مرتد کی سزائے موت ۔۔۔!

  مرتد کی سزائے موت ۔۔۔!

 ایک اسلامی ریاست میں اسلام سے منحرف ہونے یا مرتد ہونے والے شخص کے لئے موت کی سزا کا اعلان معیوب نہیں سمجھا جا تا بلکہ خدشہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان مشتعل ہو کر اقدام قتل کا فعل نہ کر بیٹھے مگر غیر مسلم معاشروں میں دائرہ اسلام سے خارج ہو نے والے شخص سے نفرت یا سزائے موت جیسے ایشوز کا منفی پروپیگنڈا معیوب تصور نہیں کیا جا تا ۔ بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آزادی رائے اور آزادی مذہب کی روشنی میں مرتد کے لئے سزائے موت کی گنجائش کیوں کر موجود ہو سکتی ہے ؟غیر مسلم معاشروں میں جب کوئی شخص دین اسلام ترک کر تا ہے اور مسلم کمیو نٹی کی جانب سے اس فعل پر غم و غصہ کا اظہار کیا جاتا ہے تو اکثر مسلمانوں کی جانب سے بھی منفی رویہ سامنے آتا ہے اور اسلام پر اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کو کھلے دل و دماغ سے سنا اور برداشت کیا جاتا ہے ۔ دانش و حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے دلائل کے ساتھ بات کی جاتی ہے ۔مرتد کی سزائے موت کے بارے میں صرف یہ کہہ دینا کہ دین میں ”لاجک“ کی گنجائش نہیں ، تسلی بخش جواب نہیں سمجھا جاتا ۔ مجھے دین اسلام اور دیگر مذاہب کا مطالعہ اور مختلف مذاہب کے لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے 30سال گزر گئے ہیں ۔ایک دین اسلام ہے جس کے ہر حکم اور رہنمائی کے پس پشت کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ اور حکمت پوشیدہ ہے۔ ہم نے تقابلی مذاہب سٹڈی میں اسلام کو ”لاجک“ کے ساتھ سمجھا ۔اسلام میںکوئی ایشو ،حکم اور مسلہ ایسا نہیں جس کے پس منظر میں لاجک موجود نہ ہو۔ہمیں دین اسلام نے مکمل طور پر مطمئن کیا ورنہ کم عمری میں ایک غیر مسلم معاشرے میں آکر تلاش ”خودی“نے پریشان کر دیا تھا ۔ حقیقت کی جستجو نے ایک لڑکی کے لا ابالی پن کوبے شمار سوالات میں دفن کر دیا اور پھر اسے اس روح سے متعارف کرایا جو اس کے وجود میںحق کے لئے بے قرار تھی۔ شاید ہی کوئی مذہب اور مسلم فرقہ ہو جس کا لٹریچر کا مطالعہ نہ کیا ہو ۔ایک غیر مسلم معاشرے میں آنے کے بعد اسلام سے متعلق کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر در جوانی دین اسلام کی روح کو لاجک کے ساتھ نہ سمجھا جائے تو بڑھاپا بھی کنفیوز گزرتا ہے۔ امریکہ میںکسی محفل میں ”مرتد کو موت کی سزا کیوں“ کا سوال اٹھایا گیا اور عالم دین نے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے ۔ اسلام میں ہر چیز کا لاجک نہیں ہوتا“ ۔ اس طرح کے جواب سے ایک مسلمان کو ڈرا کر خاموش کرایا جا سکتا ہے لیکن ایک غیر مسلم معاشرے کی نوجوان نسل کو مطمئن کرنا آسان نہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور دیگر معروف علماءدین کے مطابق ”مرتد کی سزائے موت شریعت موسوی کا تسلسل ہے کہ شریعت موسوی کی جس شے کو بدلا نہ گیا ہو ، وہ شریعت محمدی کا جزو بن گئی ۔زنا پر رجم کا معاملہ بھی یہی ہے ۔قرآن مجید میں رجم کی واضح کوئی آیت موجود نہیں ہے،حدیث میں ہے۔ قرآن پاک میں مرتد کی موت کے لئے کوئی آیت موجود نہیں ہے ،حدیث میں ہے۔اور دونوں کی سزاﺅں کا منبع تورات اور سنت محمدی ہے۔ اسلام میں مرتد کی سزائے موت یہودی مذہب سے رائج ہے“۔ مرتد اور اس کی سزائے موت کے فیصلے کا حق صرف اسلامی معاشرہ اور نظام شرعی کے تحت ممکن ہے۔قاضی یا مسلمان منصف ہی اس فعل کی سزا کا حکم دے سکتا ہے۔ نبی کریم کے دور میں مدینہ منورہ ایک واحد چھوٹی اسلامی ریاست کی تشکیل پائی گئی،تھوڑے سے مسلمان تھے ،مشرکین قریش اور یہو دو نصاریٰ مسلمانوں کی طاقت کو وہیںختم کردینا چاہتے تھے ،ان میں عبداللہ بن ابی تاریخ کا اہم ترین کردار ہے ۔یہ شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوکر دشمنوں کے لئے کام کرتا تھا۔اسلام کی طاقت کو اس گھناﺅنی سازش سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مرتد اور منافق کے لئے واضح ہدایات نازل فرما دیں حتیٰ کہ دعائے مغفرت سے بھی روک دیا۔حضور نے عبداللہ بن ابی کوذاتی تکالیف پہنچانے پر معاف کر دیا مگر اللہ تعالیٰ اس کے دین کو نقصان پہنچانے والے کو معاف نہیں کر سکتا۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور گھر کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھاہے لہذا اس کے بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا خود بخود دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ کسی بھی ریاست اور سیاست میںبغاوت اور غداری کی سزا سخت ہے ۔مرتد کا قول و فعل بھی غداری اور بغاوت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ مسلمان گھر میں پیدا ہونے یا مسلمان نام رکھ لینے والا ہر شخص مسلمان ہوتا ہے۔اس نے جو ماحول گھر میں دیکھا اسے ہی اپنا مذہب سمجھ لیا لیکن زندگی میں جب بھی شعور نے آنکھ کھولی اس نے مذہب سے خاموش بغاوت اختیار کر لی جو کہ اکثر قول و فعل سے ظاہر ہو تی رہی۔ امریکہ میں مسلمان بچے ہی نہیں کئی بوڑھے بھی صرف اس لئے مسلمان کہلانے پر مجبور ہیں کہ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔مرتد کی سزائے موت کے پس پشت لاجک ایک اسلامی معاشرے کے نظام کو اسلام مخالف اور منفی پروپیگنڈا ،سازش،فتنہ اور انتشار سے بچانے کے لئے ایک ایسی سزا ہے جس کے بعد مسلم معاشرے میں کسی کو اسلامی نظام میں دراڑ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے۔مرتدہونا محض ایک شخص کا ذاتی فعل یا فیصلہ نہیں بلکہ اس سے پوارا نظام اسلام اور ماحول متاثر ہوتا ہے۔بالا شبہ دین میں جبر نہیں اور یہ آیت قرآن پاک میں موجود ہے اورمسلمان ہونا کسی کا ذاتی فیصلہ ہے مگر مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہونا سیاسی و معاشرتی اعتبار سے ایک اسلامی معاشرے اور مسلم نسلوں پر منفی اثرات کا باعث ہے ۔اسلام ایک گھر ہے اور مسلمان اس گھر کا خاندان ہیں۔گھر کا نظام ،خوشیاں اور دیگر معا ملات کو درست طریقے سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ خاندان میں بنیادی معاملات میں اتفاق ہو۔ایسی صورت میں ایسے فرد کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات حالات اس قدر بے قابو ہوجاتے ہیں کہ بھائی بھائی کا قتل کر دیتاہے۔کسی انتہائی صورتحال سے بچنے کے لئے اسلام کے گھر میں خاندان کے افراد کا مذہب اور عقیدہ میں اتفاق ہونا لازمی ہے۔سیاست بدلنے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا نقصان مذہب بدلنے سے ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ہر انسان کو فطرت پر پیدا کیا ۔ بچہ جب جوان ہوتا ہے تو وہ اپنے خالق کو تلاش کا فطری حق رکھتا ہے۔ایک شخص خواہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ،اگر اپنے والدین کے مذہب سے تعلق کا دعویٰ نہیں کرتا تو اس شخص کو مرتد کیوں کر کہا جا سکتا ہے ؟ مبینہ مرتد وہ شخص ہے جس کا قول اور فعل اسے مسلمان ثابت کرتا رہا اور پھر ایک دن اس نے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا مبینہ اعلان کر دیا ۔ اس قسم کا مسلہ ایک اسلامی معاشرے میں پیش آئے تو وہاں کی شرعی عدالت اس کے فعل کی روشنی میں ثبوت و شواہد کے مطابق سزا کی مجاز ہے ۔اسے محض آزادی مذہب یا آزادی رائے کی حد تک نہیں لیا جائے گا،ایک شخص کا قول و فعل پورے نظام میں دراڑ کا باعث بن سکتا ہے۔