سنو! جوانو!!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

جوانو! تم کبھی ایسا نہ کرنا
جو ہم کرتے رہے ویسا نہ کرنا
دیا ہم نے سدا اپنے کو دھوکا
تم اپنے آپ سے دھوکا نہ کرنا
یہ نعرہ روٹی کپڑا اور مکاں کا
لگاو تو اسے رسوا نہ کرنا
کرو وعدہ تو پھر اس کو نبھانا
نہ جو پورا ہو‘ وہ وعدہ نہ کرنا
اگر سمجھو‘ نہیں تم اسکے لائق
قبول ایسا کوئی عہدہ نہ کرنا
وڈیروں سے نہ ہرگز خوف کھانا
کہا پورا کبھی ان کا نہ کرنا
صدا مزدور اور دہقاں کی سننا
بٹانا اس کا دکھ‘ دونا نہ کرنا
کبھی مت نوٹ دے کر ووٹ لینا
کسی صورت بھی یہ سودا نہ کرنا
غریبوں کو گلے ہر دم لگانا
کسی مفلس کا دل توڑا نہ کرنا
ہمیشہ اہمیت دینا وطن کو
تم اپنی جان کی پروا نہ کرنا
ہمیشہ رائے تم ملت کی لینا
نہ کوئی فیصلہ ”من مانا“ کرنا