مینڈکوں کی ڈاریں ہیں

صحافی  |  رفیق ڈوگر

اہل درد سنو کہانی! اہل سیاست کی اپنے ملک اور عوام کی خدمت ’’عالیہ‘‘ کی کہانی جو دنیا میں شاید ہی کہیں اور مل سکے۔ میں لاہور عجائب گھر کے ڈائریکٹر کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک ملاقاتی آیا‘ انہوں نے کارڈ دیکھ کر بلا لیا۔ گورا تھا۔ ملاقاتی نے ایک فائل کھولی اور ڈائریکٹر کو کالاباغ ڈیم بن جانے سے پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثہ کو خطرات سے بڑی تفصیل سے آگاہ کرنے کے بعد کہا ’’آپ کو اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت کیلئے اس ڈیم کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے‘‘۔ میں خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ ان کے جانے کے بعد ان کا کارڈ پڑھا‘ وہ واپڈا کی ایک مشاورتی فرم INDUS CONSLTANTS کا کوئی ماہر تھا۔ واپڈا اور ثقافت میری بیٹ تھے‘ دونوں حوالوں سے اس نے جو کچھ بتایا بڑی اہم نوعیت کی خبر تھی۔ میں نے ڈائریکٹر سے درخواست کی کہ وہ اس مشورے پر خاموش رہیں‘ یہ تو بڑا فتنہ دکھائی دیتا ہے‘ انہیں بھی روک دیا خبر بھی نہ دی تیسرے چوتھے روز خان عبدالولی خاں نے کالاباغ ڈیم کے خلاف پہلی پریس کانفرنس کی تھی اور وہی خطرات اور اعداد و شمار بتائے تھے جو وہ گورا اس روز بتا اور سنا کر گیا تھا۔ میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا وہ مشاورتی فرم کینیڈا سے تھی پاکستان میں اس کا خصوصی مشیر اور نمائندہ واپڈا کا سابق چیئرمین شاہنواز خاں تھا۔ واپڈا نے اس فرم کو دریائے سندھ پر بجلی پیدا کرنے کے مقامات کے سروے کا ٹھیکہ دیا ہوا تھا۔ اس نے سروے رپورٹ تیار کر کے دیدی۔ واپڈا نے کالاباغ ڈیم کے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیئے۔ اس مشاورتی فرم نے بھی ٹینڈر داخل کر دیا کہ ڈیم ہم بنائیں گے۔ اس کی فنی مہارت کا جائزہ لیا گیا۔ اس نے نہ کبھی ڈیم بنایا تھا نہ اس کے پاس اتنے بڑے ڈیم کی تعمیر کے لئے مہارت تھی۔ واپڈا نے اسے بلیک لسٹ کر دیا تھا اور اسی نے کالاباغ ڈیم کے خلاف وہ مہم شروع کی اور کروائی تھی۔ شاہنواز خاں کے اے این پی سے تعلقات کی خاص نوعیت کا سب کو علم ہے۔ خان عبدالولی خان تک وہ فرم اور فائل شاہنواز خان کے ذریعے ہی پہنچی تھی۔ میرا ذاتی فائدہ تو نہیں تھا ملکی حوالے سے میں نے مولانا عبدالستار خاں نیازی سے بات کی۔ ان کا تعلق کالاباغ سے تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈیم کی حمایت میں بیان دے دیئے۔ پنجاب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ بھٹی سے بات کی۔ وہ مان گئے۔ کئی روز تک بیان نہ آیا۔ میں نے پوچھا تو ان کا جواب تھا ’’ڈوگر صاحب آپ کو تو معلوم ہی ہے ہم… بہت ہیں‘‘ خالی جگہ میں کیا تھا؟ خود اندازہ کر لیں صنعت و تجارت کے اتنے بڑے سربراہ نے اپنے بارے میں جو کچھ بتایا تھا میں تو وہ لکھنے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔ یہاں سے شروع ہوئی تھی کالاباغ ڈیم کی مخالفت جس میں بعد میں کئی غیرملکی بھی شامل ہو گئے تھے۔ روس کے سفیر کی طرف سے ڈیم نہ بنانے کے مشفقانہ مشورہ سے تو میں بھی آگاہ ہوں۔ مخالفت سیاسی رنگ اختیار کر گئی۔ ضیاء الحق نے چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کی کمیٹی بنا دی کہ اپنے اپنے صوبہ کے مفادات اور ان کے لئے ڈیم بن جانے کے مبینہ خطرات کا اچھی طرح آزادانہ جائزہ لو‘ انہوں نے سارے معاملے کا جائزہ لیا۔ اس میں کچھ ترامیم شامل کیں‘ سندھ‘ بلوچستان اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان نے اس متفقہ ڈیم منصوبے کی منظوری دیدی۔ سرحد کے چیف جسٹس بھی مکمل طور پر متفق بتائے جاتے ہیں لیکن دستخط کرنے سے پہلے انہوں نے صوبائی حکمران جنرل فضل حق سے اجازت کیلئے وقت مانگا۔ فضل حق نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم پاکستان محمد خاں جونیجو اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ان کے پانی اور بجلی کے وزیر ظفراللہ خاں جمالی ماہرین کی ٹیم لے کر پشاور گئے۔ ماہرین نے سب پہلوئوں پر گورنر ہائوس میں ماہرانہ رائے دے کر ان کے تحفظات دور کر دیئے تو جنرل فضل حق کا جواب تھا
\\\"I DAM CARE FOR BLOODY POLITICIANS\\\"
وزیراعظم ان کی چائے پئے بغیر واپس آ گئے۔ چیئرمین واپڈا اور ماہرین بھی آ گئے مگر جمالی صاحب وہیں رک گئے تھے اور جنرل صاحب کا کھانا کھا کر آئے تھے حالانکہ اس ڈیم پر سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہونے جا رہا تھا‘ پہلی بار سندھ سے بلوچستان کے حصہ کے پانی کا کوٹہ مقرر کر دیا گیا تھا۔ ضیاء الحق کے وزیر رہ چکے جنرل غلام حسن خاں کا تعلق پشاور سے بھی تھا اور وہ گورنر سرحد کی سیاست کو بھی اندر باہر سے جانتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کا گورنر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیوں کر رہا ہے؟ انہوں نے بہت بھاری گالی دیتے ہوئے کہا ’’فل جنرل بنا دو آج مان جائے گا‘‘۔ حقائق و واقعات بہت ہیں‘ جگہ کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ڈیم کے نہ بننے سے پورا ملک جس عذاب میں مبتلا ہے کیا خان عبدالولی خاں کے پشتون بھائی اس سے محفوظ ہیں؟ اس صوبہ سے تعلق رکھنے والے ملا و قاضی اس معاملہ میں ولی خاں کے مؤقف کی جو سرپرستی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں کیا ان کے اہل و ویل اس سے محفوظ ہیں؟ کیا انہیں اس ڈیم کی مخالفت کی اصل وجوہ حقائق‘ فوائد اور نقصانات کا کچھ علم بھی ہے؟ کیا ملک کے ہر قسم اور ہر جنس کے ہر صوبہ اور ہر جماعت کے اہل حکومت و سیاست و قیادت قومی سطح پر اس ڈیم کی مخالف اندرونی اور بیرونی لابیوں کا اس کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے کوئی قومی کمیشن قائم کر کے اس کے فیصلے پر عمل کرنے کو تیار ہو جائیں گے؟ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں اسی طرح کا چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کا کوئی کمیشن قائم کرنے سے اتفاق کر لیں گے؟ یا یہ قوم ان کی خدمت کے عذاب میں اسی طرح مبتلا رہے گی؟ بحرِ جہالت کے مینڈک اسی طرح ٹراتے رہیں گے کہ ہم بھی تو ہیں فکر نہ کرو ہم جو ہیں ؎
بلھیا مینڈکوں کی ڈاریں ہیں
لوگ مرتے ہیں تو مر جائیں
ان کی تو بہاریں ہیں