لال مسجد سے سرسبز پاکستان کی طرف

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

لال مسجد کے خطیب اور سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ججز اور علما مل کر دہشت گردی کا مسئلہ حل کریں۔ اس بات کے لئے مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ مگر یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ مولانا عزیز کو لال مسجد آپریشن کے دوران مسجد سے باہر گرفتار کیا گیا۔ اس میں بھی دھوکہ اور ڈبل گیم کی گئی تھی۔ حکومت والے شاید مولانا رشید غازی کو مارنا چاہتے تھے اور مولانا عزیز کو نہیں مارنا چاہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں بے قصور تھے اگر مولانا عزیز دہشت گردی میں ملوث نہیں تو رشید غازی کیوں ہوں گے۔ وہی آدمی آج دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے زور دے رہا ہے اس کے لئے مذاکرات کو ہی بہتر خیال کرتا ہے تو وہ لال مسجد آپریشن کے وقت بھی مذاکرات کے حق میں تھے مگر مذاکرات کے بہانے بنائے گئے اور بالاخر وہ المیہ رونما ہوا جس کی یاد بھی آدمی کو اندر سے برباد کر دیتی ہے۔ہماری حکومتوں کی مس ہینڈلنگ اور درندگی ملاحظہ کریں کہ تقریباً ہر معاملے کو مس ہینڈل کیا گیا حتیٰ کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا بھی انجام مس ہینڈلنگ سے ہوا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لئے جنرل مشرف کے سارے ساتھی یہی کہتے ہیں جو اس وقت چیف جسٹس کے خلاف غیر قانونی اور غیر انسانی کارروائی کے بہت حامی تھے۔ ہمارے لوگوں کی خامی یہی ہے کہ وہ اقتدار والے کے ناجائز کاموں کے زیادہ حامی ہوتے ہیں۔آپریشن مولانا عبدالعزیز کے خلاف ہوا۔ ان کا ایک بھائی شہید ہوا۔ قرآن پڑھتی ہوئی بے سہارا بے خانماں برباد بچیاں جلا کے راکھ کر دی گئیں۔ ساتھ میں قرآن مجید کے صفحات کی بے حرمتی ہوئی جلی ہوئی لاشوں اور قرآن کے صفحوں کو گندے نالے میں بہا دیا گیا۔اب اسی مولانا عزیز کو دوبارہ لال مسجد کی امامت کرتے ہوئے دیکھ کر حکمرانوں پر مزید غصہ آتا ہے۔ پہلے غصے میں غم شامل تھا۔ اب غصے میں نفرت گھلی ہوئی ہے۔ مولانا ججز اور علماء سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا مسئلہ حل کرائیں۔ ججز نے انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ وہ بھی جج ہی تھے جو پہلے ان کی ضمانت منظور نہیں کر رہے تھے۔ پہلے وہ لال مسجد میں قید کئے گئے تھے پھر انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ جیل سے نکلے تو اپنی لال مسجد میں گئے لوگ جیل سے نکلتے ہیں تو براہ راست ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں جاتے ہیں۔ اس براہ راست کا ایکشن راہ راست سے کیا تعلق ہے۔ سوات میں اس سے پہلے امن معاہدہ ہوا اور اب ملٹری ایکشن ہو رہا ہے۔ لال مسجد میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ امن ایکشن کے بعد اب لال مسجد کے سارے معاملات کو بحال کیا جا رہا ہے۔ ہم نے چیف جسٹس کو بھی کئی طرح کے اقدامات کے بعد بحال کیا ہے۔مولانا عبدالعزیز اپنے آبائی گائوں گئے تھے تو اپنے بھائی غازی رشید کی قبر پر بھی گئے ہوں گے۔ مولانا امن بحال کرنے اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے کوشش کریں۔ ہم بھی ان کے حق میں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ یہ سوچنے کی ضرورت بھی ہے کہ امن کیا ہے اور دہشت گردی کیا ہے۔ اس سب کھیل کے پیچھے امریکہ اور بھارت ہیں۔ لال مسجد پر چڑھائی کی گئی تو یہ ہدایات بھی اوپر سے آئی تھیں۔ مقصد مجرموں کو بدنام کرنا تھا مگر جو لوگ مسجدوں میں بم دھماکے کرتے ہیں وہ کون ہیں۔ وہ دین دار ہرگز نہیں ہو سکتے۔ مالاکنڈ سوات میں لڑتے ہوئے جو لوگ پکڑے گئے ہیں وہ بھارتی امریکی ایجنٹ ہیں اور ان کے پاس امریکی بھارتی اسلحہ اور روپیہ بلکہ ڈالر ہوتے ہیں۔لال مسجد کے سانحے میں علماء نے سچے طریقے سے مدد نہیں کی تھی۔ وہ سب وہاں آ جاتے تو یہ سانحہ کیسے ہوتا۔ مگر آج مولانا عزیز ان کو ہی دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ علماء اپنے مقام کو پہچانیں اور لوگوں کو دین سے بیزار نہ کریں۔ دین دنیا کی بھلائی کو فروغ دینا علماء کا کام ہے۔
مولانا عزیز چند دن پہلے چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی سے ملنے ان کے گھر آئے۔ اس حوالے سے باریش خوبصورت نوجوان راسخ الٰہی بہت ذوق و شوق میں تھے۔ وہ دین سے محبت والے لوگوں کے لئے بہت لگائو رکھتے ہیں اور گھر میں بھی اس طرح کے ماحول کے لئے خواہش رکھتے ہیں جب چودھری صاحب کی والدہ فوت ہوئیں تو تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل نے بہت ولولہ انگیز تقریر کی تھی اس میں حکمرانوں کے لئے بہت ہدایتیں تھیں اور حکمران ان کے سامنے بیٹھے تھے۔ راسخ الٰہی بھی تھے وہی مولانا طارق جمیل کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ شریف برادران بھی مولانا طارق جمیل کے بڑے قدردان ہیں۔
مولانا عزیز نے یہاں کہا کہ وہ لال مسجد کے معاملے میں چودھری شجاعت کی کوششوں کے معترف ہیں اور اپنی نجی محفلوں میں ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ مگر انہوں نے حسب توفیق دل و جان سے اپنا کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے بھی کئی موقعوں پر چودھری شجاعت نے حکومت کی کئی پالیسیوں سے اختلاف کیا اور کھلم کھلا اس کا اظہار بھی کیا۔ اگر ان نازک موقعوں پر چودھری صاحب کی باتوں پر عمل کر لیا گیا ہوتا تو عوام کئی پریشانیوں سے بچ جاتے اور حکام بھی کئی پشیمانیوں سے محفوظ رہتے۔ اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ بااختیار لوگوں کی مجبوریاں کتنے رنگوں کی ہیں۔جہاں تک ججز کی طرف سے بگڑتی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے نگاہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف جاتی ہے۔ ان لوگوں کی امیدیں عدالتی بھی ہیں اور اس سے آگے بھی ہیں۔ عدالت ‘ سیاست اورقیادت یکجا اور یکسو ہو جائیں تو شاید ؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا