ڈیڑھ ارب ڈالر میں ککڑی کا گوشت

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
ڈیڑھ ارب ڈالر میں ککڑی کا گوشت

 پاکستانی فوج توسعودی عرب کو بر آمد نہیں کی جائے گی ، اس کی جگہ پاکستانی ککڑیوں کی بر آمد کھل گئی ہے ۔ ان کی قسمت پر رشک آتا ہے۔
جتنا زور ملائیشیا کے جہاز کی تلاش میںلگایا گیا، اگراس کے لاکھویں حصے کے برابر ہم نے سعودی عرب کے ڈیڑھ ار ب ڈالرکی اصل کہانی کے کھوج کے لئے کوشش کی ہوتی تو ہم گوہر مقصود پا چکے ہوتے۔
میںنے دو دن کا غوطہ لگایا اور کالم کا ناغہ کیا، میری دو دیہاڑیاں تو ماری گئیں مگر میںڈیڑھ ارب ڈالر کے راز کی تہہ تک پہنچ گیا ہوں۔اس کے لئے مجھے مختلف مارکیٹوں میں گھومنا پڑا، مرغی والے کے کھوکھے پربیٹھا شخص جس قدر خوش تھا، اس پر مجھے حیرت ہوئی۔
کھوکھے والے نے بھول پنے میں مجھے بتا دیا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مرغی کے گوشت پر عائد پابندی کافیصلہ واپس لے لیا ہے ۔ یہ پابندی برڈ فلو کی وجہ سے 2005 میںعائد کی گئی تھی ، پھر عالمی ادارہ صحت نے ستمبر2008 میں پاکستان کو برڈ فلو کی بیماری سے کلیئر کر دیا۔
پاکستانی میڈیا بڑی بڑی اور چٹ پٹی خبروں کا تعاقب کرتا ہے، بے چاری ککڑی اس میڈیا کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی مگر انتہائی خاموشی سے ایک بڑا فیصلہ ہو گیا۔سعودی عرب کے مختلف وفودکئی ماہ سے پاکستان ا ٓرہے ہیں، ایسے ہی ایک چار رکنی سعودی وفد نے ملک بھر کے مرغی خانوں کا دورہ کیا، آخر وہ وفاقی سیکرٹری فوڈ سیکورٹی سیرت اصغر کے پاس پہنچے جنہوں نے ملک اور ککڑیوں کے مفاد میں سعودی مہمانوں کو یقین دلایا کہ اب برڈ فلو کانام ونشان باقی نہیں رہا۔چنانچہ ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت مرغی کا گوشت، انڈے اور ایک روز کے چوزے سعودی عرب کو برآمد کئے جائیں گے، باقی عرب ملکوں نے بھی اس فیصلے کی پیروی کی تو پاکستان پولٹری کی بر آمد سے ایک ارب ڈالر سالانہ کمائے گا۔
لیجئے میں نے ڈیڑھ ارب میں سے ایک ارب کا حساب تو پیش کر دیا باقی آدھے ارب کا حساب ہمارا میڈیا کرتا پھرے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا کی طرف سے حکم ملا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی قربانی پیش کریں،چھری چلنے کا وقت آیا تو بیٹے کی بجائے دنبہ ذبح ہو گیا۔سعودی عرب نے ہم سے ایک دو ڈویژن فوج مانگی تھی مگرفوج تو جانے سے بچ گئی ، یہاں چھری بےچاری ککڑیوں پر چل گئی۔
یہ ایک سادہ سی کہانی ہے جس کی تشریح کے لئے پرویز رشید کو کتنی ہی تاویلیں پیش کرنا پڑ رہی ہیں، پرویز رشید کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس پیسہ وافر ہے، وہ ساری دنیا میں سرمایہ کاری کرتا ہے، اب کچھ سرمایہ اس نے پاکستان میں لگا دیا، لیکن کس پرا جیکٹ میں ، کوئی یہ راز نہیں کھولتا۔ پرویز رشید سے پوچھا گیا کہ پہلے روز ہی کیوںنہ بتایا گیا کہ اتنی بڑی رقم مل گئی ، کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے ہی کسی مصلحت کے تحت خاموش رہنے کی تاکید کی تھی۔ اورمصلحت یہ تھی کہ سعودی ہمسائے بھی کچھ مدد مانگ رہے تھے جن کی فرمائش سعودی عرب نے بوجوہ پوری نہ کی ،اس لئے سعودی چاہتے تھے کہ پاکستان آنے والے ڈالروں کی خبر ان ہمسایوں تک نہ پہنچے۔ اس تاویل کے اندر کاتضاد کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ اگر کوئی مصلحت تھی تو اس کا لحاظ کیوں نہ رکھا گیااور اب پاکستانی خزانے میں آنے والے ڈالروں کی خبر عام ہونے سے سعودی ہمسایوں نے جو گلے شکوے کئے ہوں گے اور جن کی وجہ سے سعودیوں کو خفت اٹھانا پڑی ہو گی ،اس کا مداوا کیسے کیا گیا۔کیا سعودیوں کو مجبور ہو کر ان کے ناز نخرے بھی برداشت کرنے پڑ گئے۔
پرویز رشید کی یہ نرالی تاویل بھی سن لیجئے کہ وزیر اعظم امن پسند ہیں،وہ پاکستان کے اندر اپنی فوج کو کسی لڑائی میں نہیں جھونکنا چاہتے تو سعودی عرب، بحرین ، قطر یا شام میں اپنی فوج کو قربانی کا بکرا کیوںبنائیں گے۔اس تاویل نے کم از کم مجھے تو لاجواب کر دیا ہے مگر وزیر اعظم کی امن پسندی کی دوسری وجہ جو پرویز رشید نے بتائی ، وہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ عناصر حکومت کے خلاف سر اٹھا رہے ہیں، شام میں شیعہ حکومتی عناصراپنے سنی عوام سے لڑ بھڑ رہے ہیں اور بحرین میں عوام کی شیعہ اکثریت، اقلیتی سنی بادشاہت کے درپے ہے ، پاکستان نے اس جھگڑے میں چھلانگ لگائی تو ہم بھی فرقہ ورانہ آگ میں جل جائیں گے۔اس منطق پر قربان جاﺅں۔ گلگت میں بسوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں اور ایک خاص فرقے کے لوگوں کی گردنیں کاٹ دی جاتی ہیں،کوئٹہ میں ہزارہ برادری بھی ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھتی ہے جسے آئے روز نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہزارہ جات سینکڑوںلاشیں یخ بستہ آسمان کے نیچے سڑکوں پر رکھ کر احتجاج پر مجبور ہیں۔لاہور میں داتا دربار کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پشاور میں رحمن بابا کا مزارا ڑا یا جاتا ہے ، لاہور ہی میں ایک مدرسے کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی کو شہید کیا جاتا ہے، ملک بھر میں دو مسلکوں کے لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔جلوسوں، تعزیوں، مجلسوں اور جنازوں تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیا اس سے بھی بڑئی کوئی خوفناک آگ ہے جو سعودی عرب کو فوج بھیجنے کی وجہ سے ہمیں بھسم کر سکتی ہے۔
آئیے پرویز رشید صاحب !میں بتاتا ہوںکہ ہمارے ساتھ اور پوری مسلم امہ کے ساتھ کیا ہوا۔ ابھی چند روز پہلے ایک بیوہ امریکی خاتون وزیر اعظم کو ملنے آئی تھیں،یہ خاتون ایک امریکی نمائندے ہالبروک کی بیوہ ہیں، ہالبروک صاحب نے ہم پر ایک قیامت ڈھائی، وہ قیامت ڈھانے میں پی ایچ ڈی تھے اور یہ کوئی اعزازی ڈگری نہیں تھی، انہوںنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ مشرقی یورپ کی مسلمان ریاستوں کی تقسیم در تقسیم کی صورت میں کیا تھا۔یہ ریاستیں پہلی بار اس وقت تقسیم ہوئی تھیں جب ظالمانہ طریقے سے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے۔ اس عمل کو بلقنائزیشن کا نام دیا گیا تھا۔ مگر جب دیوار برلن کے انہدام کے بعد مشرقی یورپ کے ٹکڑے ہوئے تو مسلمان علاقوں ، کسووو، بوسنیا، ہر زو گوینا، البانیہ کی قسمت کا فیصلہ ہالبروک صاحب کے ہاتھ میں دیا گیا جن کی نگرانی میں پہلے تو کھل کر خونریزی ہوئی، پھر ان ریاستوں کے اتنے ٹکڑے ہوئے کہ لوگ بلقنائزیشن کی اصطلاح کو بھول گئے اور اس کی جگہ ایک نئی اصطلاح ایجاد ہوئی ۔۔ ہالبروکنائزیشن۔یہی صاحب پاکستان میں تعینات کئے گئے۔وہ ہمیں ٹکڑوں میںبانٹ کر موت سے ہمکنار ہوئے۔ ہالبروک کی بیوہ تو صرف یہ دیکھنے آئی ہوں گی کہ ہم ایک دوسرے کی گردنیںکاٹنے کا سبق بھول تو نہیں گئے۔انہوںنے ہمارے دو درجن فوجی اہل کاروں کی گردنیں کٹنے ، ان کی لاشیں مردہ جانوروںکی طرح گاڑیوں سے گھسیٹنے کی ہولناک وڈیو دیکھی ہوگی تومحترمہ کو سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہوگا۔
سعودی عرب کو ہم نے اپنی ککڑیاں ذبح کرنے کےلئے پیش کر دیں ۔ پاکستان کے عوام نواز شریف کو دعائیں دیں گے کہ ہم کسی کے پھڈے میںنہیں پڑے۔