جو اوّل درجے کے ”پھاڈی“

کالم نگار  |  سعید آسی

حکومت تیرہ ساڑھے تیرہ کھرب روپے کے صرف اندرونی قرضوں پر چل رہی ہو وہ عوام کے مسائل حل کرنے کا سوچے گی اور عوام دوست بجٹ بنائےگی، اس کی کسی کو ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ عوام کے ساتھ دوستی کرنا اور نبھانا کسی مقروض حکومت کے بس میں نہیں ہوتا۔
سٹیٹ بینک کی اگلی سہ ماہی کیلئے اعلان کردہ مانیٹری پالیسی میں عوام کیلئے خوشی اور اطمینان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اسی سہ ماہی کے دوران وفاقی اور صوبائی بجٹ نازل ہونے ہیں اور قوم کی اقتصادیات کی جو تصویر سٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ میں دکھائی گئی ہے اس کی بنیاد پر عام آدمی کی حالت بہتر ہونے کا تو کوئی امکان نہیں البتہ خطِ غربت سے نیچے والی آبادی میں بے ہنگم اضافہ کی پیشین گوئی ضرور کی جاسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی کے دوران مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے بڑھ کر 13 فیصد ہوگئی تھی جو اپنی جگہ پر برقرار ہے اور اس میں اضافے کا رجحان پایا جا رہا ہے۔ پھر جب حکومت اپنے ساڑھے 13 کھرب روپے کے اندرونی قرضوں کو مدنظر رکھ کر بجٹ بنائیگی جو اس وقت تیاری کے مراحل میں ہے تو اس میں عوامی فلاح و بہبود کے کسی منصوبے پر بھلا کیونکر توجہ دی جاسکے گی۔ سود در سود ادا ہونےوالے بیرونی قرضوں کی تو کوئی حد ہی نظر نہیں آتی جبکہ یہ قرضے ہماری معیشت کو گُھن کی طرح کھائے جا رہے ہیں۔
ابھی تو رواں مالی سال کے بجٹ کے خسارے کا بوجھ بھی آنےوالے بجٹ میں عوام پر پڑنا ہے کیونکہ اس بجٹ میں جو آمدنی ”فرینڈز آف پاکستان“ کی جانب سے اعلان کردہ چھ ساڑھے چھ ارب ڈالر کی امداد والی ظاہر کی گئی تھی اور اس کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے بنائے گئے تھے۔ اس مد میں تو حکومت کو ایک دھیلہ بھی وصول نہیں ہوسکا۔ چنانچہ یہ ساری متوقع آمدنی بجٹ خسارے میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس خسارے کا بوجھ حکومت کے نازک اور کمزور کندھے بھلا کیسے سہار سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ عفریت بھی عوام کو نگلنے کیلئے اپنا منہ کھول چکا ہے۔ یہ خسارہ اگلے بجٹ میں شفٹ ہوگا۔ پھر بیرونی قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی بجٹ کے اخراجات کی مد میں آئیگی اور پھر اندرونی قرضوں کی ادائیگی کا حساب کتاب ہوگا تو یہ سب کچھ اور اسکے ساتھ دفاعی بجٹ کیلئے مختص رقوم کو نکالنے کے بعد قومی بجٹ میں بس خرچہ ہی خرچہ رہ جائیگا، آمدنی کا خانہ صفر ہوجائیگا۔
پھر حضور والا، حالات کے مارے بے چارے عوام کو عوام دوست بجٹ کی نوید سنا کر کیوں کچوکے لگائے جا رہے ہیں جبکہ اس بجٹ میں سوائے ٹیکسوں کی بھرمار اور اذیت ناک مہنگائی کے، عوام کو اور کوئی تحفہ نہیں ملنے والا۔ نئے ٹیکنوکریٹ مشیر خزانہ حفیظ پاشا تو سینٹ کی رکنیت کا حلف اٹھاتے ہی مسائل کی ماری قوم کو اپنے اس اعلان کا ہتھوڑا مار چکے ہیں کہ حکومت کو مہنگائی کی شرح میں اضافہ کرنا پڑیگا ورنہ اسکے اخراجات پورے نہیں ہوں گے، یعنی سٹیٹ بینک کی دکھائی گئی 13 فیصد مہنگائی کی شرح اب قلانچیں بھرتی ہوئی آگے بڑھے گی۔ مہنگائی کے اس سونامی کے آگے عوام الناس کو ٹھہرنے کی بھلا کیا مجال ہوسکتی ہے اس لئے وہ اپنے تن کے پھٹے ہوئے لباس پر ہی اپنی گرفت مضبوط کرلیں تو غنیمت ہے کیونکہ مقروض حکمرانوں کی اب اس لباس پر بھی نظر پڑ گئی ہے۔
یہ لچھن صرف وفاق کے نہیں، اِلا ماشاءاللہ صوبائی حکومت بھی مرے ہوئے عوام کی ہڈیاں نچوڑنے کا پورا پورا بندوبست کرچکی ہے۔ سٹیٹ بینک سے لیا گیا 50 ارب روپے کا اوور ڈرافٹ قرضے میں تبدیل کردیا گیا ہے تو یہ قرضہ کیا ہمارے پیارے حکمرانوں کے کندھوں پر سوار رہے گا۔ جناب ہم عوام ہی ان شاہی قرضوں کی بہترین سواری ہوتے ہیں۔ وفاقی حکمران عوام کے استعمال میں آنے والی ہر چیز پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کی ٹھانے بیٹھے ہیں تو پنجاب میں عوام کے خدمت گاروں نے صرف پراپرٹی ٹیکس میں پانچ چھ گنا اضافہ کا طے کر چھوڑا ہے، یعنی عوام اب اپنے گھروں میں بھی کرائے پر رہیں گے۔ مجوزہ پراپرٹی ٹیکس کے جو اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں اس کی روشنی میں تو لوگ یہ ٹیکس ادا کرنے کے بجائے اپنے گھروں کو فروخت کرنے کو ترجیح دینگے۔ اس وقت دس مرلے کے جس سنگل سٹوری مکان کا ٹیکس 2 ہزار روپے ہے، اسکے مالک کو اگلے مالی سال میں عوام دوست بجٹ کی فیوض و برکات سے سالانہ 12 ہزار روپے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں ادا کرنا پڑیں گے۔ یہ بوجھ غریب، مجبور عوام اٹھا بھی پاتے ہیں یا نہیں، اس سے ہمارے ہمدرد عوام دوست حکمرانوں کو بھلا کیا سروکار ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے بھی تو 50 ارب روپے کے قرضوں کا بوجھ کسی نہ کسی طریقے سے اتارنا ہے۔ سو جناب ہمارے ان مہربان، قدر دان وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے ہاتھوں مجبور و بے بس عوام کی جو درگت بننے والی ہے اسکے بعد انکے پاس زمین میں دھنسنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔
ان کی یہ فریاد تو نقار خانے میں ہمیشہ طوطی کی آواز ہی بن جاتی ہے کہ مراعات یافتہ حکمران طبقہ اپنے ذمہ واجب الادا حقیقی انکم ٹیکس کی ادائیگی کو کیوں یقینی نہیں بناتا؟ ملک کی اہم ترین شخصیات کی فہرست میں تو یہ سب خواتین و حضرات پہلے 20 نمبروں میں آتے ہیں مگر انکم ٹیکس کی ادائیگی کے معاملہ میں ”پھاڈی“ نکلتے ہیں۔ بینکوں سے ادا ہونیوالے کھربوں روپے کے قرضوں کی تین چوتھائی رقم اسی مراعات یافتہ طبقے کے آنگنوں میں جاتی ہے جنہیں معاف کرانے میں بھی بس چٹکی بجانے کی ہی تاخیر ہوتی ہے اور پھر حکومتی سرکاری حیثیت میں اس طبقے کیلئے مختص تنخواہوں، الاﺅنسز اور دیگر مراعات میں کمی کی بات کرنا تو ان کی شان میں گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ محض سینکڑوں کی تعداد میں موجود اس طبقہ اشرافیہ نے قومی دولت اور وسائل کے تین چوتھائی حصے پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے اور باقیماندہ 97، 98 فیصد عوام کے مقدر میں اب نانِ جویں کا ایک نوالہ بھی نہیں آرہا۔ بس مہنگائی ہی مہنگائی، محرومی ہی محرومی، مایوسی ہی مایوسی، ویرانی ہی ویرانی ان کے مقدر کا حصہ بن گئی ہے۔ پھر تصور کرلیجئے، اتنے غیرمتوازن معاشرے میں آبرومندی کے ساتھ زندہ رہنے کی کوئی امید وابستہ کی جاسکتی ہے؟ ہم قبرستان کے باسیوں کیلئے زندگی کی دعا! توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے۔