دورے کا حاصل، مایوسی گناہ ہے

وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کو ہر کوئی لاحاصل قرار دے رہا ہے، لیکن مجھے اس رائے سے اختلاف ہے۔
دورے کا ایک نتیجہ تو یہ ہے کہ وزیر اعظم ایک دوروز کے لئے پاکستان کی سرزمین پر قدم رنجہ فرمائیں گے اور پھر لندن کے سرکاری دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی ان کا سری لنکااور تھائی لینڈ کا دورہ شروع ہو جائے گا۔
امریکی دورے کی برکت ہے کہ خادم اعلی چین کی طرف چلے گئے ہیں۔ اب کوئی یہ نہ پوچھے کہ چین کا دورہ ہفتے بھر کا تو وہ پہلے ہی کر چکے اور اس میں درجنوں معاہدوں کی خوشخبری بھی سنا چکے تو اب کیا لینے گئے ہیں، بھئی دورہ ،دورہ ہوتا ہے ، ضروری نہیں کوئی لین دین بھی ہو، خیر سگالی کے لئے بھی تو دور ے ہوتے ہیں۔ابن بطوطہ نے اتنے دورے کئے، سوائے ہر جگہ ایک نکاح رچانے کے اس نے کیا تیر مارا، صرف ایک سفر نامہ ابن بطوطہ۔
امریکی صدر اور سرمایہ کاروںنے پاکستا ن کے توا نائی بحران کے حل میں مدد ینے میں دلچسپی ظاہر کی، اسی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں آنے والی سردی کے مہینوں میں گھروں کو گیس صرف اس وقت ملے گی جب کھانا پکانے کا وقت ہو گا۔اگر قوم نے اپنے پاﺅںپہ کھڑے ہونا ہے توا سے یہ قربانی تو دینا ہو گی۔اور واضح رہے کہ اگر بے وقت مہمانوں کے آنے کاخدشہ ہو تو اس کا ذمے دار امریکی دورہ نہیں، یہ آپ کی اپنی کم عقلی ہے۔عقل سے کام لیا جائے تو مہمانوں کے لئے بھی کھانا پکاکر رکھاجاسکتا ہے، البتہ انہیں ٹھنڈا ہی کھلاناپڑے گا۔
کھانا پکانے کے لئے آٹا، دال،گوشت،سبزی اور دیگر الم غلم چیزیں بھی چاہیئں،اور یہ اس قدر مہنگی ہیں کہ تنخواہ دار تو شاپنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، سو اگر آپ کے پڑوس میں کوئی ہذا من فضل ربی والا گھر ہو تو اس کی ہانڈی کی خوشبو پر گزارا کرنا سیکھئے اور مشام جاں کو معطر کیجئے۔
دورے کے فائدے اس قدر ان گنت ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے شروع کروں۔چلئے ڈرون حملوں کی بات کر لیتے ہیں ،یہ کیا کم ہے کہ وزیر اعظم کے بقول انہوںنے یہ معاملہ شدو مد سے اٹھایا۔امریکیوں نے تو سرکاری لائن کے مطابق جواب دینا تھا اور یہ سرکاری لائن صدر اوبامہ کئی ماہ قبل ایک پالیسی میں واضح کر چکے ہیں ۔انہوںنے کہا تھا کہ پاکستان اوریمن پر ڈرون حملے جاری رہیں گے اور ان کا کنٹرول حسب معمول سی آئی اے کے پاس رہے گا۔باقی ملکوں میں بھی ڈرون حملے ہوتے رہیں گے تاہم ان کا کنٹرول پینٹگان کو منتقل کر دیا گیا ہے۔اس باریک سے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جو حملے سی آئی اے کرے گی، اس کی معلومات امریکی کانگرس کو بھی نہیں مل سکتیں ، لیکن پینٹگان جو حملے کرے گا ، اس کے لئے وہ کانگرس کو جواب دہ ہو گا۔ جواب دہی کی تعریف یہ ہے کہ وہ بتانے کے پابند ہوں گے کہ کس حملے میں کون مارا گیا اور کولیٹرل نقصان کتنا ہوا، سی ا ٓئی اے کی طرف سے کئے جانے والے حملوں کی تفصیلات تک کسی کو رسائی نہیں ہو سکتی، اس لئے پاکستان کو صرف ٹیوے ہی لگانے ہوں گے کہ کس ڈرون نے کس کو مارا اور کیوں مارا۔سوال یہ ہے کہ اس واضح پالیسی کے ہوتے ہوئے ہمارے وزیراعظم نے کلمہ حق کہنے کی جرات تو کی۔اب ڈرون رکیں یا نہ رکیں ، ان کی بلاسے، وہ حق وصداقت کی ا ٓواز بلند کرنے کا فریضہ ادا کر آئے۔اور یہی ان کافریضہ تھا، نہ کم نہ زیادہ، وہ بھولو پہلوان تو تھے نہیں کہ دعوت مبارزت دیتے اور اوبامہ صاحب کو اکھاڑے میںدست پنجہ کرنے کے لئے انگیخت کرتے۔
ٓہم کہتے ہیںکہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے منافی ہیں اور امریکہ آگے سے پوچھتا ہے کہ جو غیر ملکی دہشت گرد آپ کے ہاں اڈے قائم کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ کونسی خود مختاری کا احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ وہ باقاعدہ ویزوں پر تو نہیں آتے۔ یہ سوال سن کر ہمیں چپ سی لگ جاتی ہے۔
       
ہم نے اوبامہ سے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کا مطالبہ کیا، انہوںنے جواب میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی واپسی کا مطالبہ داغ دیا۔ہم میزائل چلاتے ہیں، امریکہ میزائل شکن میزائل چلا دیتا ہے۔ہمارے وزیر اعظم کے دورے کا ایک حاصل یہ ہے کہ ہم نے شکیل آفریدی کو دبوچ کر رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔امریکہ اسامہ کو لے اڑا، ریمنڈ ڈیوس کو بھی اچک کر لے گیا مگر اب دیکھتے ہیں کہ وہ شکیل آفریدی کے لئے تڑپتا ہی رہ جائے گا۔
ہمارے وزیرا عظم کو عافیہ کی رہائی کا مطالبہ بہت مہنگا پڑا،اس لئے کہ شکیل آفریدی کے علاوہ اوبامہ نے حافظ محمد سعید اور ممبئی سانحے میں انکے ساتھ شریک ملزموں کو بھی مانگ لیا۔اس پر ہمارے وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے، اس کام کی ابتدا کراچی سے ہو چکی ہے۔اب تو صرف اس کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔اورا سے چوبرجی، مریدکے اور مظفر آباد تک لے جاناہے۔امریکی دورے کے نتیجے میں اگرہم اپنے جہادی گروپوںکو نکیل ڈال سکیں تو یہ اس دورے کی بڑی کامیابی شمار ہو گی۔ممبئی سانحے کے بعد بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک سے یہ کام کر لینا تھا مگر ہمارے چند سرفروش اور سر پھرے ہوا بازوںنے بھارتی طیاروں کو لاہور اور مریدکے کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔ مصیبت یہ ہے کہ ہم سست الوجود ہیں اور ہر کام کرنے میں دیر کردیتے ہیں، لیکن اس کی ذمے دار ماضی کی حکومت ہے۔اب میاںنواز شریف اپنے گھر کو ٹھیک کر کے رہیں گے۔یہ ہے وہ عزم جو انہیں دورہ امریکہ سے ملا۔
وزیر اعظم نے اوبامہ کے سامنے کشکول نہیںپھیلایا۔انہوںنے کہا کہ ہمیں مدد کی ضرورت نہیں، ہمارے ساتھ تجارت کیجئے اور اپنی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کو رسائی دیجئے۔ایڈ نہیں ٹریڈ، یہ ایک نعرہ ہے۔اوبامہ نے اس مطالبے کو سر آنکھوں پر رکھا اور مہمان شریف کو بتایا کہ دنیا بھر میںپاکستان جس ملک کے ساتھ سب سے زیادہ تجارت کر رہا ہے، اس ملک کا نام امریکہ ہے۔اسے کہتے ہیں ترت جواب مگر یہ تو اسحق ڈار کا فریضہ تھاکہ وزیر اعظم کو اعدو شمار سے آگا ہ کرتے تا کہ ایک ایسامطالبہ جس پر پہلے ہی عمل ہو رہا ہے، نہ کرنا پڑتا۔چلئے وزیر اعظم کی معلومات میں اضافہ تو ہوا اور وہ بھی امریکی دورے کی برکت سے۔گھر بیٹھ کر اس قدر علم تو حاصل نہیںہو سکتاتھا۔
اگر اس تجزیے سے اتفاق کر لیا جائے کہ وزیر اعظم کے حالیہ دورہ امریکہ بلکہ دونوں امریکی دوروں سے کچھ نہیں ملا، تو یہ بھی ایک مثبت علامت ہے۔دورے کئے بغیر تو یہ ناکام نہیں کہے جا سکتے تھے اور یاد رکھئے نپولین بونا پارٹ نے نصیحت کی تھی کہ بار بار کوشش کیجئے۔وزیر اعظم کو اپنے دورے جاری رکھنے چاہیئں، کوئی نہ کوئی دورہ تو تکا لگنے سے کامیاب ہو ہی جائے گا۔
امریکی دورے کا واحدحاصل دال قیمہ ہے جس کی دعوت اوبامہ کو دی گئی ہے۔مجھے دال قیمے کاآج کا بھاﺅ تو کوئی بتائے۔کیا دال قیمہ کشمیری ڈش ہے، شاید نہیں ، اس لئے کہ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا۔