اور اب بیماریوں پر بھی سیاست

اور اب بیماریوں پر بھی سیاست

منہ بگاڑ بگاڑ کر اور دانت پیس پیس کر جو لوگ اسحق ڈار کی بیماری پر تبصرہ نہیں ، تبرہ کر رہے ہیں۔ میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں کیا کبھی انہوںنے خود بیمار نہیں ہونا ، کیا گھروںمیں ان کے بوڑھے والدین یا بہن بھائی بستروں سے نہیں چپکے ہوئے اور کیا کبھی انہوں نے اپنے بیمار والدین یا بہن بھائی پر اسی طرز پر پھبتیاں کسی ہیں۔
بیماری پر سیاست بازی کی عادت نئی نہیں پرانی ہے، قائد اعظم سے زیارت ریذیڈنسی میں خان لیاقت علی خان ملنے گئے، بہن نے قائد اعظم کو معزز مہمان کی آمد کی اطلاع دی۔ قائد نے کہا، فاطی، یہ عیادت کرنے نہیں آئے بلکہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ میرے کتنے سانس باقی ہیں۔
کیا ضیاا لحق دور میں نصرت بھٹو بیمار نہیں ہوئیں اور کیا ایک نصف شب کو ان کی بیماری کی ا ٓڑ میں نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو جلا وطن نہیں کر دیا گیا تھا۔
کیا یہی نصرت بھٹو دوبئی میں طویل عرصے تک قومے میں نہیں رہیں اور اسی عالم میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
کیا مخدوم ا مین فہیم بیمار نہیں ہوئے تھے اور لندن علاج کے لئے نہیں گئے۔ لندن میں سیاستدان علاج کرانے آج سے نہیں جا رہے۔
مگر نواز شریف اپنے بائی پاس کے لئے لندن گئے تو باتیں بنائی گئیں کہ وہ بیماری کا تو بہانہ کئے ہوئے ہیں، ویسے ہٹے کٹے ہیں، فاسٹ فوڈ ریستورانوںمیں بر گر کھاتے پھرتے ہیں۔
مجیب الرحمن شامی ا ور عطا الحق قاسمی آپریشن کے بعد خبر گیری کے لئے گئے اورو اپسی پر مجیب الرحمن شامی کا اپنا بیان تھا کہ بارہ لوگوں کوبتاتاہوں کہ واقعی نواز شریف کاا ٓپریشن ہوا ہے، ان کے سینے کے زخم بھی دیکھے ہیں اور ٹانگوں اور بازوئوں کے بھی۔ مگر چھ آدمی یقین کرتے ہیں اور چھ نہیں کرتے۔مجیب شامی نے اپنی یہ پوسٹ فیس بک پر لگا دی اور ایک دل جلے نے تبرہ کیا کہ شامی صاحب کیاا ٓپ کو اب بھی پتہ نہیں چلا کہ لوگ آپ کو ناقابل اعتبار کیوںسمجھتے ہیں۔انسان تو سفاک ہو سکتا ہے مگر دل اور دماغ بھی سفاک ہو جائیں تو یہی ہوتا ہے جو نواز شریف اور مجیب شامی کے ساتھ ہوا۔
یہی وہ وقت ہے جب مجھے شریف فیملی کے ایک قریبی تعلق دار نے ایک تصویر وٹس ایپ کی اور مجھ سے قسم لی کہ میں اسے پریس میں نہیں دوں گا ، میں نے قسم کھا لی مگر جب تصویر دیکھی تو میرا ایمان ڈول گیا، یہ تصویر نواز شریف ا ور محترمہ کلثوم نواز کی تھی، دونوں اپنے فلیٹس کے سامنے ہائیڈ پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے، نواز شریف کا چہرہ اترا ہوا ہے، آنکھیں نیچے کی طرف جھکی ہیں یعنی کیمرے کی طرف نہیں ہیں اور درد کی ماری کلثوم نواز کی آنکھیںنواز شریف کے چہرے پر مرکوز ہیں ، تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت میں وہ بڑھ کر اپنے شوہر کو تھام لیں۔ ایک اخبار نویس کی حیثیت سے نہیں، ایک انسان ہونے کے ناطے میںنے قسم توڑنے کا قصد کر لیا، یہ تصویر دنیا تک پہنچنی ضروری تھی، تاکہ ہر ایک ا پنی ا ٓنکھوں سے مشاہدہ کر سکے کہ کیا واقعی نواز شریف کا آپریشن کے بعد اتنا برا حال ہے، میںنے یہ تصویر دو ٹی وی چینلز کو دی، اس کے بعد یہ تصویر وائرل ہو گئی اور اگلے روز ہر اخبار نے اسے صفحہ ا ول پر دو کالموںمیں کلر میں چھاپا ،۔ اس تصویر کا سامنے آنا تھا کہ یہ بحث خود بخود دم توڑ گئی کہ نواز شریف مچلا بنا ہوا ہے یا واقعی بیمار ہے، ہاں، ایک بات میں اور بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف ضرورت سے زیادہ عرصے کے لئے لندن میں ٹھہرے رہے تاکہ کسی نے کوئی ایڈونچر کرنا ہے اور ان کی بیماری کا جائز اور ناجائزفائدہ ا ٹھانا ہے تو شوق پورا کر لے۔ مگر ایسی ہمت کس میں تھی ، نواز شریف اچھی طرح جانتے تھے کہ اپوزیشن میں دم خم نہیں کہ حکومت توڑنے میں کامیاب ہو سکے ، بڑھکیںلگا لینا اور بات ہے، گالیاں بک لینا بھی ا ور بات ہے مگر پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت لانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا ا ور پاکستانی سیاست میںکوئی ایسافرہاد نہ تھا کہ جوئے شیر لا سکتا، سب دودھ پینے والے مجنوں تھے۔
اب محترمہ کلثوم نواز کو عارضہ لاحق ہوا، وہ اپنا الیکشن چھوڑ کر عازم لندن ہو گئیں۔ پتہ ہے کیا کہا گیا ، کونسی پھبتی ہے جو نہیں کسی گئی، پہلے تو یہ کہا گہا کہ ہارنے کے خوف سے بھاگ گئیں،پھر کہا گیا کہ ا نہیں زبردستی کھڑا کیا گیا ہے ، وہ الیکشن سے دلچسپی ہی نہیں رکھتیں، پھر کہا گیا کہ ان کی بیماری کا علاج تو پاکستان میں بھی ہو سکتا تھا، یہ بھی کہا گیا کہ ملک کے اندر معیاری ہسپتال نہ بنانے والے تو لندن چلے جاتے ہیں اور غریب عوام سرکاری ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ بھی کہنے والے بہت تھے کہ اب عیادت کے بہانے پورا خاندان ملک سے بھاگ جائے گا تاکہ احتساب سے جان چھوٹ جائے مگر چشم فلک نے دیکھا کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ حاضری سے استثنیٰ ہے تاکہ محترمہ کلثوم نواز کی عیادت کے لئے جا سکیں مگر مریم نواز اور نواز شریف دونوںنے لندن جانے کے بجائے عدالت میں حاضر ہونے کو ترجیح دی۔ نواز شریف اس فن میں مہارت رکھتے ہیں کہ لوگوں کے منہ کیسے بند کئے جا سکتے ہیں خاص طور پر ان کے جن کی زبانیں گز بھر کی ہیں۔
اسحق ڈار کی بیماری پر پھبتیاں کسنے کی ہر حد پار کر دی گئی۔
اعتزاز احسن جیسا جہاں دیدہ شخص بھی کہتا ہے کہ پانامہ کا ثبوت لندن کے بیڈ پر دراز ہے، وہ چلتا پھرتا ثبوت ہے، مگر نواز شریف اسے و اپس نہیں آنے دیں گے مبادا وہ وعدہ معاف گواہ بن کر سب کچھ نہ اگل دے۔
اور اب وہی لوگ ،وہی گھسی پٹی پرانی کہانی کہ اسحق ڈار کو کوئی بیماری نہیں، وہ محض احتساب کے ڈر سے چھپا بیٹھا ہے۔ نیب کو ایک بار بھگت چکا ہے، دوسری بار سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔کوئی کہتا ہے کہ یہ نادر حکومت ہے کہ جس کا وزیر خزانہ بھگوڑا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ خزانہ کی وزارت نہیں چلے گی تو ملک کیسے چلے گا۔ کسی کا فرمان ہے اسحق ڈار لندن میں سیاسی پناہ مانگ رہے ہیں کہ عدلیہ ا ور فوج ان کی جان کے در پے ہے۔جتنے منہ اتنی باتیں۔
حکومت نے کچھ تبصروں کے آگے بند باندھنے کے لئے اسحق ڈار کی تین ماہ کی چھٹی منظور کر دی ہے مگر تبصروں کے آگے بند کیسے باندھا جاسکتا ہے جب تبصرے سونامی کی شکل اختیار کر لیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس لاڈلے کا اب بھی وزیر کا درجہ توبرقرار ہے، وہ ساری مراعات سے تو بہرہ مند ہوتا رہے گاا ور قومی خزانے سے علاج کرا لے گا، بھئی، جب آپ کہتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ اسحق ڈار کے پاس کھربوں کی دولت ہے تو پھر اسے قومی خزانے سے خرچ لینے کی کیا ضرورت۔ میں ایک حقیقت بتا دوں کہ جتنا اسحق ڈار کا علاج پر خرچ ہو گا، اس سے دگنی رقم تو وہ ایک یتیم خانے پر خرچ کر رہا ہے جو اس کی ذاتی جیب اور ذاتی نگرانی میں لاہور کی رائیو نڈ روڈ پر چلتا ہے۔
اور ایک حقیقت اور بتا دوں۔ یہ سخت دلخراش ہے اور میری دعا ہے کہ وہ سنگ دل جو طرح طرح کی پھبتیاں کستے ہیں ، کبھی ان کے اپنے والد یا والدہ یا کسی بھائی بہن کوایسی قیامت سے نہ گزرنا پڑے۔
مجھے یہ بات اسی سورس سے پتہ چلی ہے جس نے مجھے نواز شریف کی ہائیڈ پارک والی تصویر دی تھی۔ ہر اخبارنویس کاایک سورس ہوتا ہے، میرا یہ سورس شریف فیملی کے گھرانے کا قریبی ہے مگر میں اس کا نام کبھی افشا نہیںکروں گا۔ تو سنئے جب اسحق ڈار کی اینجیوگرافی شروع ہوئی تو جیسے ہی آلات ان کی شریانوں میں اندر گئے تو ساتھ ہی شریانیں پھٹ گئیں اور بڑی مقدار میں خون بہہ نکلا۔ یہ وقت خدا کسی پر نہ لائے، نواز شریف پر بھی ایساوقت آیا تھا اور ان کی شریان دل کے قریب سے پھٹی تھی، اس لئے فوری طور پر ان کا آپریشن کر کے شریانوں کی سلائی کی گئی، ا سحق ڈار کی بھی حالت تو وہی ہوئی مگر خون بہنے کی وجہ سے ان کی اینجیو گرافی اور مزید علاج مئوخر کر دیا گیا ہے، یہ تین ماہ میں ہو یا چھ ماہ میں ۔ ہر انسان کو زندگی عزیز ہو تی ہے، یہ جاہ و منصب، یہ شان و شوکت تو سبھی یہیں رہ جاتے ہیں۔ اسحق ڈار کی وزارت جس کو چاہئے وہ آگے بڑھے اورا س پر قابض ہو جائے۔ اسحق ڈار کو اپنے علاج سے غرض ہے اور دعا ہے کہ اللہ ان کو شفا عطا کرے ، صحت کاملہ اور عاجلہ سے نوازے۔
کبھی یاد کیجئے کہ جب ملک میں میمو گیٹ کا فساد کھڑا ہو گیا تھا تو جناب صدر زرداری بھی لکنت کا شکار ہو کر دوبئی کے ہسپتال میں جا پہنچے تھے۔
شاید کسی کو یہ بھی یاد ہو گا کہ پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلی نے لاہور کے کارڈیک ہسپتال کے وی آئی پی روم میں رہ کر قید بھی کاٹی، دوسری شادی بھی کی اور بلدیاتی الیکشن بھی علاقے میںلڑوائے۔
ڈاکٹر عاصم حسین کی بیماری تو سب کے سامنے ہے جو کسی بھی وقت علاج کے لئے لندن چلے جائیں گے۔
ایک زمانے میں میاں شہباز شریف کی کمر درد کا مذاق اڑایا جاتا تھا، یہ شخص انسان نہیں ایک جن ہے کہ اس بیماری کے ساتھ دوڑ بھاگ کر رہا ہے، میٹرو کی اسپیڈ کم ہے اور شہباز سپیڈ کو چین بھی ایک محاورے کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
سو عرض یہ ہے کہ بیماری اور انسان کا ساتھ چلتا رہتا ہے، بس خوف خدا کیجئے ا ور بیماری پر سیاست نہ کیجئے،، پھبتیاںنہ کسیے۔ یہ برا وقت آپ پر بھی آ سکتا ہے تو کیا آپ ایسا سب کچھ برداشت کر پائیں گے۔