روشن روشن ’’نظریۂ پاکستان!‘‘(آخری قسط)

کالم نگار  |  اثر چوہان
روشن روشن ’’نظریۂ پاکستان!‘‘(آخری قسط)

ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں تقریباتِ یومِ قراردادِ لاہور 1940ء (قراردادِ پاکستان) کے دوسرے روزکی نشست سے  بحیثیت صدر خطاب کرتے ہُوئے ڈاکٹر مجید نظامی نے مزید کہا کہ ’’ہم نئی نسل کو اِس بات پر آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے جِس نے ہمارے وجود کو آج تک تسلیم نہیں کِیا۔ قائدِاعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دِیا تھا۔ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ رکھ کر پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ ہمیں کشمیر کو بھارت کے قبضے سے چُھڑانا ہو گا خواہ ایٹمی قوت کو ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے؟‘‘۔ نظامی صاحب نے کہا کہ ’’میری دُعا ہے کہ مغربی اور مشرقی پاکستان ایک بارپھر مُتحد ہو جائیں اور پاکستان دُنیا کا سب سے بڑا اسلامی مُلک بن جائے‘‘۔ یومِ پاکستان کے موقع پر امیر جماعتہ اُلدّعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید اور جماعتہ اُلدّعوۃ کے دوسرے اکابرین نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ’’تحریکِ احیائے نظریۂ پاکستان‘‘ کی شکل میں جلوسوں‘ جلسوں اور کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہُوئے وہی مؤقف اختیار کِیاجو 23 مارچ 1940ء سے ’’نوائے وقت‘‘ کے بانی جناب حمید نظامی (مرحوم) اور 1962ء سے جناب مجید نظامی اپنائے ہُوئے ہیں۔ جناب مجید نظامی کی سرپرستی اور قیادت میں سرگرم عمل دو اداروں ’’تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ‘‘ اور ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ نے تو ’’نظریۂ پاکستان ‘‘ کو نہ صِرف پاکستان بلکہ سات سمندر پار تک پہنچا دِیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ  حافظ صاحب کی تحریک کا نام ’’تحریکِ تقویتِ نظریۂ پاکستان‘‘ ہوتا ’’تحریکِ احیائے نظریۂ پاکستان‘‘ سے تو یہ تاثر مِلتا ہے کہ خدانخواستہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ مُردہ تھا جسے حافظ سعید صاحب اب زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مَیں نے مختلف نیوز چینلوں پر نشتر پارک کراچی میں امیر جماعتِ اسلامی سیّد منور حسن کو جماعتِ اسلامی کے  تحفظِ پاکستان کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہُوئے سُنا اور دیکھا۔ جب منورصاحب نے کئی بار بانیٔ پاکستان کو ’’قائدِاعظم علیہ رحمت‘‘ کہا تو مجھے اچھا لگا۔ قاضی حسین احمد (مرحوم) بھی قائدِاعظم قائدِاعظم ہی کہتے تھے۔ جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں مولانا مودودی نے   صدر ایوب خان کے مقابلے میں مادرِ مِلّت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کرکے تحریکِ پاکستان میں اپنے منفی روئیے کی تلافی کر دی تھی تو اُس کے عوام پر خوشگوار اثرات مرتب ہُوئے تھے۔
بھارت کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بہن  شریمتی وِجے لکشمی نے کہا تھا کہ ’’اگر آل انڈیا مسلم لیگ کے پاس 100 گاندھی اور 200 مولانا ابُوالکلام آزاد ہوتے تو بھی پاکستان نہیں بن سکتا تھا لیکن اگر انڈین نیشنل کانگریس کے پاس ایک ہی محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہیں ہو سکتا تھا‘‘۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں 60 کی دہائی میں ہسٹری کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر عبدالحمید (مرحوم) کی کتاب" Muslim Separation in India "  گذشتہ دِنوں مجھے انفارمیشن گروپ کے پروفیسر محمد سلیم بیگ نے مطالعہ کے لئے دی تھی۔ اِس کتاب میں لکِھا ہے کہ ’’اورنگزیب عالمگیر کے بعد قائدِاعظم نہ صِرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری مسلم دُنیا کے سب سے بڑے مسلمان تھے‘‘۔ مَیں نے اپنے 29 نومبر 2013ء کے کالم میں لکِھا تھا کہ ’’جب مَیں طالبعلم تھا تو میرے والد صاحب رانا فضل محمد چوہان مجھے مِیلاد شریف کی محفلوں میں لے جایا کرتے تھے۔ محفلِ مِیلاد کے آخر میں جب اہلِ محفل انتہائی عقِیدت و احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر نعت خوان حضرات کے ساتھ مل کر ’’پیغمبر ِ انقلابؐ‘‘ کی خدمت میں بہ آوازِ بلند ’’سلام‘‘ پیش کرتے تھے تو کئی بار تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپؐ محفل میں تشریف لے آئے ہیں‘‘۔ 23 مارچ کو جب جنابِ مجید نظامی اپنی صدارتی تقریر میں  انتہائی محبت اور عقِیدت سے قائدِاعظم کی قومی خدمات کا تذکرہ کر رہے تھے تو مجھے محسوس ہُوا کہ گویا حضرت قائدِاعظم اِس محفل میں موجود ہیںاور وہ شرکائے محفل کو شفقت اور محبت کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
پروفیسر ہمایوں احسان‘ پروفیسر خالدہ مُنیر الدّین چُغتائی‘ ڈاکٹر اسماء ممدوٹ اور خانوادۂ حضرت سُلطان باہوؒ کے صاحبزادہ سُلطان احمد علی کی تقریروں نے محفل کو پہلے ہی گرما دِیا تھا۔ ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد‘ وائس چیئرپرسن محترمہ مجیدہ وائیں‘  میاں فاروق الطاف‘ صاحبزادہ سُلطان احمد علی اور مولانا محمد شفیع جوش کے ساتھ ساتھ مَیں نے بھی ’’نوائے وقت‘‘ کی 74ویں سالگرہ پر مبارکباد کے لئے جنابِ مجید نظامی کی خدمت میں گُل دستہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اُس وقت میرے ذہن میںنامور گلوکار مہدی حسن مرحوم کے گائے ہُوئے ایک مِلّی ترانے کا یہ شعر گونج رہا تھا کہ ؎
’’اپنی جاں نذر کروں‘ اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مردِ مجاہد! تجھے کیا پیش کروں‘‘
 جنابِ نظامی نے صاحبزادہ سُلطان احمد علی کو کامیاب لیڈر بننے کی دُعا دی۔ صاحبزادہ صاحب نے علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کے افکار و نظریات کی روشنی میں عام لوگوں کو  سماجی اور معاشی انصاف مہیا کرنے اور موجودہ جاگیردارنہ‘  سرمایہ دارانہ اور فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے پر زور دِیا۔ پروفیسر ہمایوں احسان نے کہا کہ ’’آج ہمیں قائدِاعظم جیسی قیادت نصیب نہیں ہے‘‘۔ سابق رُکن قومی اسمبلی چودھری نعیم حسین چٹھہ ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کے رُکن ہیں۔ وہ مجھے اور ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کے مُشیر قانون جسٹس (ر) مُنیر احمد مُغل کو صاحبزادہ سُلطان احمد علی کے ساتھ ظہرانے پر جم خانہ کلب لے گئے۔ جواں سال صاحبزادہ سُلطان احمد علی کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ اُن کی گفتگو سے پتہ چلا کہ وہ عام صاحبزدگان سے ہٹ کر ہیں۔
 ہم کھانا کھا کر باہر نکل رہے تھے۔ دروازے پر سابق نگران وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں افضل حیات اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممتاز رہنما بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن سے ملاقات ہُوئی۔ ہم سب نے رسمِ معانقہ بھی اداکی۔ بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن کے والد چودھری محمد احسن علیگ اور چودھری نعیم حسین چٹھّہ کے والد چودھری محمد حسین چٹھّہ ’’تحریکِ پاکستان ورکرزٹرسٹ‘‘ کے " Gold Medalists   ہیں اور میرے والد (مرحوم) رانا فضل محمد چوہان بھی۔ اِس طرح محترم مجید نظامی نے تحریکِ پاکستان کے کارکنوں میں ’’مواخات‘‘  کا ایک لازوال رشتہ قائم کر دِیا ہے اور اُن کی اولاد کے لئے ایک نیا اور انتہائی قابلِ فخر ’’شجرہ نسب‘‘ بھی بن گیا ہے۔ جم خانہ کلب کی سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے چودھری اعتزاز احسن نے کہا  ’’مَیں میاں افضل حیات صاحب کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں‘‘  چودھری نعیم حسین چٹھّہ نے ہاتھ ہلا دِیا۔ مَیں نے اعتزاز صاحب سے کہا کہ اِس سے پہلے کہ کوئی غیر شخص میاں صاحب کو اپنے ساتھ لے جائے‘  آپ لے جائیں۔ اِس پر چٹھّہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ ’’ہمیں بھی یہ کوشش کرنا ہو گی کہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ پر غیر لوگ نہ قبضہ کر لیں‘‘۔ مَیں نے عرض کیِا پاکستان بنانے والوں کی دوسری اور تیسری نسل اور اُن کے بعد آنے والی نسلیں یہ کیسے ہونے دیں گی؟۔ جن کے دِلوں کو روشن روشن ’’نظریۂ پاکستان‘‘ قیامت تک روشن تاب  بناتا رہے گا۔