قصہ نویں ورک فورس کا....!

کالم نگار  |  خالد احمد

اللہ تبارک و تعالٰی کے فضل و کرم سے پاکستان کا سرسبز اور شادوشاداب خطہ اس کرہ ارض پر آباد ’نویں ورک فورس‘ کے منصب پر فائز ہے! 5 کروڑ 20 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ ’ورک فورس‘ پاکستان کا سالانہ مالیاتی تخمینہ ’کھربوں‘ سے آگے لے جا چکی ہے! مگر ہماری کارستانی دیکھئے کہ پاکستان ابھی تک دنیا میں اپنا وہ مقام بحال نہیں کر پایا جس پر اسے 28 مئی 1998ء کے دن فائز کر دیا گیا تھا اور 12 اکتوبر 1999ءکی رات اس مقام پر دھکیل دیا گیا تھا۔ ’قومی انا‘، بالکل ’ذاتی انا‘ کے گھاٹ اتار دی گئی تھی اور دنیا کی تیسری ’مسلم مملکت‘، دنیا کی تیسری بڑی زبان کی ’مادر ریاست‘، دنیا کی چھٹی آباد ترین ’جمہوریت‘ دنیا کی ساتویں ’جوہری قوت‘ اور دنیا کی نویں سب سے بڑی ’ورک فورس‘ کا حامل ملک ’جوہری جمہوری پاکستان‘ مشرف کی ایک بے سری، بے تالی تان پر وار دیا گیا!
یوں لگتا تھا کہ آئین معطل کرکے چیف ایگزیکٹو نے پوری ’ورک فورس‘ یا ’افرادی قوت‘ ’ایوان مشرف‘ کے لئے ’شب دیگ‘ تیار کرنے کے کام سے لگا دی گئی ہو! ایک تہائی نفوس ہاتھوں میں آہنی دستے پکڑے اور پیروں میں چوبی ’ہون‘ جکڑے ’مصالحہ جات‘ پہنچنے کے انتظار میں وقت گزار رہے ہوں! ایک تہائی افراد پراتوں میں چھریاں دھرے ’زرد شلغم‘ پہنچنے کی راہ تک رہے ہوں اور ایک تہائی نوجوان کھیتوں کے کنارے کھرپے تھامے ’شلغم کا موسم‘ آنے کا راستہ دیکھ رہے ہوں!
یہ ’اُڈیک‘ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی کہ ملک کی ’باگ ڈوڑ‘ جمہوری اداروں کے ہاتھ میں آ گئی اور مشرف کی تیار کردہ دیوار ارتقا کا پورا ملبہ ’عوام‘ پر آ پڑا۔
اب یوں ہے کہ ایک ’کرسی‘ پر ہے اور چار ’کرسی کے پائے‘ اپنی اپنی طرف کھینچ کر اوپر والے کے لئے شکوک و شبہات اور خوف و خدشات کی زلزلہ آ گیں آہٹیں تخلیق کرنے میں لگے ہیں ایک پایہ، پی پی پی کے ’بی بی ہم شرمندہ ہیں‘ گروپ کے ہاتھ میں ہے، دوسرا پایہ مسلم لیگ نون کے ہاتھ میں ہے، تیسرا پایہ مسلم لیگ قاف کے ہاتھ میں ہے اور چوتھا پایہ مولانا فضل الرحمان کی مجلس عمل اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد بھائی الطاف حسین کی مشترکہ گرفت میں ہے! چھٹا گروہ آج کی اپوزیشن اور کل کی ٹریژری بنچ کے سربراہ کے ساتھیوں پر مشتمل ہے، ساتواں گروہ، وفاداریاں بدلنے کا عادی ہونے کے ناتے سب کے ’ہوشیار! مشتری ہوشیار باش!‘ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر آ جانے کی دھمکیاں دینے پر مجبور دکھائی دے رہا ہے! قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین گلیوں بازاروں میں وہ ادھم مچا رہے ہیں کہ ’پولیس‘ آٹھویں گروہ اور بیورو کریسی نویں گروہ کے طور پر سرگرم عمل دکھائی دے رہی ہیں!
یہ ’نو ستارے‘ ’آپ ابھی تک زندہ ہیں؟‘ کا سوالیہ نعرہ سر کرکے خوف و خدشات کا غبار بڑھانے میں لگے ہیں!
کسی کو ’جوہری جمہوری پاکستان‘ کی ’آبرومندانہ بقا‘ اور ’آبرو مند وقار‘ میں کوئی دلچسپی نہیں؟ حالانکہ ہماری ’ورک فورس‘ ہمیں ’قابل بقا معیشت‘ ہی نہیں دنیا کا نواں صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملک بنانے کی اہلیت رکھتی ہے! صرف سمت سفر درست کرنے کی ضرورت ہے!
جمعرات، 27 مئی2010 ءکے دن، ایک بجے لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ لائرز فورم کے زیر اہتمام نشان جمہوریت جناب مجید نظامی کی صدارت میں ’یوم تکبیر‘ منایا جا رہا ہے! ہم اس موقع پر وہاں موجود رہیں گے اور تقریب کا آنکھوں دیکھا حال آپ کی خدمت میں پیش کریں گے! انشااللہ! بشرط حیات! آمین!
کیونکہ بقول فہیم رودلوی:....
میں اپنے گھر میں خوشی بانٹنے کو زندہ ہوں!
وگرنہ کب؟ مرے حالات، خودکشی کے نہ تھے!