ججز بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر اور چیف ایگزیکٹو

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

شکر ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان کے ساتھ وزیراعظم مخدوم گیلانی نہ تھے، وہ ناشتے میں بھی نہ تھے شاید وہ بغیر دعوت کے چیف جسٹس کے گھر ناشتہ کرنے پہنچے ہوئے ہوں۔ بہرحال 25 مئی سے ایک دن پہلے آرمی چیف جنرل کیانی ان سے ملے تھے۔ وہ ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ سے پہلے بھی ملے تھے۔ لانگ مارچ سے لے کے شارٹ مارچ تک ان کی ہدایات آتی جاتی رہی تھیں۔ حکومت میں آئے بغیر خدمت اچھی ہے ۔ 25 مئی کاڈاکٹر بابر اعوان کا کریڈٹ مخدوم صاحب ہی ڈس کریڈٹ بنائیں گے اور کہیں گے کہ میں نے نہ کہا تھا کہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کر لیں گے۔ ڈاکٹر بابر اعوان اور وزراءکی فوج ظفر موج نے عدالت کی ہر بات مان لی جس طرح مخدوم گیلانی نے چیف جسٹس کی ساری باتیں مان لی تھیں اور تصادم نہیں ہوا تھا تب بھی تصادم نہ کرنے کا اعزاز خود بلکہ خودبخود لے لیا تھا۔قمرالزمان کائرہ ایک صحافی سے تلخی کر رہے تھے کہ تم امن چاہتے ہو کہ تصادم چاہتے ہو۔ 25 مئی بھی یونہی گزر گئی ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان اچھا بولتے ہیں۔ انہوں نے بولا کہ ہم عدالت کے مشکور ہیں بلکہ مشکورحسن ہیں۔ ظاہر ہے کہ عدالت میں بغیر بلائے تو نہیں جا سکتے۔ بابر اعوان کو تو عدالت نے بلایا تھا باقی کے 13 عدد وزراءکو وزیراعظم نے بھجوایا تھا۔ بغیر دعوت کے جانے کا انہیں بڑا تجربہ ہے۔ مخدوم امین فہیم کو تو مخدوم گیلانی نے حکم نہیں دیا تھا مگر ان کا خیال ہے کہ کچھ کام حکم کے بغیر بھی کر لینا چاہئے۔ ان سے کوئی پوچھ لیتا کہ اگر آپ وزیراعظم ہوتے تو کیا پھر بھی آپ اس طرح سپریم کورٹ آتے اس کا جواب ان کے پاس نہیں مگر وہ اس سوال پر خوش ضرور ہوتے۔ ابھی تک وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ” اگر میں وزیراعظم ہوتا مگر میں وزیراعظم ہوتا“۔ وہ سپریم کورٹ کی طرف ڈاکٹر بابر اعوان کی قیادت اور لطیف کھوسہ کی حفاظت میں جس دھج سے جا رہے تھے لگتا تھا کہ وہ کبھی ”اگر مگر“ کے دائرے سے نہیں نکلیں گے۔ ان کے پیچھے برادرم منیر احمد خان بھی تھے۔ ایک بار ہاتھ ملاتے ہوئے مجھ سے کہا کہ آپ فوجی آمریت کے خلاف جس طرح سینہ سپر ہیں اس کے لئے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ کیا وہ آج بھی میرے شکر گزار ہیں کہ میں سیاسی آمریت کے خلاف سینہ سپر ہوں۔ یہ بات بھی صدر مشرف اور صدر زرداری میں مشترک ہے کہ اس نے بھی اپنے نقادوں کی پرواہ نہ کی تھی اور صدر زرداری نے بھی اپنے نقادوں کو لفٹ نہیںکرائی۔ مخدوم امین فہیم نے بھی صدر زرداری کے آمنے سامنے ہوکے دیکھ لیا اب وہ صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور مخدوم گیلانی کے بھی خادم بنے ہوئے ہیں۔ آج کل ان میں اور رضا ربانی میں اس حوالے سے مقابلہ ہے۔ رضا ربانی کو بھی راضی برضا ربانی ڈاکٹر بابر اعوان نے کیا ہے۔ سنا ہے ناشتے کے بعد مخدوم امین فہیم نے دعا کرائی۔کسی نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم دونوں سندھ سے کیسے ہوں گے۔ مخدوم نے کہا نوازشریف اور رفیق تارڑ بھی تو پنجاب سے تھے۔
نوید قمر آیا تھا نیند کرنے ۔ اس سے پوچھ کر دیکھ لیں گے کہ وہاں ڈاکٹر بابر اعوان نے کیا کہا تھا۔ راجہ پرویز اشرف یہاں بھی شرمندہ شرمندہ تھا اسے دکھ ہے کہ سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی تھی وہاں اتنے وزیر شذیر تھے تو باقیوں کا کیا قصور تھا ۔ احتیاطاً ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو بھی ساتھ لے لیا ہوتا غیر ضروری حفاظتی انتظامات کی ضرورت نہ پڑتی۔ہمارا میڈیا بھی بڑا ”وہ“ ہے وزیروں کو اس طرح دکھا رہا تھا کہ وہ صرف کیمروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ راجہ پرویز اشرف تو ٹکٹکی باندھ کر چل رہا تھا ۔ لگتا تھا کہ جیسے وہ سب سپریم کورٹ کو فتح کرنے آ رہے ہوں۔ لطیف کھوسہ جب سے اٹارنی جنرل نہیں رہے تو کچھ زیادہ ہی قانونی جنرل ہو گئے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انصاف ہو گا خواہ آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے اور آسمان نہیں گرا، یعنی انصاف ہوا ہے۔ ہماری آزاد عدلیہ کے لئے امتحان یہ ہے کہ بے انصافی نہیں ہوگی اور بے انصافی نہ ہونے دینا بھی انصاف ہے۔ عوام کے ساتھ واقعی بے انصافی ہو رہی ہے اور وہ صرف عدالتوں کو نجات دہندہ سمجھنے لگے ہیں۔ آئینی معاملات میں پھنسا کر ملک کو لوگوں کے لئے جہنم زار بنایا جا رہا ہے کیا عوام کے مسائل کا حل غیر آئینی ہے؟....
جس کا سایہ بھی اپنے سروں پہ نہ تھا ہم پہ وہ آسماں بھی گرایا گیا
جو زمین اپنے قدموں کے نیچے نہ تھی وہ ہمارے لہو سے سجائی گئی
ہمارے وزیر شذیر صرف صدر زرداری کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ ہم اس آسمان کو گرنے نہیں دیں گے۔ ایک جانور ہے ٹٹیری۔وہ رات کو آسمان کی طرف ٹانگیں کر کے سوتا ہے کہ اگر آسمان گرا تو میں اسے سنبھال لوں گا۔ مخدوم گیلانی، مخدوم امین فہیم اور سارے خادم وغیرہ کہہ رہے ہیں کہ اگر صدر زرداری کے خلاف فیصلہ ہوا تو ہم سب لوگ مستعفی ہو جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد سب پریشان ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا تو مخدوم گیلانی نے سرگوشی کی کہ میں وہ ایگزیکٹو آرڈر واپس لے لوں گا جس کی رو سے ججز کی بحالی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کے حوالے سے کہا ہے” اوور ٹو مائی ڈیڈ باڈی“تو نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ ہو گا مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان ”زندہ تر“ یعنی ریلیکس اور خوش خوش نظر آ رہے تھے اور موت راجہ پرویز اشرف کی آنکھوں میں رو رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کے وکیل اعتزاز احسن کو سپریم کورٹ میں کیوں ساتھ نہیں رکھا گیا وہ قابل اعتبار کیوں نہیں ہیں۔ تاریخیں دینے والوں کے لئے 25 مئی کا دن بڑا مایوس کن تھا اب بھی کچھ نہیں ہوا۔ مری میں ابھی نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ کی میٹنگ ہو رہی ہے۔