”گھر کا نہ گھاٹ کا“

کالم نگار  |  سعید آسی
”گھر کا نہ گھاٹ کا“

ارادہ تو برطانوی عوام کو سلام پیش کرنے کا تھا کہ انہوں نے اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لئے اجتماعی شعور کو بروئے کار لا کر ریفرنڈم میں یورپی یونین کے ساتھ وابستہ رہنے کی حامی اپنی ”کنزرویٹو“ حکومت کو شکست دی اور یورپی یونین سے برطانیہ کو باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ پھر بھارت کو امریکی سرپرستی کے باوجود نیوکلیئر سپلائر ز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے میں ناک آﺅٹ والی ناکامی ہوئی تو اس پر قلم اٹھانے کو دل مائل ہوا۔ بے شک ہمیں بھی ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے ”این پی ٹی“ پر دستخط نہ کرنے کے باعث ”این ایس جی“ کی رکنیت حاصل نہیں ہو سکی مگر اس قلق سے زیادہ ہمیں بھارت کو ”این ایس جی“ کی رکنیت حاصل نہ ہونے پر طمانیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ موضوع ایک بھرپور کالم کا متقاضی ہے مگر میری نظر ایک تیسری خبر پر آ کر ٹک گئی اور ذہن کے پردے پر ماضی کی یادیں کھنگالنے والا ایک پورا دفتر کھل گیا۔ یہ خبر پیپلز پارٹی کے ترجمان سنیٹر فرحت اللہ بابر کے ایک بیان پر مشتمل ہے جس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی سے انتہائی روکھے انداز میں لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کی کسی بھی رائے اور تبصرے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق ہے نہ پیپلز پارٹی ان سے متفق ہے۔ حسین حقانی پر بیٹھے بٹھائے یہ افتاد کیوں ٹوٹی؟ تین روز قبل کے سرتاج عزیز کے اس بیان سے ذہن حسین حقانی کی جانب پلٹ گیا کہ امریکہ میں سابق سفیر کی وجہ سے ہمیں پاکستان کے لئے لابنگ میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ یہ لابنگ اس وقت پاکستان کو ”این ایس جی“ کی رکنیت دلانے کے لئے ہو رہی تھی، سرتاج عزیز کے اس بیان میں واضح اشارہ موجود تھا کہ امریکہ میں مقیم سابق سفیر، جو لازمی طور پر ہمارے دوست حسین حقانی ہی ہیں، این ایس جی کی رکنیت کے لئے پاکستان کی مخالف لابی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مگر یہ پریشانی تو حکمران مسلم لیگ (ن) کے لئے ہو سکتی تھی جبکہ حسین حقانی کی پارٹی بدری کا حکم ان کی ممدوح بینظیر بھٹو کی پارٹی میں سے ہو گیا۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ یہ معاملہ مزید گھمبیر اس لئے نظر آیا کہ عین اس وقت جب سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین آصف علی زرداری امریکہ پہنچ کر امریکی سنیٹر جان مکین کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کو امریکی ایف 16طیاروں کی فراہمی کی وکالت کر رہے تھے تو سنیٹر فرحت اللہ بابر حسین حقانی کی پیپلز پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے تھے۔ اوہو۔ یہ تو ”دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا“ والی بات ہو گئی۔ حسین حقانی کے اسلامی جمعیت طلبہ سے مسلم لیگ (ن) اور پھر وہاں سے پیپلز پارٹی تک کے سفر کا جائزہ لیا تو یہی ضرب المثل ان پر صادق ہوتی نظر آئی۔

ترجمان پیپلز پارٹی کے اظہار لاتعلقی پر حسین حقانی کا تبصرہ بھی خوب ہے۔ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا ساتھ دیا جبکہ ان کے دانشورانہ کام کو پارٹی سیاست میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ میں کھوج لگانے بیٹھ گیا کہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے کون سے مشکل وقت میں حسین حقانی خم ٹھونک کر ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے تو 1993ءمیں اس وقت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی جب محترمہ بینظیر بھٹو دوسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئی تھیں۔ ان کے لئے یہ راہ بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خاں نے ہموار کی تھی جن کی چھوٹی بہن سے حسین حقانی نے شادی کر لی تھی۔ اسی فیض میں انہیں بنگلہ دیش میں پاکستانی سفیر کا منصب بھی مل گیا۔ 1996ءمیں پیپلز پارٹی اقتدار سے آﺅٹ ہوئی تو حسین حقانی مستقل طور پر امریکہ میں جا آباد ہوئے اور پیپلز پارٹی کے اس وقت کے اپوزیشن کے دور میں پاکستان میں کوئی مقدمہ، کوئی گرفتاری، کوئی جیل اور ریاستی مشینری کی کوئی دوسری سختی حسین حقانی کے کھاتے میں شامل نہیں۔ پھر آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز 2008ءمیں اقتدار میں آئی تو حسین حقانی کو امریکہ میں قیام کے دوران ہی امریکہ کے لئے پاکستان کی سفارت بھی مل گئی جبکہ ان کی اہلیہ مسز اصفہانی کو جو ان کی دوسری اہلیہ ہیں امریکی شہری ہونے کے باوجود حکمران پیپلز پارٹی نے سنیٹر منتخب کرا لیا۔ کیا پیپلز پارٹی سے وابستہ یہ سختیاں تھیں جن کے دوران حسین حقانی نے آصف علی زرداری کا ساتھ نبھایا؟ اور اس سے قبل 80ءکی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی رفاقت میں حسین حقانی نے پیپلز پارٹی کی قیادت بطور خاص محترمہ بینظیر بھٹو پر گند اچھالنے کے جو مظاہرے عامیانہ سطح تک جا کر کئے، اس کا میں بھی عینی شاہد ہوں۔
میاں نواز شریف کے ساتھ وابستہ ہونے سے قبل حسین حقانی ایک برطانوی جریدے ”فنانشل پوسٹ“ کے پاکستان میں ”کارسپونڈنٹ“ تھے اور اس سے قبل کراچی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس پالیٹکس کے ناطے وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے، گویا ہر پلیٹ فارم پر ”ہم خرما ہم ثواب“۔ میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو حسین حقانی کو محکمہ اطلاعات کا معاون خصوصی بنا دیا گیا جو صوبائی وزیر کے مساوی منصب تھا۔ اس دور میں بے گھر صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لئے محترم مجیب الرحمان شامی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل پائی جس نے صحافیوں کی درخواستوں کا جائزہ لے کر لاہور کی دو مختلف رہائشی سکیموں میں ”حق بحقدار رسید“ کے مطابق دس مرلے اور پانچ مرلے کے پلاٹ الاٹ کرنے کی سفارش کی۔ ان میں ایک صحافی کو جو حسین حقانی کے دور میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف کا سرگرم عہدیدار تھا، پانچ مرلے کا پلاٹ الاٹ ہوا تو حسین حقانی نے نظریاتی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے ساتھ کراچی یونیورسٹی والی دوستی کا حق نبھایا اور ان کے لئے بھی دس مرلے کے پلاٹ کی سمری بھجوا دی۔ ایک واقعہ تو میرے ذاتی مشاہدے میں ہے۔ اس وقت وزارت اطلاعات کا اچھا خاصہ فنڈ حسین حقانی کی صوابدید پر تھا۔ پنجاب حکومت کے 1988-89ءکے معاملات اور ریکارڈ کی چھان بین کی جائے تو حسین حقانی کی ”پاکبازی“ کے بہت سے شواہد دستیاب ہو سکتے ہیں۔
جب غلام اسحاق کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو ساتھ ہی صوبائی حکومتیں بھی فارغ ہو گئیں چنانچہ حسین حقانی کے پاس بھی معاون خصوصی کا منصب نہ رہا۔ غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں اس وقت کی نگران حکومت نے بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، جہانگیر بدر اور پیپلز پارٹی کے بعض دوسرے عہدے داروں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں احتساب بیورو کے ذریعے ریفرنس دائر کرائے۔ جن کی سماعت کے لئے جسٹس راشد عزیز خاں پر مشتمل ہائیکورٹ کا خصوصی بنچ تشکیل پایا۔ جب بینظیر بھٹو اس ریفرنس میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کے لئے لاہور ہائیکورٹ آئیں تو پیپلز پارٹی کے ہزاروں کی تعداد میں جیالے کارکنوں نے ہائیکورٹ کا گھیراﺅ کر لیا اور جسٹس راشد عزیز خاں کے کورٹ روم پر ہلہ بول دیا، اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لئے میں بھی کورٹ روم میں موجود تھا اور حسین حقانی میاں نواز شریف کے ساتھ وفاداری کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مشتعل کارکنوں نے کورٹ روم کا دروازہ توڑ دیا اور زبردستی اندر داخل ہونے لگے تو جسٹس راشد عزیز خاں کو بمشکل تمام عقبی دروازے سے باہر نکالا گیا اور مشتعل کارکنوں سے بچایا گیا۔ اس وقت حسین حقانی کے جذبات قابل دید تھے جو بی بی سی کے نمائندے کو ریفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کی دوسری قیادت پر عامیانہ انداز میں دشنام طرازی بھی کر رہے تھے۔ یہی حسین حقانی جب پیپلز پارٹی کے اقتدار میں اس جماعت میں شامل ہوئے تو شریف فیملی ان کی دشنام طرازیوں کا ہدف بن گئی۔ چنانچہ یہ صاحب ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کی مثال بنے نظر آئے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں اپنی سفارت کے دوران حسین حقانی نے کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کی سول اور فوجی امداد کے لئے امریکی پابندیوں کے معاملہ میں جو گل کھلائے وہ قوم کے ذہنوں سے یقیناً ابھی تک محو نہیں ہوئے ہوں گے۔ اس وقت کی میڈیا رپورٹس شاہد ہیں کہ کیری لوگر بل میں حسین حقانی نے خود پاکستان کی فوجی امداد کے اصراف کے حوالے سے مخصوص شرائط شامل کرائی تھیں۔ اور پھر اسی تناظر میں میاں نواز شریف نے ”میمو گیٹ سکینڈل“ کے معاملہ میں فریق بن کر درخواست دائر کی تو اس کی سماعت کے دوران حسین حقانی کی پاکستان اور فوج مخالف سرگرمیوں کے جو شواہد سامنے آئے وہ یقیناً تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ شومئی قسمت اس کیس کا فیصلہ ہی صادر نہیں ہو سکا مگر حسین حقانی کی اس وقت پاکستان مخالف لابی میں سرگرمیاں اور بھی تیز ہو گئیں اور انہوں نے پاکستان پر ملبہ ڈالنے والے ہر امریکی بھارتی اقدام کی حمایت کی۔ اب وہ انہی پاکستان مخالف حرکتوں کو اپنے ”دانشورانہ کام“ سے تعبیر کر رہے ہیں تو.... اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔ بہرحال ان کی ممدوح بینظیر بھٹو کی پارٹی کے قائد آصف علی زرداری کو بہت کچھ گنوانے کے بعد ان کی اصلیت کا ادراک ہوا ہے تو اب دیکھتے ہیں گھر کا نہ گھاٹ کا کی مثال بنے حسین حقانی کو کون منہ لگاتا ہے۔ شائد اب وہ پھر میاں نواز شریف کی قربت میں آ جائیں کیونکہ قربت میں آنے کے فن میں وہ خاصے مشّاق ہیں۔ خدا خیر کرے۔ حسین حقانی وطن عزیز کی سبکی کا اب کون سا اہتمام کرتے ہیں۔