نظریہ تصادم اور آخری قسط

نظریہ تصادم اور آخری قسط

میاں نواز شریف کے بیٹے حسین نواز سے دوران ملاقات ہم نے کہا کہ ان کے والد کی لبرل پالیسیوں کی وجہ سے مسلم لیگی نظریہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دائیں بازو کے حامی مسلم لیگی سوچ نواز شریف کی بھارت سے لچکدار رویہ سے نالاں ہیں۔ میاں صاحب نجم سیٹھی جیسوں کی سوچ لے کر چل رہے ہیں۔ بائیں بازو کی سیاست مسلم لیگ کا مزاج نہیں۔ حسین نواز نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب عنقریب ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے مذہبی طبقہ خوش ہو جائے گا۔ مسلم لیگ اپنا نظریہ نہیں بدلی البتہ کچھ سیاسی حکمتیں آڑے آجاتی ہیں۔۔۔۔لیکن بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ؟ ایک وقت تھا جماعت اسلامی پاکستان نے دھرنوں سے اچھی خاصی شہرت حاصل کی پھر دھرنا عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی نیک نامی میں اضافہ کا باعث بنا اور اب فیض آباد کا دھرنا ریٹنگ میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا۔فیض آباد دھرنا سیاسی ہے۔ جواز مذہبی بنایا گیاہے کہ لال مسجد والوں کی طرح مذہبی بلیک میلنگ سے مفاد کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔ مولویوں کا دھرنا “نظریہ تصادم “کی کڑی ہے۔ یہ دھرنا حکومتی پالیسی کو سیاسی شہید کرائے بغیر نہیں اُٹھے گا۔ مشرف اور لال مسجد کے سانحہ کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ حکومت نے حساس صورتحال پیدا کر دی ہے۔ دھرنا والے بظاہر ”چور ی اوپر سے سینہ زوری “کے خلاف لڑنے نکلے ہیں۔ بظاہر ختم نبوت شق کو جواز بنا یا گیا۔ ملکی حالات جس سمت لے جائے جا رہے ہیں دھرنا تو بنتا تھا۔ نواز شریف کا نظریہ تصادم اگر سمجھتا ہے کہ چند جلسوں اور تقاریر سے سیاسی شہید بن جائیں گے تو یہ ان کی بھول تھی۔ ایک طرف عدلیہ اور فوج کو ظالم اور جمہوریت دشمن ثابت کرنے کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے اور دوسری جانب ختم نبوت شق سے مولویوں کو اکسایا گیا۔ جعلی نظریہ کی ہانڈی اب فیض آباد کے چوراہے میں پھوڑی جائے گی۔ سپریم کورٹ آپریشن پر دباﺅ دے رہی ہے اور حکومت کی ٹانگیں کپکپا رہی ہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ آپریشن کا حکم مسلم لیگ ن کے ووٹر توڑنے کی سازش ہے۔ نواز شریف گروپ کو سازشوں کا گہرا تجربہ ہے۔ سازش کی بو دور سے سونگھ لیتے ہیں البتہ خود ایسا کرتے وقت قریب کی تباہی بھی دکھائی نہیں دیتی ؟ اداروں سے تصادم کی سیاست کرتے وقت لمحہ بھر کو خیال نہ آیا کہ رد عمل کیا ہو گا؟ کسی متنازعہ صورتحال سے بچنے کے لئے ہی چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی صاحب کو نظریہ تصادم سے منع کر نا چاہا تھا ۔ وزیر داخلہ اور وزیراعظم بھی اداروں سے تصادم کی پالیسی کے حق میں نہیں تھے لیکن موصوف نظریہ صاحب نے تصادم کو سیاست کی بقاءسمجھا۔ دھرنا سیاسی شہید بننے کی پالیسی کی آخری قسط ہے۔ حکومت کو عدلیہ اور نیب کے ہاتھوں انجام کی خبر ہو گئی تھی لہٰذا ہمدردی لینے کے لئے “شب خون “ پر اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آسان اور آزمودہ نسخہ مذہبی جماعتوں سے چھیڑ چھاڑ ہے۔دھرنا اور فساد کی راہ دکھائی جاتی ہے۔ معاملہ بگڑتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ فیض آباد دھرنا کے کھیل کا آغاز بھی ختم نبوت کی شق میں چھیڑ چھاڑ سے کیا گیا۔ اور نوبت حسب توقع دھرنا کی طوالت تک پہنچ گئی۔ منصوبہ بندی کے مطابق معاملہ سپریم کورٹ جانا ہی تھا۔حکم آپریشن بھی آنا ہی تھا۔اگلا مرحلہ کے مطابق حکومت بے بسی دکھائے گی حتی کہ سکیورٹی اداروں کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ چند ایک مولوی شہید یا زخمی ہو گئے تو حکومت کو “جمہوریت کے خلاف سازش “ کا الزام سچ ثابت کرنے کا جواز ہاتھ آجائے گا۔ نظریہ تصادم پالیسی کے تحت حکومت مدت پوری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ مظلوم بننے میں فائدہ سمجھ رہی ہے۔ ” مجھے کیوں نکالا “ فارمولے کے تحت سادہ ووٹروں کو عدلیہ اور فوج کے خلاف کر دیا گیا ہے ، فیض آباد میں نظریہ کی آخری قسط چل رہی ہے۔ دھرنا کے پس پشت نظریہ تصادم سرگرم ہے لیکن اس مرتبہ فوج کسی نظریہ اور پالیسی کو مظلوم بننے نہیں دے گی۔ مسلم لیگی احمق نہیں ہیں۔ کھیل کے پس پشت نظریہ کی پالیسی دھرنا کی صورت میں بے نقاب ہو چکی ہے۔”نظریہ تصادم “کی کیفیت مجبور بے بس قید بلی کی طرح ہو چکی ہے ، جالیوں کو پنجوں سے نوچ رہی ہے۔