قومی اسمبلی کی نشستوں کی از سر نوحد بندی کی آئینی ترمیم کی راہ میں ’’غیبی ہاتھ‘‘ حائل ہو گیا

قومی اسمبلی کی نشستوں کی از سر نوحد بندی کی آئینی ترمیم کی راہ میں ’’غیبی ہاتھ‘‘ حائل ہو گیا

جمعہ کو بھی سینیٹ کا اجلاس’’ نشستند گفتند برخواستند ‘‘ کی تصویر پیش کر رہا تھا حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تاحال مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا پیپلز پارٹی نے حکومت کو ’’ٹرک کی بتی‘‘ کے پیچھے لگا رکھا ہے اگرچہ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے پارلیمنٹ میں نوید قمر ، سید خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کو ’’بااختیار ‘‘ بنا رکھا ہے لیکن وہ عملا ہر وقت ً آصف علی زرداری کے اشارے کے منتطر رہتے ہیں اس لئے جب مسلم لیگ (ن) کا کوئی لیڈر ان سے بات کرتا ہے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں آپ آصف علی زرداری سے بات کریں ہم بے بس ہیں ۔ جمعہ کو سینیٹ کے ایجنڈے پر آئینی ترمیم کو شامل نہیں کیا گیا اب پروگرام بنایا گیا ہے کہ پیر کو آئینی ترمیم منظور کرائی جائے گی ممکن ہے پیپلز پارٹی کی قیادت راضی ہو جائے تاہم اگر سینیٹ کی دیگر جماعتیں اس بات کا تہیہ کر لیں تو آئینی ترمیم منظور کرا سکتی ہیں لیکن اصل مسئلہ ہے ایوان میں ارکان آنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کے قانون میں ترمیمی بل کے مسترد کئے جانے کے سیاسی اثرات موضوع گفتگو بنے ہو ئے ہیں پارلیمانی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ میاں نواز شریف نے بھاری اکثریت سے بل مسترد کروا کر ایک بار پھر ان قوتوں کو شکست دی ہے جو میاں نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ایوان میں یہ بات ارکان کے لئے باعث دلچسپی بنی ہوئی ہے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق کے درمیان کس نوعیت کا ’’نامہ و پیام ‘‘ ہوتا ہے انہوں نے کاغذ پر لکھ کر قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفرالحق کو پیغام بھجوایا جو انہوں نے پیغام پڑھ کر اپنی جیب میں محفوظ کر لیا چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے بارے میں عام تاثر ہے کہ سخت گیر ہیں ارکان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے وہ کبھی کبھی ’’خوش گفتاری‘‘ سے ارکان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتے ہیں نے کہا کہ کلثوم بی بی آج تو اپوزیشن بھی آپ کی تعریفیں کر رہی ہے اج تے موجاں ای موجاںہو گیاں ‘‘ جس پر کلثوم پروین نے کہا ’’ جناب چیئرمین مجھے چیئرمین سینیٹ نے جب سینیٹر اعظم خان موسیٰ خیل کا مائیک بند کرادیا تو وہ بولے جناب چیئرمین تین چار فقرے اور پھر آ پ کو بلوانے کے لیے لوگ نہیں ملیں گے ۔اجلاس کے دوران سینیٹر ستارہ ایاز اور سینیٹر ثمینہ عابد آپس میں گفتگو کر رہی تھیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹر ستارہ ایاز اور سینیٹر ثمینہ عابدآپ کی تمام سیکرٹس میرے پاس پہنچ رہی ہیں جس پر دونوں خاتون سینیٹرز نے زور دار قہقہ لگا دیا ۔سینیٹر نجمہ حمید نے کہا کہ ہمیں دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی سے اسلام آباد آتے آتے دو دوگھنٹے لگتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ آپ سے بھی ڈر لگتا ہے ،آپ وقت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں ،ہمیں وقت پر پہنچنا ہوتا ہے جس پر چیئرمین نے پیر شام 4بجے تک ملتوی کر دیا۔

سینیٹ نے کے پی کے پولیس کے ایڈیشنل آئی جی محمد اشرف نور اور میجر اسحاق کی دہشت گردی کے واقعہ میںجاں بحق ہونے کے واقعہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ باہر نے کہا ہے کہ وزیر دفاع اسلامی عسکری اتحاد کے اجلاس میں ضرور شرکت کریں ، کوئی بھی معاہدے کرنے سے پہلے اس کے ٹی او آرز ایوان میں پیش کئے جائیں ۔ الیکشن بل کے ایوان سے پاس ہونے کے حوالے سے ’’غیبی ہاتھ‘‘ محسوس کر رہا ہوں ۔ ایوان کے اندر اور باہر ایک عجیب سی پرسراریت اور کنفیوژن ہے اور سیاسی جماعتوں بھی کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ سینیٹرز غیبی ہاتھ کا ذکر کرر ہے ہیں کہ اس کی وجہ سے الیکشن بل قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے باوجود سینٹ سے پاس نہیں ہو رہا ہے ایوان بالامیں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والی تجارت کو برابری کی سطح پر لایا جائے ،کہ ہم چین کو چاول دیتے ہیں تو وہ 60فیصد ڈیوٹی لگاتے ہیں، آسیان ممالک کے ساتھ 30فیصد ڈیوٹی لگتی ہے،بھارت کی چین سے تجارت 50ارب ڈالر سے زیادہ ہے مگر پاکستان اس بارے میں سوچ ہی نہیں رہا۔
پارلیمنٹ کی ڈائری