اندھیرے اچھے لگنے لگے ہیں

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
اندھیرے اچھے لگنے لگے ہیں

 وزیر اعظم اور خادم اعلی کو میں ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ان کی رعایا بجلی کے بغیر گزارہ کرنے کی عادی ہو گئی ہے، اس لئے وہ نئے بجلی گھروں کی منصوبہ بندی کی فکر سر سے اتار دیں۔
میرے ہمسائے میں جتنے گھر ہیں ، کسی زمانے میں ان کی چمک دمک دیکھنے کے لائق تھی، دونوں چھتوں کے شیڈ کے نیچے بلبوں کی ایک قطار، پورچ میں رنگی برنگی لائٹس، ڈرائینگ روم اور ٹی وی لاﺅنج بھی ہمہ وقت روشن روشن۔اور اسٹریٹ لائٹس کی بہار دیدنی۔
اب یہاں ہو کا عالم طاری ہے، نور جہاں کے مزار جیسے شب کی سیاہی کا سماں ہوتا ہے، میرے علاقے میں رات بھر یہی سیاہی چھائی رہتی ہے، کوئی بھول کر بھی گیٹ کے دونوں اطراف لگے گلوب نما بلب روشن کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
 اندھیرا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔
میں ایک ایسی آبادی میں رہتا ہوں جو غریبوں کی نہیں تو امیروں کی بھی نہیں ہے، اس میں زیادہ تر پانچ مرلے کے گھر ہیں، اب تو پانچ مرلہ پلاٹ کی قیمت ڈیفنس کے پلاٹ کے برابر ہو گئی ہے مگر چھ سال پہلے جس کسی نے یہاں پلاٹ خریدا، تو سستے داموں خریدا اور اسی دور میں تعمیر کر لیا ۔ آبادی کے لوگ اس قدر مرفع الحال ضرور ہیں کہ پانچ مرلہ گھر کے سامنے ٹویٹا جی ایل آئی یا ہونڈا سوک کھڑی ہے ، نہیں تو دو چھوٹی گاڑیا ںضرور ہیں اور ایک آدھ موٹر سائیکل بھی۔ مگرلوگوں کی امیری کی حد یہاں ختم ہو جاتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اس سال ہوا جب بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور یونٹ اٹھارہ بیس روپے کا ہو گیا، ظلم کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے لیسکو نے ہر گھر کے پرانے میٹر اتارے اور نئے ڈیجیٹل میٹر نصب کر دیئے، یہ دن اور رات کے یونٹ الگ الگ دکھاتے ہیں، ان میٹروں کی ایک اضافی خوبی یہ ہے کہ یہ بھارت کے اگنی میزائلوں کی رفتارسے چلتے ہیں، اس لئے جس گھر کا اوسط بل پہلے دو تین ہزار تھا، اب پچیس تیس ہزار تک پہنچ گیا ہے۔میں پچھلی سردیوںمیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا، میرا دسمبر جنوری اور فروری کا بل صرف سینکڑوںمیںہوتا تھا، اب ہزاروں سے تجاوز کر گیا، ایک سیانے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ میٹر میں ایسی خرابی ڈال دی گئی ہے کہ دن کے بیس گھنٹوں کے یونٹ رات کے کھاتے میں دکھا رہا ہے۔ ڈیڑھ سال کی تکا فضیحتی کے بعد میٹر تو تبدیل کروا لیا مگر بلوں میں کمی پھر بھی نہیں آئی ، اس لئے کہ بجلی کی قیمت دوگنی تگنی بلکہ چوگنی کر دی گئی تھی، حکومت پاکستان نے ایک ایسا وزیر خزانہ لگا رکھا ہے جو اصل میں اکاﺅنٹنٹ ہے، اسے معاشیات کے اصولوں سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اتناجانتا ہے کہ حکومت نے جو اخراجات کرنے ہیں ، اتنی آمدنی ہونی چاہئے ۔ حکومت چونکہ تاجروں کی حمایت سے بنی ہے، اس لئے انکم ٹیکس کی وصولی کی جرات توکسی میں ہے نہیں، لے دے کے واپڈا اور گیس کے بلوں والے یا پٹرول ، سی این جی کے صارفین اس اکاﺅنٹنٹ کے ہتھے چڑھتے ہیں جن کی کھال بیچ کر خزانے کی کمی پوری کی جاتی ہے۔
عمران خان مظلوموں کی آواز بن کے ابھرا تھامگر وہ حکمت عملی میں مار کھا گیا ، اس نے بجلی بلوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف احتجاج کا غلط طریقہ استعمال کیا اور اپنی بجلی کٹوا کر بیٹھ گیا، اگر وہ پورے ملک کے بجلی صارفین کو ساتھ لے کر چلتا تو کسی عابد شیر علی میں ہمت نہیں تھی کہ کروڑوں عوام کے میٹر کاٹ سکتا۔
تو لوگ اب کیا کریں ، ان کے ذہن میں صرف ایک ترکیب باقی رہ گئی تھی کہ بجلی کا استعمال ہی نہ کریں۔اوراس طریقے پر عمل ہو رہا ہے، گھروںمیں اندھیرا ، سڑکوں پر اندھیرا ، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اکاوئنٹنٹ جنرل صاحب خزانہ بھرنے کے لئے کیا ترکیب استعمال کرتے ہیں۔اور یہ ترکیب کوئی مشکل نہیں ، حکومت کہہ سکتی ہے کہ جس کسی نے جو لوڈ منظور کروا رکھا ہے، اس کے حساب سے اسے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، اب اگر وہ اسے استعمال میںنہیںلائیں گے تو منظور شدہ لوڈ کے حساب سے اوسط بل ان سے ضرور لیا جائے گا، ایسا ہوا توعوام کو اس جبر کا بھی کوئی توڑ کرناپڑے گا۔
لیکن حکومت دانش مندی کا مظاہرہ بھی کر سکتی ہے کہ عوام کو بجلی بچت اسکیم پرجرمانہ کرنے کے بجائے خدا کا شکر کرے کہ مزید بجلی بنانے سے اس کی جان چھوٹی، خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے ہمیشہ کی طرح وزیرا عظم اور ان کے سمدھی وزیرخزانہ حرمین شریفین جا کر نفل ادا کریں۔ان کی نفلی عبادت کے ساتھی سعید احمد ڈپٹی گورنراسٹیٹ بنک ہیں، ان کو بھی ساتھ شامل رکھیں ، میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ وہ ایک نیک روح ہیں۔
حکومت اخبارات اور ٹی وی پر اشہارات کے ذریعے عوام کا شکریہ ادا کرے کہ وہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں رضاکارانہ طور پر ساتھ دے رہے ہیں۔
لو جی بجلی کا مسئلہ حل ہوا، چین کے صدر پاکستان نہیںا ٓئے تو کوئی نقصان نہیں ہوا، ہمیں مزید بجلی نہیں چاہئے تو نئے معاہدے کرنے کی ضرورت کیا ہے۔
تو پھر حکومت اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے کیا کرے، کرنے کو کام بہت سے ہیں۔ڈالر کا ریٹ اوپر نیچے باربار لایا جا سکتا ہے، کچھ غریب لوگ اس میں سے کمائی کر لیں گے، اسٹیٹ بنک اور دیگر قومی بنکوں سے چند سو کھرب مزید نکلوا کر لیپ ٹاپ، تعلیمی وظائف، میٹرو، انڈر گراﺅنڈ ریلوے، آشیانہ اسکیموں میں غرق کردیئے جائیں۔ کراچی لاہور موٹر وے، سنکیانگ ، گوادر تجارتی کوریڈور کی اسکیمیں بھی پروان چڑھائی جا سکتی ہیں۔پنڈی اور ملتان کے بعد میٹرو کے منصوبے چیچو کی ملیاں ، نندی پور، چکری،کا لاباغ، میانوالی، لاڑکانہ، ژوب، دال بندین اور گوادر میں بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔پاک بھارت بارڈر، ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن کے ساتھ سیاحتی مقاصد کے لئے نئی شاہراہ تعمیر کی جائے اس پر دوستی بسیں فراٹے بھریں گی۔
 اور اگر حکومت کا ارادہ ہو کہ کچھ نہیں کرنا کیونکہ اسے تیس سال کے اقتدار کے باوجود گورننس کی الف بے بھی نہیں آتی تو وہ قادری ا ور عمران کو چڑا کر میدان میںجمے رہنے پر مجبور کر سکتی ہے، ایم کیو ایم کو بھڑکا نابھی کچھ مشکل کام نہیں، خورشید شاہ سے ایک ا ٓدھ بیان اور بھی دلوایا جا سکتا ہے، ورنہ رانا ثنا اللہ کب کام ائیں گے۔دھرنے، جلسے جلوس چلتے رہے تو حکومت کےلئے رونا دھونا آسان ہے کہ کوئی کام ہی نہیں کرنے دیتا ، سبھی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔
 حکومت گڑ گڑا کر یہ دعائیں بھی کر سکتی ہے کہ ملک میں سیلاب آتے رہیں، بھارت مسلسل گولہ باری کرتا رہے، آبی جاحیت کا نسخہ بھی آزماتا رہے اور پاکستان کو بنجر بنانے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑے ،دہشت گرد حملے جاری رکھیں۔نئی افغان حکومت بھی پاکستان کے احسانات کا بدلہ اتارنے کے لئے غیظ و غضب کا مظاہرہ کرے اور کسی نہ کسی بہانے امریکہ اور نیٹو ممالک اپنی افواج کے ساتھ ٹک کر خطے میں بیٹھے رہیں۔
ان ڈھیر سارے مسائل کے ہوتے ہوئے عوام کو سر کھجانے کی فرصت نہیںہو گی اور وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے کم از کم بجلی تو نہیں مانگیں گے ۔ یہ بجلی تو انہیں ویسے بھی نہیں چاہئے، کسی کو یقین نہ آرہا ہو تو وہ میرے گھر سر شام آئے اور چاروںطرف گھپ اندھیرے کا مشاہدہ کرے۔مگر میرے پاس آنے کی ضرورت کیوں، اپنے ہمسائے میں دیکھے، ہر طرف اندھیرا ہے اور لوگوںنے اس اندھیرے کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔امرئیکہ نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان نے وار آن ٹیرر میں ا سکا ساتھ نہ دیا تو اسے پتھرکے دورمیں دھکیل دیا جائے گا ، امریکہ کو یہ نیک کام کرنے کا موقع نہیں ملا، یہ سعادت نواز شریف اور شہباز شریف کے حصے میں آئی جن کے دور حکومت میں غاروں کے بجائے قبروں کا اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے۔