”شریعت“ اور مفتی محمود کانفرنس؟

کالم نگار  |  اثر چوہان
”شریعت“ اور مفتی محمود کانفرنس؟

کوئٹہ جمعیت علماءاسلام (ف) کے زیر اہتمام مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کی یاد میں 23 اکتوبر کومنعقدہ ”مفتی محمود کانفرنس“ کا مقصد مفتی صاحب مرحوم کی شریعت اور پاکستان کے لئے خدمات سے پرانی اور نئی نسل کو آگاہ کرنا تھا۔ کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر بھی مدلل تھی لیکن کانفرنس کے اختتام کے بعد مولانا فضل الرحمن پرخودکش حملے سے جب مولانا کے اتحادی وزیراعظم نواز شریف اور حریف عمران خان اور دوسرے سیاسی اور مذہبی قائدین کے مذمتی بیانات کے بعد ”شریعت پر بحث“ پس منظر میں چلی گئی ہے مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے خودکش حملے کی تین وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو یہ کہ میں کھلم کھلا امریکہ کی مذمت کرتا ہوں۔ دوسری یہ کہ میں شریعت کے نفاذ کی بات کرتا ہوں اور تیسری یہ کہ میں جمہوریت کے حق میں ہوں! خودکش حملے کی ذمہ داری جنداللہ نامی ایک گروپ نے قبول بھی کرلی ہے لیکن یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ مفتی محمود کانفرنس کے انعقاد سے دو دن قبل جمعیت علماءاسلام (ف) بلوچستان کے صدر مولانا محمد خان شیرانی نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی حیثیت سے تحفظ پاکستان ایکٹ 2010ءکو خلاف شریعت قرار دے دیا تھا۔
مولانا محمد خان شیروانی کہتے ہیں کہ ”اسلامی ریاست میں فوج اور فوجی مشینری کو ”رعایا“ کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی!“ مولانا شیرانی نے طالبان اور دہشت گردوں کے مختلف گروپوں کو ”رعایا“ قرار دے دیا ہے کہ جن کے ہاتھوں پاک فوج کے افسروں اور اہلکاروں سمیت 55 ہزار معصوم اور بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی اور ان کی جمعیت علماءاسلام (ف) کی طالبان اور قائد اعظم کے پاکستان میں اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے والے دہشت گرد گروپوں سے ہمدردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور نہ ہی جمعیت علماءاسلام (سمیع الحق گروپ) کی۔ مولانا سمیع الحق ”طالبان کے باپ“ کہلاتے تھے اور مولانا فضل الرحمن ”برادرز بزرگ“ کہلاتے رہے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ”پاکستان کو بچانا چاہتے ہو تو طالبان سے مذاکرات کرو!
مفتی محمود صاحب کی جمعیت علماءاسلام (جس میں مولانا سمیع الحق کی جمعیت علما اسلام بھی شامل تھی قیام پاکستان سے قبل ”جمعیت علمائے ہند“ کی یادگار تھی ان علماءکو کانگریسی مولوی کہا جاتا تھا جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قائد اعظم کو ”کافر اعظم“ قرار دیا تھا۔ مجاہد تحریک پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی (مرحوم) اکثر بیان کیا کرتے تھے کہ ”ہفت روزہ”چٹان“ لاہور کے ایڈیٹر اور نامور ادیب، شاعر، صحافی اور سیاستدان آغا شورش کاشمیری کے گھر ایک محفل میں مفتی محمود صاحب نے کہا تھا کہ ”خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“ پھرخدا کا کرنا یہ ہوا کہ مفتی محمود صاحب ”مغربی جمہوریت“ کا حصہ دار بن کر پاکستان کے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوگئے۔
مفتی محمود ”شریعت کے نفاذ“ کے لئے فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے اتحادی رہے عورت کی سربراہی کے خلاف تھے اس بنیاد پر قائد اعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی مخالفت کی لیکن مولانا فضل الرحمن نے اجتہاد کیا اور وزیر اعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کے حلیف رہے ”مولانا ڈیزل“ کہلانے کی نیک نامی بھی مول لی۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور کے وفاقی وزیر داخلہ میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ”میں نے وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کو بتا دیا ہے کہ آپ مولانا فضل الرحمن کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی چابیاں بھی دے دیں تو بھی وہ خوش اور مطمئن نہیں ہوں گے!“ مختلف صحافیوں نے کئی بار مولانا صاحب سے پوچھا کہ آپ جنرل بابر پر ہتک عزت کا دعوی کیوں نہیں کرتے؟ تو مولانا نے کہا تھا کہ میں نے یہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔
28 اپریل 1997ءکو قومی اخبارات میں مولانا فضل الرحمن کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوںنے کہا تھا کہ ”پاکستان ایک خوبصورت نام ہے اس کے طاغوتی (شیطانی) نظام کے باعث مجھے اس سے گھن آتی ہے“۔ حیرت ہے کہ مفتی محمود صاحب کے بعد مولانا فضل الرحمن نے صدر جنرل پرویز مشرف سے تعاون کیا 2002ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں دوسری بڑی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی تھی اور مخدوم امین فہیم کو قائد حزب اختلاف ہونا چاہئیے تھا لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا۔ اس دور کے وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرا فگن کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مولانا فضل الرحمن کو اس شرط پر قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا تھا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی حمایت کریں گے!
محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کے شوہر جناب آصف زرداری صدر پاکستان منتخب ہو گئے۔ صدر زرداری کو وفاقی وزیر کے برابر مراعات دے کر چیئرمین کشمیر کمیٹی کے طور پر ایسی بھاری بھرکم شخصیت کی ضرورت تھی جو ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کو 30 سال تک منجمند کرنے میں ان کی مدد کر سکے مولانا فضل الرحمن سے بہتر شخصیت اور کون ہو سکتی تھی؟ مولانا نے اس کے ساتھ ہی ”شریعت کے نفاذ“ کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ مولانا محمد خان شیرانی کے لئے مانگ لی۔ قائد اعظمؒ کے پاکستان پر اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا تھا؟ صدرسکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958ءکو مارشل لاءنافذ کیا اور جناب آصف زرداری کے ”روحانی والد“‘ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو وفاقی وزیر بنا دیا۔ جناب بھٹو کا صدر سکندر مرزا کے نام لکھا جانے والا خط سرکاری ریکارڈ میں ہے جس میں بھٹو صاحب نے لکھا تھا کہ ”جناب صدر! آپ قائد اعظمؒ سے بھی بڑے لیڈر ہیں!“
قائد اعظمؒ کا نظریہ پاکستان تھا؟ جناب آصف زرداری کو اس سے کیا؟ لیکن وزیر اعظم نواز شریف تو مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر کی حیثیت سے قائد اعظمؒ کی کرسی پر بیٹھے ہیں پھر انہوں نے نظریہ پاکستان کے دشمن مولانا محمد خان شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین کیسے بنا دیا؟ ابھی تو مولانا شیرانی کی درخواست کی وہ فائل گرد آلود نہیں ہوئی جس میں خواہش کی گئی ہے کہ ”چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کو چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے برابر ” Status“ دیا جائے“ شاید اس لئے کہ مولانا شیرانی بھی صدر پاکستان کے ملک سے غیر موجودگی کی صورت میں چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی طرح ”صدر پاکستان“ بن کر مفتی محمود صاحب کی شریعت نافذ کر دیں۔
مصور پاکستان علامہ اقبالؒ نے ”اجتہاد“ کا حق مسلمان ملک کی منتخب قومی اسمبلی کو دیا تھا کسی عالم دین یا مفتی کو نہیں مولانا فضل الرحمن اور مولانا محمد خان شیرانی ”مفتی“ نہیں ہیں اگر ہوتے تو بھی انہیں تحفظ پاکستان ایکٹ 2014ءکو خلاف شریعت قرار دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اور نہ ہی کانگریس مولویوں کے مدرسوں کی پیداوار دہشت گردوں کو پاکستان کی ”رعایا“ قرار دے کر اس طرح کا فتوی دینے کا استحقاق ہے کہ ”اسلامی ریاست میں فوج اور فوجی مشینری کو ”رعایا“ کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے“۔
اگست 2005ءمیں مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کے منبع مسلک دارالعلوم دیوبند کے مہتم مولوی مرغوب الحسن نے ممبئی کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”محمد علی جناحؒ شراب پیتے تھے۔ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ میں انہیں مسلمان نہیں سمجھتا ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ ق کی حکومت تھی۔ کسی نے بھی مولوی مرغوب الحسن کی ہرزہ سرائی کا نوٹس نہیں لیا تھا۔ سوائے اس خاکسارکے۔ اور ”نوائے وقت“ کے کانگریسی مولویوں اور قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والی کسی بھی مذہبی جماعت کو عام انتخابات میں بھاری مینڈیٹ نہیںملا وگرنہ وہ دہشت گردی سے شریعت نافذ کرنے والوں کی حمایت نہ کرتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف جنہوں نے مولانا فضل الرحمن کی فرمائش پر صوبہ خیبرپختونخواہ میں عمران خان کی تحریک انصاف کی گرانے سے انکار کر دیا۔ لیکن قائد اعظمؒ کے نظریاتی مخالفین کے ہاتھوں میں ان کی اپنی ”شریعت کا ڈنڈا“ کب تک رہے گا؟ مولانا فضل الرحمن بے شک ہر ہفتہ ”مفتی محمود کانفرنس“ کا انعقاد کریں اور قائد اعظم کے پاکستان میں بلٹ پروف گاڑیوں میں جہاں چاہئیں گھومیں پھریں۔