دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے

کالم نگار  |  محمد صدیق

دبئی ٹیسٹ کے تیسرے روز یہ ٹیسٹ مکمل طور پر سا¶تھ افریقہ کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ پاکستان کیلئے اس ٹیسٹ میں صرف ایک ہی خبر باقی ہے کہ پاکستان کو اننگ سے شکست ہوتی ہے یا پاکستان اننگز کی شکست سے بچ جاتا ہے۔ شکست پاکستان کا اس ٹیسٹ میں مقدر ٹھہرا ہے، دوسرے دن کے کھیل میں تمام دن کھیل پر سا¶تھ افریقہ چھایا رہا اور تیسرے دن پاکستانی با¶لروں نے کم بیک تو کیا مگر سا¶تھ افریقہ 518 رنز بنا کر جیت کی طرف گامزن تھا۔ پاکستان کی پہلی اننگ میں بھی صفر پر پہلی وکٹ گر گئی اور دوسری اننگ میں تو دو سکور پر 2 وکٹ گر گئی۔ کتنی شرم کی بات تھی کہ جس وکٹ پر سا¶تھ افریقہ نے 518 رنز بنائے، ہماری ٹیم پہلی اننگ میں سنچری نہ بنا سکی اور دوسری اننگ میں بھی حال کچھ ایسا ہی ہے۔ یونس خان کی وکٹوں سے باہر نکل کر بے تکی شاٹ مدتوں یاد رہے گی۔ اظہرعلی کی شمولیت ٹیم میں بھی توجہ طلب ہے کیونکہ زمبابوے اور سا¶تھ افریقہ کی چار ٹیسٹوں کی 8 اننگ میں صرف ایک 70 رنز کی اننگ کھیل سکے۔ شان مسعود اور خرم منظور کو بیٹنگ سیکھنے کیلئے مدت درکار ہے۔ اگر یہ دونوں دبئی، شارجہ جیسی بیٹنگ وکٹوں پر یہ کارکردگی دکھاتے ہیں تو دنیا کی تیز اور سوئنگ وکٹوں پر کیا کریں گے۔ پاکستانی با¶لروں خاص کر سعید اجمل اور محمد عرفان نے عمدہ با¶لنگ کا مظاہرہ کیا مگر تین با¶لروں سعید اجمل، جنید خان اور محمد عرفان نے سنچری سنچری سکور اپنی با¶لنگ پر دیا جو توجہ طلب پرفارمنس ہے کیونکہ ہمارے با¶لر ورلڈ کلاس کہلاتے ہیں۔ دبئی ٹیسٹ کے تیسرے روز یہ ٹیسٹ مکمل طور پر سا¶تھ افریقہ کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔