ذرائع پیداوار کی ۔’’ جمہوریت سازی!‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان

مَیں نے اپنے 7اکتوبر کے کالم ۔’’متفرقاتِ شہر گلاسگو‘‘۔ میں گلاسگو کے، ڈاکٹر امجد ایوب مرزا کا ضِمناً تذکرہ کیا تھا، جنہوں نے، وطن سے دُور رہ کر بھی، لاہور میں نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک گروپ آف سکولز قائم کر رکھا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا خط مجھے بذریعہ ای۔میل موصول ہُوا ہے ۔ جِس کا خلاصہ اور ۔’’ جوابِ آں غزل ‘‘۔ ہدیہء قارئین ہے ۔ڈاکٹر امجد ایوب مرزا لِکھتے ہیں ۔۔۔’’محترم اثر چوہان صاحب! السلام علیکم !۔ ’’ کچھ عرصے سے ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی ۔"Value"۔ (قدر) میں کمی کے موضوع پر بحث ہو رہی ہے اور اِس کا ذمہ دار وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جو مناسب نہیں ہے ۔در حقیقت  امریکی ڈالرکے مقابلے میں صِرف پاکستانی روپے کی قدر ہی کم نہیں ہُوئی ،دُنیا کے 20دیگر ترقی پذیر مُلکوں کی ( ڈالر سے وابستہ) کرنسیاں بھی  لُڑھک گئی ہیں۔ نیو لبرل ازم کے تحت کثیر اُلقومی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی فروخت کے لئے راستہ بنا کر ،ترقی پذیر مُلکوں کی معیشت برباد کر دی ہے چنانچہ ہر مُلک میں نج کاری ،سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت ،بنکوں کی " Deregulation" وغیرہ کے ذریعے۔ تیسری دُنیا کے کئی مُلکوںکا اقتصادی نظام تباہ کر دیا گیا ہے ۔کثیر اُلقومی کمپنیوں کے بڑے بڑے ڈائریکٹرز مغربی ممالک میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور پہلی مرتبہ امریکہ، جرمنی ،  فرانس ،برطانیہ ا ور کچھ دوسرے یورپی ممالک کی کثیر القومی کمپنیوں کے مفادات ایک ہو گئے ہیں ۔ پاکستانی معیشت عالمی معیشت کا حِصّہ ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے طوفان کے رحم و کرم پر۔
ڈاکٹر امجد ایوب مرزا مزید لِکھتے ہیں ۔’’ جب تک پاکستان اور امریکی ڈالر سے وابستہ دوسرے ترقی پذیر ممالک  اپنی کرنسی ڈالر سے غیر وابستہ نہیں کر لیتے اور نیو لبرل ازم کی تباہ کُن اقتصادی پالیسیوں کو ترک نہیں کرتے ،غربت کی دلدل میں پھنسی ہوئی اُن کی معیشت کی کشتی اُبھر نہیں سکتی ۔وزیرِاعظم نواز شریف (ا ور اُن کے بعد آنے والے حُکمران بھی) قوم کا بھلا نہیں کر سکیں گے۔آج قومی ملکیت میں معیشت کو چلانے اور آزاد منڈی کی معیشت ۔دونوں نظام ناکام ہو گئے ہیں اور اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ قومی ذرائع پیداوار کی "Democratization" (جمہوریت سازی) کی جائے ۔یعنی پیداواری عمل میں حِصّہ لینے والے محنت کشوں ،محکمہ فنانس ،محکمہ تقسیم کار اور کمیونسٹی ممبران پر مشتمل جمہوری کمیٹیاں قائم کی جائیں جن میں اکثریت محنت کشوں کی ہواور صِرف یہی ایک طریقہ رہ گیا ہے جِس کے تحت پاکستانی معیشت کی ازسرِ نو تعمیر ممکن ہے ۔باقی سارے راستے تباہی کی طرف جارہے ہیں ۔
آپ کا مخلص
ڈاکٹر امجد ایوب مرزا ،گلاسگو
0044-7909495565
صِرف ڈاکٹر امجد ایوب مرزا ہی نہیں۔ مَیں جب بھی مُلک سے باہر گیا، مَیں نے مختلف نظریات کے حامل اوور سیز پاکستانیوں میں ایک قدرِ مشترک یہ پائی کہ ہر کوئی پاکستان سے بے لوث محبت کرتا ہے اور مادرِ وطن کو مضبوط اور توانا دیکھنا چاہتا ہے ۔ڈاکٹر امجد ایوب مرزا کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’ قومی ملکیت میں معیشت کو چلانے اور آزاد منڈی ۔( Free Market)  کے نظام ناکام ہو چکے ہیں ۔ بعض ’’اسلام پسند لیڈروں‘‘ کا دعویٰ ہے کہ  ’’ہم نے اہلِ کتاب ملکوں کی فوجوں کے ساتھ مِل کر ’’مُلحد سوویت یونین‘‘ کے خلاف جہاد کر کے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے‘‘ ، درست نہیں ہے دراصل سوویت یونین ،جدید ترین ہلاکت انگیز ہتھیاروں کے باوجود معاشی طور پر ٹوٹ پھوٹ چُکی تھی۔ بیکریوں کے اندر اشیائے خورونوش کی کمی تھی لیکن باہر خریداروں کی قطاریں بہت ہی لمبی ۔ مجھے دوربار 1986ء اور 1988ء میں سوویت یونین کے دورے پر جانے کا موقع مِلا۔اُن دِنوں عالمی مارکیٹ میں سوویت یونین کی کرنسی رُوبل(Rouble) کی   Value امریکی ڈالر سے دُوگنا تھی لیکن جب زوال آیا تو رُوبل ’’ٹکے ٹوکری‘‘۔ ہو گیا۔
سوویت یونین کے زوال کی ایک وجہ  دوسرے ملکوں میں ’’انقلاب کی ایکسپورٹ‘‘ تھی۔ عوامی جمہوریہ چین کے بانی چیئرمین مائوزے تنگ اور اُن کے بعد بھی، چینی قیادت نے  ’’انقلاب ایکسپورٹ‘‘ کرنے کی پالیسی کبھی نہیں اپنائی۔ چیئرمین مائو زے تنگ نے اپنی زندگی میں ہی  ’’ثقافتی انقلاب‘‘ کا آغاز کر دیا تھا۔ چین کے عوام پہلے ’’سوشلزم کے ثمرات‘‘ سے لطف اندوز ہُوئے اور اُس کے بعد ’’اوپن ڈور پالیسی‘‘ سے ہمارے یہاں’’سوشلزم‘‘ ’’اسلام‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر کئی حکومتیں قائم ہوئیں، لیکن  عوام کا بھلا نہیں ہوا۔ نظام کوئی بھی ہو عوام کا بھلا اُس وقت ہوتا ہے جب قیادت مخلص اور بے لوث ہو۔ مائوزے تنگ نے جب انتقال کیا تو ترکے میں چھ جوڑے کپڑے، ایک لائبریری اور بنک میں چند ڈالر چھوڑے۔ جمہوریہ ترکیہ کے بانی’’اتا ترک مصطفیٰ کمال پاشا نے اپنی جائیداد قوم کے نام وقف کر دی تھی اور حضرت قائدِ اعظم ؒ نے بھی یہی کیا تھا ۔ کیا ملائشیا کے مہا تیر محمد جمہوریہ تُرکیہ کے صدر عبداللہ گُل اور وزیرِ اعظم طیب اردگان اور ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے الگ الگ نظام کو چلاتے ہُوئے خود کو’’مثالی مسلمان قائد‘‘ ثابت نہیں کیا؟۔
ڈاکٹر امجد مرزا کی ذرائع پیداوار کی’’ جمہوریت سازی‘‘کی سوچ اچھی بھی ہو تو اِس پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟ اور کون کرے گا؟۔ کیا اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ؟ یا (خدا نخواستہ) کوئی فوجی ڈکٹیٹر؟ جو سیاسی قائدین اپنی پارٹیوں میں انتخابات نہیں کراتے، وہ ’’ذرائع پیداوار کی جمہوریت سازی‘‘ کیوںہونے دیں گے۔ ہمارے یہاں جب بھی انتخابات ہُوئے انہیں مشکوک قرار دیا گیا اور اگر صاف اور شفاف بھی ہوں تو پارلیمنٹ میں تو بالائی طبقے کے لوگ ہی پہنچیں گے؟۔ 11مئی کے عام انتخابات سے پہلے  وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ ’’اگر اشرافیہ نے اپنا رویّہ درست نہ کیا تو’’خونِیں انقلاب‘‘ آئے گا‘‘۔ اشرافیہ نے تو عام انتخابات کے بعد بھی اپنا رویّہ نہیں بدلاتو کیا؟ ’’خونِیں انقلاب‘‘ کا انتظار کیا جائے ؟قائدِ اعظم ؒ نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’’اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کا تصور دیا تھا۔ کمیونزم یا سوشلزم کی یلغار سے بچنے کے لئے برطانیہ سمیت مغربی یورپ کے کئی مغربی ممالک نے سرمایہ دارانہ نظام کے باوجود ’’فلاحی مملکت‘‘  قائم کی ۔مسئلہ پھر وہی کہ پُر عزم اور مخلص قیادت کے بغیر’’ذرائع پیداوار کی جمہوریت سازی‘‘سے بھی کیا ہوگا؟۔