ڈاکٹر ایم اے صوفی … باکمال و بے مثال شخصیت

کالم نگار  |  نعیم احمد
ڈاکٹر ایم اے صوفی … باکمال و بے مثال شخصیت

تحریک پاکستان میں جن شخصیات نے بھی کردار ادا کیا ہے‘ ان کا استحقاق ہے کہ انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا جائے‘ ان کی قدم بوسی کی جائے اور نسل نو کو بھی ان کی تعظیم کرنی سکھائی جائے۔ یہ ہستیاں ہماری محسن ہیں۔ یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے دست و بازو نہ بنتے تو ہم برصغیر سے انگریزوں کی رخصتی کے بعد متعصب ہندوئوں کے غلام بن جاتے اور یوں زندہ درگور ہوجاتے جیسے آج کل بھارت میں مسلمان اقلیت ہوچکی۔ ڈاکٹر محمد اسلم صوفی المعروف ڈاکٹر ایم اے صوفی کا شمار قوم کے ایسے ہی محسنوں میں ہوتا ہے۔ تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان‘ ہر دو میدانوں میں ان کا کردار قابل تحسین رہا۔ اگرچہ آج وہ ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن اتنی قد آور نظریاتی شخصیت تھے کہ اپنی موجودگی کا بدرجۂ اتم احساس دلا رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے فکر و عمل کی بدولت اپنی قوم کی آنکھوں میں ستاروں کی مانند جھلملاتے ہیںاور سفر زندگی میں سمت کے متلاشیوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ایم اے صوفی نے زمانۂ طالبعلمی میں جس راہ کو اپنایا تھا‘ زندگی بھر اسے ترک نہ کیا۔ انہیں بڑا مان تھا جدوجہد آزادی میں حصہ لینے پر‘ بڑا فخر تھا قائداعظمؒ کے سپاہی ہونے پر۔ ان کی پہلی اور آخری محبت پاک سرزمین تھی۔ اس سے پیار کرنے والوں سے پیار کرتے تھے‘ اس کے معاندین کو زبان و قلم سے تہہ تیغ کرتے تھے۔ خوش باش‘ خوش لباس‘ ہشاش بشاش‘ ضعیف العمری میں بھی کسی نوجوان جیسا تر و تازہ اور شاداب چہرہ لئے جس محفل میں بھی پہنچتے‘ اسے اپنی خوش گفتاری سے کشتِ زعفران بنا دیتے۔ ان کے قہقہے محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ ہمہ جہت شخصیت کے حامل ڈاکٹر ایم اے صوفی ایک ایسے گھنے چھتنار شجر کی مانند تھے جس کے سائے تلے سستانے والے راہ گیر سکون اور ثمر ہر دو سے بہرہ مند ہوجاتے ہوں۔ زندگی کے بارے ان کا زاویۂ نگاہ بہت سادہ مگر انتہائی اثر آفریں تھا۔ کہتے تھے کہ کچھ برداشت کرکے اور کچھ نظر انداز کرکے زندگی کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ زندگی کی مشکلات کا مقابلہ صبر اور خندہ پیشانی سے کیا۔ وطن عزیز کے سب سے مشہور ڈینٹسٹ تھے۔ دندان سازی سے متعلق سائنسی بنیادوں پر 50سے زائد مقالے بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کرکے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ دنیاوی لحاظ سے یہ مرتبۂ بلند انہوں نے جہد مسلسل سے حاصل کیا تھا مگر اس کامیابی نے ان کی طبیعت میں موجود فطری عجز و انکسار کو ذرہ بھر متاثر نہ کیا۔ جیسے پہلے تھے‘ مشہور و معروف ہوکر بھی ویسے ہی رہے۔ اللہ رب العزت نے انہیں جس مقصد کے لئے اس دار فانی میں بھیجا تھا‘ اس کی تکمیل بھرپور انداز میں کی۔ پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے ان کی وابستگی اٹوٹ تھی۔ عنفوان شباب سے دم آخر تک وہ اس وابستگی کو نبھاتے رہے۔ اپنی بے پناہ پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ تقریبات میں جوش و جذبے سے شریک ہوتے تھے۔ ان کی دلپذیر گفتگو نسل نو میں حب الوطنی کے جذبات پیدا کرنے کے لئے مہمیز کا کام کرتی تھی۔ اس قومی نظریاتی ادارے سے ان کے بے مثال لگائو کا یہ عالم تھا کہ اپنی حیاتِ مستعار کے آخری دور میں جب انہیں وہیل چیئر استعمال کرنا پڑتی تھی‘ تب بھی وہ گاہے بگاہے اس ایوان میں منعقدہ محفلوں کو رونق بخشتے تھے۔
وہ حددرجہ مہمان نوازشخصیت تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد کو ربّ العزت کی رحمت سے تعبیر کرتے تھے۔ ٹرسٹ کی دعوت پر جب دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر سے طلباء و طالبات اور اساتذۂ کرام کے وفود پر مشتمل کاروانِ قومی یکجہتی و خیرسگالی لاہور آتا تو اسے بطور خاص اپنے گھر مدعو کرتے۔ اس موقع پر ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی خوشی دیدنی ہوتی اور وہ جی بھر کر مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے۔
وہ روزنامہ نوائے وقت اور دیگر قومی اخبارات و جرائد میں تحریک پاکستان اور اہم قومی معاملات پر باقاعدگی کے ساتھ کالم اور مضامین تحریر کرتے تھے۔ اُنہوں نے متعدد کتب تصنیف کیں جنہیں قبولیت عامہ حاصل ہوئی۔ ان کی رحلت کے بعد ان کی دو کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہیں جن کے نام ’’مسلم لیگ اور تحریک پاکستان‘‘ اور ’’میں خوش قسمت انسان ہوں‘‘ ہیں۔ مؤخر الذکر ان کی خود نوشت ہے۔ ان دونوں کتابوں کی تقریب رونمائی گزشتہ روز نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں منعقد ہوئی جس میں تحریک پاکستان کے کارکنوں اور ڈاکٹر ایم ایک صوفی کے اہل خانہ نے شریک ہوکر ان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے اپنے پیغام میں ڈاکٹر ایم اے صوفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے خود کو بانیانِ پاکستان کے نظریات و تصورات کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کررکھا تھا۔ وہ اوّل و آخر مسلم لیگی اور سرتاپا حب الوطنی کا مجسمہ تھے۔
نشست سے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد‘ مولانا محمد شفیع جوش‘ ولید اقبال ایڈووکیٹ‘ رانا محمد ارشد اور پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر ایم اے صوفی کے صاحبزادگان احمر بلال صوفی اور عامر کمال صوفی نیز مریم کمال صوفی(پوتی) اور بختاور بلال صوفی (پوتا) نے اپنے والد گرامی اور دادا جان کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند اور باقاعدگی کے ساتھ تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ایم اے صوفی بذات خود بہت بڑے نظریاتی انسان تھے اور انہوں نے ہماری تربیت بھی انہی خطوط پر کی۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں‘ انہی کی تعلیم و تربیت اور دعائوںکی بدولت ہیں۔ ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو قومی خدمت کے کاموں میں مصروف رکھیں گے۔ انہوں نے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی انتظامیہ سے اس تقریب کے اہتمام پر اظہار سپاس کیا۔
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے ڈاکٹر ایم اے صوفی سے کئی دہائیوں پر محیط اپنے تعلق خاطر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باغ و بہار شخصیت سے حب الوطنی کی کرنیں پھوٹتی تھیں اور اس لحاظ سے وہ بڑے کامیاب انسان تھے کہ اپنا نظریاتی ورثہ اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کرگئے اور اس لحاظ سے بڑے خوش قسمت بھی تھے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر اپنی زندگی میں ہی دیکھ لی۔ ان کے صاحبزادے احمر بلال صوفی اور عامر کمال صوفی اپنے والد کے فکر و عمل کے امین ہیں۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بڑی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ احمر بلال صوفی نے اپنے والد مرحوم کی طرف سے ایوانِ قائداعظمؒ کے لئے مبلغ 5 لاکھ روپے بطور عطیہ دیے ہیں۔ تقریب رونمائی میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن جسٹس(ر)آفتاب فرخ اور چیف کوآرڈینیٹر میاں فاروق الطاف نے بطور خاص شرکت کی۔