دھرنے کی ’’عبادت‘‘ میں شریک کیپٹن صفدر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
دھرنے کی ’’عبادت‘‘ میں شریک کیپٹن صفدر

شاید مریم نواز احتساب عدالت میں تھیں۔ پوچھا کہ کیپٹن صفدر کہاں ہیں۔ اس بات سے دل خوش ہوا کہ میڈیا میں ہر کہیں مریم نواز کا نام آتا ہے۔ کیپٹن صفدر کہیں بھی ہوں وہ پچھلی صف میں بیٹھتے ہیں قلندر آدمی ہیں۔

میری ملاقات کیپٹن صفدر سے ہے۔ وہ واقعی کچھ کچھ روحانیت سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا بس چلے تو میں دھرنے والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ ان کے بقول دھرنے والے ناموس رسالتؐ کے لئے کئی دن رات باہر گزار چکے ہیں۔ ان کے جوش و جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ فرض کریں وہ دھرنے میں بیٹھ جائیں تو کیا بنے گا۔
کیپٹن صفدر نے ناموس رسالتؐ پر قومی اسمبلی میں ایک سرشار کر دینے والی ولولہ انگیز تقریر کی۔ ممکن ہے وہ رات کو دھرنے والوں کے پاس جاتے ہوں اور خاطر خدمت بھی کرتے ہوں۔
ان کا تعلق بھی ایک روحانی خانوادے سے ہے۔ مجھے رائے ونڈ لاہور میں چودھری غفور نے کیپٹن صفدر کے لئے بڑی باتیں سنائی تھیں جن کا ذکر میں کسی اور کالم میں کروں گا۔میڈیا والوں نے مریم صاحبہ کو مریم نواز کیوں بنا دیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں مریم صفدر کہنا چاہئے۔ کیپٹن صفدر کئی اہم اور غیر متنازعہ اجتماعات میں خطاب کر چکے ہیں۔ وہ بڑی زبردست تقریر کرتے ہیں۔ تقریر تو اب مریم صفدر بھی خوب کرتی ہیں۔اس دھرنے کے مقاصد کیا ہیں۔ ناموس رسالتؐ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اب تو سپریم کورٹ بھی دھرنے والوں پر برہم ہوئی ہے۔ یہ دھرنے والے اصل میں کون لوگ ہیں۔ یہ ’’جماعت‘‘ رجسٹر کیسے ہوئی۔ اتنے دنوں سے کھا پی کہاں سے رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ ملنگ فقیر ہیں۔ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ فارن فنڈنگ تو نہیں ہے۔ یہ عدالت کے خیالات اور تحفظات ہیں۔ عدالت کے خیالات بڑے سخت ہیں‘ کون سا اسلام راستے بند کرنے اور ایسی زبان استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ بات جسٹس عیسیٰ قاضی نے کہی ہے اور یہ بات انتظامیہ کے لئے ہے۔ بتایا جائے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ آزادانہ نقل و حرکت ہر شہری کا حق ہے۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے۔
حکومت نے دھرنے والوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ہر طرح کی سپلائی بند کر دی گئی ہے۔ ایوانوں پر عدم اعتماد‘ ایجنسیوں سے جواب طلب۔ عدالت نے کہا جب ریاست ختم ہو گی تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ ایسے چند لوگ ہمارے شہر کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ یہ جملہ بہت خطرناک ہے۔ دشمن کو ہمارے گھر میں آگ لگانے کا راستہ مل گیا ہے۔ یہ بات عدالت نے کہی ہے۔
وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں۔ دھرنے والے ماڈل ٹاؤن اور لال مسجد جیسا واقعہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کی بھاگ دوڑ پسند آئی۔ انہوں نے طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ مقابلے میں بھی طاقت کے مظاہرے کا شک تھا بلکہ یقین تھا۔ احسن اقبال نے بہرحال تحمل اور تدبر کا ثبوت دیا۔ وہ خود ہر جگہ موجود رہے۔ وہ ہمارے دوست ہیں۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں نعتیں سنایا کرتے تھے۔ اب بھی احسن اقبال نے مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔ راجہ ظفرالحق سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ پیر صاحب گولڑہ شریف کو دھرنے کے مقام پر لے کے آئے۔
اب بھی کیپٹن صفدر کو لبیک یا رسول اللہ میں شرکت کے لئے دعوت دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ سنا گیا ہے کہ انہیں بہترین بستر چٹائی اور خیمہ بھی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ دھرنے والے تحریک لبیک والوں کو کس نے دیا ہے۔
میں کیپٹن صفدر کا مداح ہوں اور قائل ہوں مگر جب انہوں نے اسحاق ڈار کی حمایت میں بیان دیا تھا کہ اولیا اللہ اسحاق ڈار کی حفاظت کر رہے ہیں تو میں بہت پریشان ہوا۔ کیا اولیا اللہ کو بھی خزانے کی ضرورت ہے؟
میں حیران ہوں کہ احتساب عدالت میں کیپٹن صفدر کو کیوں بلایا جاتا ہے۔ اس بات پر بھی میرا احتجاج ریکارڈ پر آنا چاہئے کہ مریم بی بی اب مریم صفدر ہیں‘ مریم نواز نہیں ہیں۔ نااہل ہونے کے بعد نوازشریف بہت اداس رہتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کے لئے مریم صفدر کا کوئی ’’قول‘‘ مجھے یاد نہیں۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ مریم نواز کی تقریر لکھنے والی اہم لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی ہو گی مگر آخر میں ایک نظر کیپٹن صاحب ڈال لیتے ہوں گے۔ کیپٹن صاحب کی نذر اسلام آباد کی ایک اہم اور بڑی شاعرہ شاہدہ لطیف کا ایک شعر
کیا بتلائیں وحشت ہجر میں کیسے کیسے تڑپا جی
تم کہتے ہو صبر کرو اور ہم کہتے ہیں اچھا جی