صِرف الطاف حسین کیوں؟ طاہر اُلقادری بھی !

کالم نگار  |  اثر چوہان

کراچی کو، پاکستان سے الگ کرنے کی دھمکی دینے پر، ایم کیو ایم کے قائد، الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے لئے، سُپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے دروازوں پر، دستک دے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں، تین رُکنی بنچ کے رُوبرو، درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ خان نے، مختلف اخبارات سے، الطاف حسین کے بیان کے اقتباسات، پڑھ کر سُنائے اور کہا کہ ”الطاف حسین کا بیان مُلکی سلامتی کے خلاف ہے، اُن پر غدّاری کا مقدمہ چلایا جائے اور ایم کیو ایم کو تحلیل کر دِیا جائے“۔ اس پر چیف جسٹس نے درخواست گُزار سے کہا کہ ”پہلے آپ الیکشن کمِشن سے، ریکارڈ لے کر ثابت کریں کہ ایم کیو ایم کا سربراہ کون ہے؟ اور یہ کہ، کیا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو، الطاف حسین کے بیان کا نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا؟“۔ پھر درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی۔ اُدھر لاہور ہائی کورٹ نے بھی، فیاض مہر ایڈووکیٹ کی درخواست پر، الطاف حسین کے خلاف پاکستان توڑنے سے، متعلق بیان پر، پی۔ٹی۔ اے، پیمرا اوروفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہُوئے، سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ”مُلک سے باہر بیٹھا شخص کِس طرح پاکستان کے خلاف، بیان دیتا ہے اور اُس بیان کو، کیسے نشر کر دیا جاتا ہے؟ “۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ”الطاف حسین پاکستانی شہری نہیں ہیں، وہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں ہو سکتے“۔
جِس روز الطاف حسین کے متنازعہ بیان کے بارے میں، سُپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آئیں، اُسی روز جناب الطاف حسین کی طرف سے، ایم کیو ایم کے سربراہ کی حیثیت سے، ایم کیو ایم کی لندن اور پاکستان کی رابطہ کمیٹیاں اور نائن زیرو (کراچی) کی تنظیمی کمیٹی تحلیل کرنے اور تنظیمی معاملات چلانے کے لئے عارضی کمیٹی کے قیام کے اعلان کی خبر بھی آئی۔ بے شک الیکشن کمِشن کے پاس ایم کیو ایم کی رجسٹریشن، جناب فاروق ستّار کی طرف سے دی جانے والی درخواست پر ہُوئی ہو گی لیکن ایم کیو ایم کی تشکیل (1978ئ) پھر 1992ئ سے الطاف صاحب کے لندن میں مستقل قیام سے لے کر گذشتہ روز تک، ایم کیو ایم سے متعلق سارے فیصلے وہی کرتے رہے ہیں اور ” قائدِتحریک“ کہلاتے ہیں۔2008ءکے عام انتخابات کے بعد، وفاق اور صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم، صدر آصف زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی بنی تھی اور اِس دوران دونوں جماعتوں میں9/8 بار اختلافات بھی ہُوئے۔ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی بھی ہوئی لیکن جب صدر آصف زرداری، جناب الطاف سے ٹیلی فون پر یا بالمشافہ ملاقات کر کے، یا باری باری وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی، پھر راجا پرویز اشرف، خاص طور پر رحمٰن ملک کو بحیثیت ایلچی لندن بھجوا کر جناب الطاف حسین کے ”تحفظات“ دُور کر دیتے تو صُلح صفائی ہو جاتی تھی۔ ایسے حالات میں صدر زرداری، اُن کی پارٹی کی حکومت اور حکومت کے ماتحت قانون نافذ کرنے والے ادارے، لندن سے جناب الطاف حسین کے ٹیلی فون یا ویڈیو لِنک پر دھمکی آمیز بیانات کا نوٹس کیسے لیتے؟۔
حکومت اور اُس کے ”قانون نافذ کرنے والے اداروں“ نے تو، 19دسمبر2012ءکو کینیڈین شہری، علّامہ طاہر اُلقادری کی پاکستان آمد، 23دسمبر2012ءکو لاہور کے جلسہءعام میں اشتعال انگیز خطاب اور13 سے17جنوری تک اسلام آباد میں دھرنا اور دھمکی آمیز تقریروںکا بھی نوٹس نہیں لِیا تھا۔ دراصل علّامہ القادری کو بھی عام انتخابات ملتوی کرانے اور انتشار پھیلانے کے لئے مدعُو کِیا گیا تھا۔ میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت نے دانشمندی سے کام لِیا، ورنہ علّامہ القادری تو، سب سے پہلے پنجاب میں فسادات کراناچاہتے تھے۔ حیرت ہے کہ ”جمہوریت کے قیام کے لئے، عام انتخابات کے مخالف طالبان“ نے بھی علّامہ طاہر القادری اور اُن کے لانگ مارچ کے شُرکاءکو کچھ نہیں کہا۔ علّامہ القادری کو پارلیمنٹ سے باہر ایک ”بڑی قوّت“ تسلیم کرتے ہُوئے، صدر زداری کی ہدایت پر، وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے، پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد میں شریک ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کی قیادت کو، اسلام آباد کے ڈی چوک پر علّامہ القادری کے ساتھ ”میثاقِ جمہوریت دو نمبر“ کرنے کے لئے، اُن کے بم پروف کنٹینر میں بھجوایا لیکن مختلف سیاسی جماعتوں، سُپریم کورٹ اور عوام کادباﺅ اتنا زیادہ تھا کہ، انتخابات ملتوی نہ کرائے جا سکے۔
علّامہ القادری ”پاکستان کے ووٹر کی حیثیت سے“ الیکشن کمِشن کو تحلیل کرانے کے لئے، سُپریم کورٹ گئے لیکن اُنہیں مُنہ کی کھانا پڑی۔ انتخابات تو ملتوی نہیں کرا سکے لیکن انہوں نے اپنی مفلوج اور مدفون سیاسی پارٹی ”پاکستان عوامی تحریک“ کو زندہ کر کے، انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ 11مئی کو دھرنا بھی دِیا لیکن انتخابات ہُوئے اور علّامہ القادری سے ”میثاقِ جمہوریت دو نمبر“ کرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی، اُن میں حِصّہ لیا۔ یہ الگ بات کہ، ووٹ حاصل کرنے میں، مسلم لیگ ن پہلے اور پاکستان تحریک ِ انصاف دوسرے نمبر پر رہیں۔الطاف حسین نے پاکستان مسلم لیگ ن کو ”پنجابیوں کی نمائندہ جماعت“ ہونے کاطعنہ دیا حالانکہ1990ءاور1997ءکے عام انتخابات میں بھی، مسلم لیگ ن کو چاروں صوبوں سے بھاری مینڈیٹ مِلا تھا، دراصل جناب الطاف حسین کو، انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے ابھرنے سے زیادہ تکلیف ہُوئی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو ”کمزور پارٹی“ سمجھ کراپنی تقریروں میں اُن پر ذاتی حملے کئے۔ اِس دوران کراچی میں، پاکستان تحریکِ انصاف کی ایک سینئر راہنما، محترمہ زہرا حسین کا قتل ہو گیا۔ عمران خان نے، براہِ راست الطاف حسین کواِس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اب صورت یہ ہے کہ پوری دُنیا، خاص طور پر برطانیہ میں، پاکستان تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔
برطانوی حکومت اور لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کی کراچی کو، پاکستان سے الگ کرنے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ،سیاسی مخالفوں کے خلاف تشدد پر ابھارنے والی تقریرپر مِلنے والی ہزاروں شکایات کا نوٹس لے لیا ہے۔ یہ اُن کا اور برطانوی شہری جناب الطاف حسین کا معاملہ ہے لیکن پاکستان میں سُپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے دروازوں پر دستک دی جا چکی ہے۔ اب فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ جب، آئین کے تحت کسی دُہری شہریت کے حامل شخص کو، پاکستان کی پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی اجازت نہیں ہے تو، کیا اُسے پاکستان سے باہر بیٹھ کر (یا دُہری شہریت ترک کئے بغیر) پاکستان واپس آکر، کسی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ پھِر صِرف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ہی کیوں؟ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ، علّامہ طاہر القادری کو ”انقلاب“ کا نعرہ لگا کر، بھولے بھالے لوگوں سے، اُن کی موٹر سائیکلیں/ سکوٹر ز، کاریں، مکانات اور عورتوں سے اُن کے زیورات ہتھیانے کے لئے کیوں کُھلا چھو ڑ دیا جائے؟ اور ہاں! سارا بوجھ سُپریم کورٹ یا ہائی کورٹس پر کیوں ڈال دِیا جائے؟ کیوںنہ چند دِن بعد، وزارتِ عُظمیٰ کا حلف اُٹھانے والے، میاںنواز شریف کی قیادت میں پارلیمنٹ فوری طور پر، یہ فیصلہ کرے؟