ افسران کے تجربات سے استفادہ کیا جا سکتاہے۔ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میاں برادران بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح نیک افسران کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
میاں صاحب نے کہا کہ وہ کسی ادارے میں مدتِ ملازمت بڑھانے کے قائل نہیں اور جن افسران کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا چکی ہے انہیں بھی فارغ کر دیا جائے گااور ان کی جگہ با صلاحیت اور ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے گا۔وزیر اعظم کی صدر اوبامہ کے ساتھ ملاقات اور میاں صاحب کا دورہ واشنگٹن کی کامیابی یا ناکامی کا ذکر اگلے کالم میں کریں گے۔