امریکہ اور بھارت ،حافظ سعید سے ڈرتے ہیں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

 نجانے امریکہ اور بھارت پروفیسر حافظ سعید سے کیوں خوفزدہ ہیں یہ ان کے شایان شان نہیں۔ صدر اوبامہ اور من موہن سنگھ سانجھے کمپلیکس کا شکار ہیں جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ حافظ سعید بہت باوقار اور سلجھے ہوئے آدمی ہیں۔ نوازشریف سے ڈر لگتا ہے ورنہ حافظ سعید شریف آدمی ہیں نوازشریف کے امریکی دورے کے بعد کسی کو شریف کہنا اچھا نہیں لگتا۔ حافظ سعید جیسے پاکستان دوست اور بھارت دشمن شخص کو تو شریف کہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ امریکہ چونکہ بھارت کا دوست ہے اس لئے بھارت کو خوش کرنے کے لئے حافظ سعید کا نام لے رہا ہے۔ ممبئی حملے اور جماعت الدعویٰ کا ڈرون حملوں اور پاکستان میں کھلی دہشت گردی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے بھارت اور امریکہ کو خطرہ اور خوف ہے۔ بھارت نے خود اجمل قصاب سے ممبئی حملہ کروایا پھر اسے پاکستانی بنایا ۔ ایک پاکستانی اخبار اور ٹی وی چینل نے بھارت کے موقف کو ثابت کیا۔ ہماری حکومتوں نے کبھی اجمل قصاب کا نام بھی نہیں لیا جسے بھارتی عدالت نے موت کی سزا دی اور اس پر عملدرآمد بھی کر لیا۔ ہماری عدالتوں نے حافظ سعید کو باعزت بری کیا۔ بھارت اور امریکہ ہماری حکومتوں کی توہین کرتے رہتے ہیں اب ہماری عدالتوں کی تذلیل بھی کر رہے ہیں۔ خود امریکی عدالت نے بے گناہ اور بے پناہ پڑھی لکھی ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال کی مضحکہ خیز سزا دی کہ پوری دنیا نے امریکہ کو لعن طعن کی ۔ امریکہ نے پاکستان میں امریکی جاسوس ڈاکٹر شکیل درانی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا ہیرو ہے اس سے پہلے اپنے امریکی جاسوس قاتل ریمنڈ ڈیوس کے لئے خود صدر ابامہ نے فون کیا اور اسے مفاہمت کار کہا۔ ہمارے حکمرانوں، جرنیلوں اور ججوں نے باہمی اتفاق سے پورے پروٹوکول کے ساتھ ریمنڈ کو جیل سے ایئرپورٹ پر سلامی دے کے رخصت کیا اس کے بعد ایبٹ آباد کا واقعہ پیش آیا۔ ریمنڈ ڈیوس نے ڈاکٹر شکیل درانی سے وہ کام کروایا جس کا کریڈٹ صدر اوبامہ نے قوم سے خطاب میں لیا۔ اس سے صدر اوبامہ کو دوسرے صدارتی انتخاب میں کامیابی ملی۔ صدر بش کے دوسرے دور کے لئے اوبامہ کی تقریر اور صدر اوبامہ کے دوسرے دور کے لئے اسامہ کے قتل کا ڈرامہ ضروری تھا اور نوازشریف کو تیسری باری ملی ہے۔اس سے صدر زرداری کو دوسری باری ملے گی۔
 بھارت نے ممبئی ڈرامہ امریکہ کے نائن الیون کے انداز میں کیا۔ پوری دنیا نے فراڈ کو مسترد کر دیا صرف پاکستان نے تسلیم کیا بلکہ قبول کیا۔ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا، وہ اب کھسیانی ہنسی سے پاکستانی کھمبہ نوچنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لئے بھارت کی ہر چال ایک سازش اور منصوبہ بندی ہوتی ہے اس حوالے سے بھارت کا سیاسی چال چلن بھی خراب ہے۔
خدا کی قسم بھارت اور امریکہ پاکستانی حکومت کو ایک زرخرید غلام سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ پاک فوج کو بھی اپنی فوج سمجھتے ہیں مگر حافظ سعید کے نام سے کانپتے ہیں۔ بھارت دشمنی کی سانجھ میں آبروئے صحافت ڈاکٹر مجید نظامی سے حافظ صاحب کئی بار ملے ہیں ہم سب حافظ صاحب کی سلامتی اور صحت کے لئے دعا گو ہیں۔ بھارت امریکہ کی اشیر باد کے ساتھ کئی بار حافظ سعید کو قتل کرنے کی ناکام اور نامراد کوشش کر چکا ہے مگر حافظ صاحب پاکستانی حکمران نہیں ہیں لیڈر ہیں۔ ان کے ساتھ لاکھوں جانثاروں کے جذبے اور ارادے بے قرار دل کی طرح دھڑکتے ہیں۔
صدر بش کے ایک ظالم ساتھی رمز فیلڈ ہوتے تھے، ظالم بزدل ہوتے ہیں صدر اوبامہ صدر بش سے زیادہ ظالم اور بزدل ہیں۔ رمز فیلڈ نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہم مسلمان حکومتوں اور فوجوں سے نہیں ڈرتے یہ تو ہمارے غلام اور محتاج ہیں۔ ہم ان لوگوں سے ڈرتے ہیں جن کے پاس نہ حکومت ہے نہ فوج ہے جو موت سے پیار کرتے ہیں اور دنیا کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یہ میرے الفاظ ہیں کہ جن کے پاس ایسے جان و دل ہیں جو عشق مصطفیٰ سے بھرے ہوتے ہیں جن کے روح و بدن کا رشتہ صرف ایمان سے قائم ہوتا ہے، حافظ سعید جیسے بہادر اور قلندر انسان اس حوالے سے نمایاں ہیں۔ یہ غنیمت لوگ ہیں جن سے ہمارے دشمن گھبراتے تو ہیں ورنہ ہمارے حکمرانوں کی پراہ بھی نہیں کرتے۔ علامہ اقبالؒ کی ایک نظم ہے جس میں شیطان بزرگ اپنے شتونگڑوں سے خطاب کرتا ہے کہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک مسلمانوں کے دلوں میں عشق مصطفیٰ کا چراغ جلتا ہے۔ نظم کا ایک شعر
وہ فاقہ کش کہ جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
سب جانتے ہیں کہ شیطان بزرگ کس کو کہا جاتا ہے۔ صدر اوبامہ کے لئے میرے دل میں اب بھی نرم گوشہ ہے۔ انہوں نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرا نام صرف باراک ابامہ نہیں ہے باراک حسین ابامہ ہے تو وہ حسینؑ کی اس ”اِسمی رسمی“ نسبت کی لاج رکھیں اور کم از کم یہ تو کریں کہ مسلمانوں کے لئے جگہ جگہ کربلائیں تو نہ سجائیں۔ وہ یہ بھی یاد رکھیں
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اسلام میں دہشت گردی کی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس انتہا پسندی کو امام کعبہ نے حرام قرار دیا ہے۔ مسلمانوں میں کشادگی پیدا ہوگی تو کشیدگی ختم ہوگی۔ صدر اوبامہ نے تبدیلی کی باتیں انتخابی مہم میں کی تھیں۔ ان کا انتخاب بھی ایک تبدیلی ہے۔ اسے تاریخی بنانے کے لئے وہ کچھ ایسا کر جائیں کہ تاریخ ساز کہلائیں۔ لوگ صدر واشنگٹن ابراہام لنکن کینڈی اور دوایک دوسرے نام یاد رکھے ہوئے ہیں اوبامہ صرف پہلے سیاہ فام امریکی صدر کے طورپر یاد رکھے جائیں گے اور بس۔ ان کا دور حکومت صدر بُش سے مختلف نہیں ہے بلکہ اُس سے بُرا ہے۔ دنیا کا طاقتور انسان پاکستان کے ایک درویش قلندر حافظ سعید سے ڈرتا ہے یہ ڈر اس کے دل میں بھارتی حکمرانوں نے ڈالا ہے۔
مجھے صدر اوبامہ اور وزیراعظم من موہن سنگھ کا کمپلیکس ایک جیسا لگتا ہے۔ من موہن سنگھ ہندوو¿ں سے گھبراتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے کہ وہ خفا ہو جائیں یہ تو سکھ ہے پاکستان کا پوری طرح دشمن نہیں ہے۔ صدر اوبامہ گوروں سے ڈرتا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ کالے ابھی پوری طرح امریکی نہیں ہوئے۔ اوبامہ تو پاکستان میں قیام پذیر رہا ہے۔ یہ بات یہودیوں اور ہندوو¿ں کے لئے تکلیف دہ ہو سکتی ہے اس کا نام بھی دونوں کو اچھا نہیں لگتا۔ ایسے میں صدر اوبامہ اور من موہن سنگھ کمپلیکس اور واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں بیک زبان ہو کر حافظ سعید کو پوری دنیا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
چند دن پہلے حافظ سعید سے ملاقات ہوئی وہ محبت والے انسان ہیں ۔ مجھے علی عمران شاہین نے بلایا تھا قرآن خوانی اور قرآن فہمی کے حوالے سے شاندار تقریب میں ہم نے طالب علموں کو ایوارڈ دیئے، حافظ صاحب سادگی اور آسودگی کے ساتھ محفل میں موجود تھے۔ اتنے مطمئن چہرے والے فقیر سے دشمن مضطرب رہتے ہیں۔ برادرم یحییٰ مجاہد نے خاص طور پر ہماری پذیرائی کی۔ علی عمران شاہین نے ولولہ انگیز انداز میں محفل کو آگے بڑھایا کشمیر کے بارے میں ان کی کتاب ”منزل دور نہیں“ دیکھنے کا اتفاق ہوا حریت کشمیر میں حافظ سعید کے مجاہدانہ کردار سے سب آگاہ ہیں۔ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے مگر بھارت اور امریکہ حریت کشمیر کے فریڈم فائٹرز کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کسی کو نظر نہیں آتی۔ تحریک حُرمت رسول پاکستان کے کنوینر امیر حمزہ نے کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ غمزدہ کر دینے والی تحریر ہے۔ پڑھنے والوں کو حوصلہ بھی دیتی ہے۔ شاہین صابت اسم بامسمہ آدمی ہیں ان کی پروازوں سے کشمیر کی فضائیں ضرور آباد ہوں گی۔ نوازشریف کشمیری ہیں تو کشمیری بن کر دکھائیں۔