اندھے ‘بہرے اور ننگے کی حکمرانی

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ایک تھا اندھا ایک تھاننگا اور ایک تھا بہرا وہ تینوں شہر سبا کی ساری آبادی سے بھی بھاری تھے دانائے رومؒ فرماتے ہیں کہ شہر سبا کی مجموعی آبادی دس شہروں سے بھی زیادہ تھی وہ شہر بہت لمبا چوڑااور وسیع تھا اس کی آبادی کئی قسم کی تھی پیاز کے چھلکوں کی مانند تہ در تہ مگر سبا کے وہ سارے باسی مل کر بھی ان تینوں کے برابر نہیں تھے ان تینو ں کے جو بقول مولاناؒ ”کھانے کے پکے اور عقل کے کچے“ تھے اور شہر سبا اور اس کی ساری آبادی پر بھاری تھے
آں یکے بَس دور بیں و دیدہ کور
از سلیمانؑ کور و دیدہ پائے مُور
واں دگربس تیز گوش و سخت کر
گنج و دروے نیست یک جو سنگ زر
واں دگرعورد برہنہ لاشہ تاز
لیک دامن ہائے جامہ او دراز
یعنی اندھا خود غرضی کے معاملات میں بہت تیزتھا وہ ایسے معاملات میں چیونٹی کے پاﺅں کے نشان بھی دیکھ لیتا تھا لیکن دین و دانائی کی ہر بات کے معاملے میں سخت اندھا تھا اور وہ بہرا بہت ہی تیز کان رکھتا تھا اور اتنا ہی سخت بہرا بھی تھا وہ ایسا خزانہ تھا جس میں ایک جو کے برابر بھی سونا نہیں تھا یعنی وہ اپنے پیٹ کا پرستار تھا اس میں عوام کی بھلائی کی خواہش تک نہیں تھی ان کے حالات سے اسے کوئی غرض نہیں تھی اس لئے وہ ان کے مصائب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم تھا اور وہ جو ننگا تھا خوف خدا کے معاملے میں سرتا پا برہنہ تھا اگرچہ وہ بہت ہی شاندار لباس پہنے رکھتا تھا اور وہ تینوں کھانے کے پکے اورعقل کے کچے شہر سبا کی ساری آبادی پر بھاری تھے۔
ایک روز وہ تینوں اکٹھے بیٹھے تھے کہ اندھے نے کہا ”دشمن فوج آرہی ہے “بہرے نے کہا” ہاں واقعی میں تو اس کے سپاہیوں کی سرگوشیاں بھی سن رہا ہوں“ ننگا چلایا ” وہ تو میرے اختیارات کے چوغہ کا دامن کاٹ لیں گے آﺅ کچھ کریں مجھے تو اس فوج سے بہت خطرہ محسوس ہورہا ہے“۔ اندھے نے کہا” اٹھو اٹھو وہ تو سر پر چڑھ آئے ہیں وہ تو ہمیں پکڑلیں گے“بہر ے نے کہا” دوستو خبردار ہوشیار! بُرا وقت بہت نزدیک ہے“ ننگا چلایا” ہائے میرادامن اختیار! وہ تو لالچ میں اسے کاٹ لیں گے میں تو بہت خطرے میں ہوں۔ باہمی منصوبے کے تحت وہ قریبی گاﺅں میں جا گھسے اندھے نے کہا میں نے ایک موٹا تازہ مرغ دیکھا ہے“ بہرے نے کہا” ہاں میں نے اس کی آواز سن لی ہے“ ننگے نے اس مرغ کو پکڑ کر اپنے اختیارات کے دامن میں چھپا لیا پھر انہوں نے اس مرغ کو ایک دیگچی میں بند کر کے خوب ابالا مگر اس کا گوشت تو پہلے ہی کوے نوچ نوچ کر کھا چکے تھے ہڈیاں ہی ہڈیاں بچی تھیں وہ اس کی ہڈیاں بھی ایسے چٹ کر گئے جیسے شیر اپنے مارے ہوئے شکار کوچٹ کر جاتا ہے وہ تینوں ہڈیاں کھا کھا کر ہاتھیوں کی مانند موٹے اور بد صورت ہوگئے اتنے موٹے کہ وہ پوری دنیا کو اپنے سامنے کم تر سمجھنے لگے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ دراصل بات انجام کی نہیں اصل کہانی ان اندھوں بہروں اور ننگوں کے بارے میں ہے جواپنی غرض کے دائرہ سے باہر کچھ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتے تھے جن کے پیٹ کی آواز ہی ان کی راہنما ہوتی تھی اوروہ زرق برق شاہانہ لباس میں بھی خوف خدا کے معاملے میں بالکل برہنہ ہوتے تھے اور ہر کوئی ان کے ننگ کو دیکھ رہا تھا اور جسے وہ ننگا اپنے اختیارات کا دراز دامن بتاتا ہوتا تھا اور اس کے بارے میں فکر مند رہتا تھا وہ بھی اس کے برہنہ پن کو چھپا نہیں سکتا تھا۔ وہ شاہی لباس میں بھی بالکل ننگادکھائی دیتا تھا ہر صاحب دانش کو۔ مگر وہ اندھا وہ بہرا اور وہ ننگا شہر سبا کی دس شہروں کے برابر آبادی سے بھی بھاری کیسے ہوگئے تھے؟ بقول مولانا اپنے جیسے اندھوں بہروں اور ننگوں کی وجہ سے وہ اپنے جیسے اپنے جتھوں کے لیڈر ہوتے تھے اور انہوں نے اپنے ان جتھوں کی مدد سے سارے شہر سبا پر اپنی حکمرانی قائم کی ہوئی تھی ساری آبادی کو بے وزن کردیا تھا انہوں نے کوﺅں کے نوچے مرغ کو ابال کر اس کی ہڈیاں تک کھا لی تھی اور انہوں نے مل کر شہر سبا کو برباد کردیا تھا اُن کھانے کے پکوں اور عقل کے کچوں نے اور ان کے اندھے، بہرے ننگے جتھوں نے مل کر باہمی مفاہمت سے وہ شہر برباد کردیا تھا کہ
حرص نابینا ست بیندمُوبُمو
عیب خلقاں او بگوید کُو بکُو
عیب خودیک ذَرّہ چشم ِکوراو
می نہ بیندگرچہ ہست او عیب جو
عورمی ترسد کہ دامانش بُرند
دامن مردِ برہنہ کے دَرند
یہ کہ ” لالچ اندھا ہوتا ہے لالچی دوسروں کے تو بال بال سے واقف ہوتا ہے انہیں بیان کرتا پھرتا ہے مگر اپنے کسی عیب کے ایک ذرہ سے بھی واقف نہیں ہوتا اور ننگا اس خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے شاہی چوغہ کا دامن نہ کوئی چرالے مگر اس کے پاس تو ہوتا ہی ایسا کچھ نہیں ہے جسے کوئی انسان چرانا پسند کرتا ہو۔ننگے کا ننگ کون چرائے گا؟“!