چودھری ظہور الٰہی شہید کی یاد میں

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
چودھری ظہور الٰہی شہید کی یاد میں

25ستمبر1981 ء ہماری سیاسی تاریخ کا سیاہ دن ہے آج کے ہی روز ہی ممتاز مسلم لیگی رہنما چودھری ظہور الہیٰ کو لاہور میں شہید کر دیا گیا چودھری ظہور الٰہی ایک سیلف میڈ شخصیت تھی جس نے محنت، کمٹمنٹ اور قربانی کے جذبے سے ملکی سیاست میں بلند مقام پایا۔ ان کے والد محترم چودھری سردار خان وڑائچ کو صوفی شاعری سے لگائو تھا۔ چودھری ظہورالٰہی نے ایک عام کانسٹیبل کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا جس کا انہوں نے اپنی زندگی میں برملا ذکر کیا لیکن قیام پاکستان کے بعد کاروبار میں حصہ لیا اور پھر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اپنا نام پیدا کر لیا1950ء میں میدان سیاست میں قدم رکھا تو پورے ملک کی سیاست پر چھا گئے انہوں نے اپنے پیچھے جو ’’سیاسی ورثہ‘‘ چھوڑا ہے آج بھی ان کی اولاد اس کا پھل کھا رہی ہے ان میں جاٹ قوم کی ذہانت اور بہادری کی تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں وہ پاکستانی سیاست میں جرأت و استقامت کی علامت تھے ان جیسی جرات و استقامت کے حامل سیاست دانوں کی ملکی سیاست میں کمی ہے وہ دوستوں کے دوست تھے اور دشمنی بھی قبر تک نبھاتے تھے ذوالفقار علی بھٹو سے دوستی تھی تو ان کی تصویر اپنے ڈرائنگ روم میں سجالی لیکن جب دونوں کے درمیان اختلاف رائے نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی تو پھر چودھری ظہورالٰہی شہید نے ذوالفقار بھٹو سے دشمنی ان کے تختہ دار پر لٹکانے تک نبھائی ۔ یہ گجرات کے جاٹ دوستی اور دشمنی نبھانے میں کھرے ہیں دوستی کریں تو اس کی لاج رکھنے کے لئے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں دشمنی ہو جائے تو پھر اس کے تقاضے پورے کرتے ہیں چودھری برادران نے اپنے خاندان کی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ ذوالفقار بھٹو نے چودھری ظہورالٰہی شہید کو مروانے کا منصوبہ بنایا تو انہیں کوہلو کی جیل میں ڈال دیا لیکن بہادر بلوچ اکبر بگٹی نے ذوالفقار بھٹو کی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور چودھری ظہورالٰہی شہید کی حفاظت کی لیکن جب ذوالفقار بھٹو کو نواب احمد خان کے مقدمہ قتل میں پھانسی دے دی گئی تو پیپلز پارٹی والے ان کی جان کے دشمن بن گئے چودھری ظہورالٰہی شہید جنرل ضیاالحق کی کابینہ کے رکن تھے جس نے ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کی توثیق کی تھی کہا جاتا ہے جس قلم سے جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دینے کے حکم پر دستخط کئے تھے وہ چودھری ظہورالٰہی شہید نے ان سے مانگ لیا تھا شاید وہ قلم آج بھی چودھری شجاعت کے پاس محفوظ ہو لیکن ظہورالٰہی خاندان کی طرف سے ان کے پاس ایسے یادگار قلم کی موجودگی کی تردید کر دی گئی ہے جو جنرل ضیاالحق نے چودھری ظہورالٰہی شہیدکو دیا ہو۔ گجرات کے چودھری اپنے دشمن کو نہیں بھلاتے وہ کار آج بھی چودھری خاندان کے پاس محفوظ ہے جسے الذوالفقار کے دہشت گردوں نے کلاشنکوف کی گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا مجھے یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو ’’ سیاسی دشمنی ‘‘ختم کرنے کے لئے ظہور پیلس گجرات آنا چاہتی تھیں جہاں چودھری شجاعت نے ان کے سر پر چادر پہنانی تھی لیکن چودھری ظہورالٰہی شہید کی صاحبزادیاں ’’سیاسی صلح‘‘ کی راہ میں حائل ہو گئیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ظہور پیلس میں استقبال کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔ میں چودھری ظہورالٰہی شہید کے بارے میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ان کے پاس کونسل مسلم لیگ کا کوئی عہدہ نہیں تھا لیکن یہی کونسل مسلم لیگ (جنرل ایوب خان کے دور میں حقیقی مسلم لیگ تھی) تھی جس نے پیپلز پارٹی کا مقابلہ کیا جب کہ اس وقت سرکاری مسلم لیگ، کنونشن مسلم لیگ کہلاتی تھی، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا کریڈٹ چودھری ظہورالٰہی شہید کو جاتا ہے یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے اجلاس ان کی رہائش گاہ 99ویسٹریج۔ راولپنڈی میں ہی ہوتے تھے ان کی رہائش گا ہ ہی ذوالفقار بھٹو کی مخالف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی چودھری ظہورالٰہی پارلیمنٹ آتے تو رونقیں لگ جاتی تھیں چودھری ظہورالٰہی شہید اپوزیشن کے تمام اخراجات برداشت کرتے تھے حتٰی کہ اپوزیشن کے کئی رہنما مہینوں ان کے مہمان ہوتے وہ مالی لحاظ سے کمزور سیاسی رہنمائوں کے قیام و طعام کے اخراجات برداشت کرتے تھے میں نے آج کے دور کے ایک بڑے جغادری لیڈر کو ان کے پاس مالی امداد کے لئے حاضری دیتے دیکھا ہے۔ ذوالفقار بھٹو سے دشمنی چودھری ظہورالٰہی شہید کو جنرل ضیاالحق کے قریب لے جانے کا باعث بنی بعدازاں چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالٰہی نے یہ دوستی اگلی نسل اعجازالحق کے ساتھ نبھائی۔ چودھری ظہورالٰہی ملکی سیاست میں ایک صاف ستھرے کردار کے مالک تھے ان کی بہادری اور جرات کی داستانیں سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں آج کے دور میں ’’کپتان‘‘ جس طرح اپنے سیاسی مخالفین کی تضحیک کرتے ہیں اگر وہ یہی طرز تکلم ذوالفقار بھٹو کے دور میں اختیار کرتے تو ان کو ’’نشان عبرت‘‘ بنا دیا جاتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار بھٹو مقبول ترین سیاسی رہنما تھے لیکن ان میں سب سے بڑی کمزوری اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت نہ کرنا تھی جس کے باعث انہیں تختہ دار تک آنے میں زیادہ وقت نہ لگا۔ سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے اقتدار کے لئے بھائی بھائی کی آنکھیں نکلوا دیتا ہے اور بیٹا باپ کو جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے ایسا وقت بھی آیا چوہدریوں نے اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کر دیا جب کہ ’’ نواز شریف دشمنی‘‘ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن گئے مسلم لیگ (ق) کو’’قاتل لیگ ‘‘کا طعنہ دینے والی پیپلز پارٹی نے بھی سیاسی ضرورتوں کے تحت چودھری برادران کو اپنے سینے سے لگا لیا۔میاں نواز شریف کی جانب سے جاتی امرا میں چودھری برادران کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانہ کی منسوخی اسی طرح ان کی سیاست میں ’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘ بن گئی جس طرح ذوالفقار بھٹو نے چودھری ظہورالٰہی شہیدکی دعوت میں عین وقت پر گجرات آنے سے معذرت کر لی۔ چودھری ظہورالٰہی شہید ایک وضع دار شخصیت تھے مہمان نوازی کوئی ان سے سیکھے ان کے عظیم باپ کی خوبیوں کی ایک جھلک ان کے صاحبزادے چودھری شجاعت میں نظر آتی ہے خوش گفتاری اور حس مزاح ان کی شخصیت کا پر تو ہے میں نے ان سے کم و بیش 40 سالوں پر مبنی دوستی میں کبھی غصے میں نہیں دیکھا میں نے ان کو شریف خاندان سے شدید اختلافات کے باوجود ہمیشہ ان کے بارے مثبت انداز میں گفتگو کرتے دیکھا ہے میں نے چودھری پرویزالٰہی جیسا ’’صحافی دوست‘‘ سیاست دان بھی کم ہی دیکھا ہے جس نے اپنے دور اقتدار میں پنجاب ہائوسنگ فائونڈیشن قائم کر کے بلاامتیاز راولپنڈی، لاہور اور ملتان کے پریس کلبوں کے ارکان کو سر چھپانے کی جگہ دی اسے چودھری پرویالٰہی کی خوبی کہیں یا کمزوری۔ وہ جسے اپنا دوست بناتے ہیں پھر وہ اس کی اپنے دشمن سے دوستی برداشت نہیں کرتے وہ نواز شریف سے دوستی رکھنے والے اخبار نویس دوستوں سے برملا یہ بات کہہ دیتے کہ ’’مجھ سے نواز شریف بارے کوئی بات کہے تو میں اس سے 6دن تک بات نہیں کرتا‘‘ بعض اوقات میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ دو خاندانوں میں اتنے فاصلے پیدا کرنے کا تو کوئی ذمہ دار تو ہو گا ۔

جب 12اکتوبر1999ء کے ’’پرویزی مارشل لائ‘‘ میں ماڈل ٹائون لاہور میں شریف خاندان کی خواتین نے اپنی گرفتاری کا خطرہ محسوس کیا تو انہوں نے روزنامہ نوائے وقت کے معمار جناب مجید نظامی کی رہائش گاہ پر پنا ہ لے لی چودھری شجاعت کو معلوم ہوا تو وہ انہیں لینے کے لئے جناب مجید نظامی کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے اور یہ کہہ کر اپنے گھر لے گئے ’’دیکھتے ہیں ہماری ان مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو کون گرفتار کرتا ہے؟‘‘ میاںنواز شریف کی گرفتاری کے ابتدائی دنوں میں بیگم کلثوم نواز کی اسلام آباد آمد پر چودھری برادران کی رہائش گاہ ان کے لئے خالی کر دی جاتی تھی پھر جنرل پرویز مشرف کے جبر نے دونوں خاندانوں کے درمیان ایسے فاصلے پیدا کئے جو پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ جانے کے باوجود آج بھی ختم نہیں ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) پچھلے 15سال سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور اس کا فائدہ ملکی سیاست میں نئے آنے والے اٹھا رہے ہیں، چودھری ظہورالٰہی شہید نے ملکی سیاست میں شاندار روایات قائم کی ہیں ان کا وسیع دسترخوان تھا وہ ایک غریب پرور سیاست دان تھے غریب آدمی کی مدد کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے ان کے سیاسی وارثوں نے اس روایت کو قائم رکھا ہے چودھری ظہورالٰہی شہید جب کوئی فیصلہ کر لیتے تو اس سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے منافقت پر مبنی سیاست سے ان کو نفرت تھی وہ جرأت مند سیاسی کارکنوں کے آئیڈیل تھے آج کے دور کے سیاسی کارکن اور صحافی چودھری ظہورالٰہیشہید کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں چوہدری برادران کو پنجاب کی یونیورسٹی میں ان کی چیئر بنوانی چاہیے تھی اور سیاسیات کے طالبعلموں کو ان پر ڈاکٹریٹ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے تھی چودھری برادران اور شریف خاندان کے درمیان پائے جانے والے فاصلے 15سال میں ختم نہیں ہو سکے آج شریف خاندان مشکل ترین حالات سے دوچار ہے وفاق اور دو صوبوں میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہونے کے باوجود کوئی ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں چودھری برادران کو آگے بڑھ کر شریف خاندان سے ’’سیاسی دشمنی‘‘ ختم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ دونوں خاندانوں کے درمیان فاصلے ختم ہونے کے ملک کے سیاسی منظر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ایک دوسرے کو سیاسی طور پر نیچا دکھانے کی روش نے دونوں خاندانوں کو بے پنا ہ نقصان پہنچایا ہے اب اس نقصان کے ازالے کا وقت آ گیا ہے سیاست میں دشمنیاں دائمی نہیں ہوا کرتیں اگر چودھری برادران سیاسی دشمنی بالائے طاق رکھ کر پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں تو چودھری برادران اور شریف خاندان اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟