حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ میں ممتاز دانشورمواحد حسین کا لیکچر

کالم نگار  |  محمد مصدق

پاکستانی دانشور اور نوائے وقت /نیشن کے کالمسٹ سید مواحد حسین کا شمار اس وقت دنیا کے ان چند دانشوروں میں ہوتا ہے جو ہر موضوع پر بے لاگ اور حقیقت پسندانہ تبصرہ اور تجزیہ کرنے کی وجہ سے اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ گاہے گاہے نئے اور پرانے صحافیوں کو اکھٹا کر کے سید مواحد حسین کے ساتھ فکری نشستوں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ العباد عبدالعلی نے آج کی فکر نشست کے لئے موضوع منتخب کیا تھا۔ ”پاکستان اور مغربی ممالک ! انتخابات 2013ءکے بعد کا منظر نامہ“ سید مواحد حسین نے اپنی فکر ی گفتگو کا آغاز امریکی صدر اوباما کی تازہ ترین تقریر پر تبصرے سے کیا ۔ ”اوباما کی تازہ ترین تقریر بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس نے ڈرون حملوں کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہے اور خاتون بینجمن نے جب اس کی تقریر کو روکا تو امریکی صدر نے اس کا برا نہیں منایا کیونکہ یہ خاتون بینجمن ڈرون حملوں کے خلاف ہے اور اس مقصد کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اوباما نے حیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شک پڑنے پر اٹیک نہیں کریں گے ہاں اگر یقینی ہو جائے کہ کسی جگہ سے امریکہ پر حملہ ہونے جارہا ہے تو پھر ضرور کریں گے۔ کچھ عرصہ پہلے جب انڈیا کی یو ایس اے سے نیو کلیر ڈیل ہوئی تو پاکستانی قیادت نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا حا لانکہ ہمیں فوری طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ہی جانا چاہئے تھا اور جب امریکہ ڈومور کی ڈیمانڈ کرتا تھا تو ہمیں بھی اپنے مفادات کی بات کرنی چاہئے تھی۔ لیکن کیا کیا جاسکتا ہے جب ایک ہی ٹیلی فون پر ”یس سر“ کا نعرہ بلند کر دیا جائے اور پاکستان کا صدر یہ بیان دیدے کہ آپ ڈرون حملے جاری رکھیں ہم اوپر اوپر سے احتجاج کرتے رہیں گے۔ الیکشن 2013ءکے موقع پر نہ صرف دنیا کا میڈیا پاکستان آیا ہوا تھا بلکہ این جی اوز کے علاوہ یورپی یونین اور کامن ویلتھ سے خصوصی وفود بھی آئے ہوئے تھے۔ ان سب سے مغرب میں واپس جا کر الیکشن 2013ءکو سراہا ہے۔لیکن حیرت ہے کہ چند ووٹ لینے والے بھی احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہو گئی ہے۔ اس مرتبہ چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام شکایات کا ازالہ کرنے کا تسلی بخش انتظام کیا ہوا ہے اس لئے کسی بھی شکایت کی صورت میں دھرنا دینے کی بجائے چیف الیکشن کمیشن کے بنائے ہوئے ٹریبونلز سے رجوع کرنا چاہئے، ویسے بھی جب اسمبلیاں فعال ہو جائیں گی اور نئی حکومت وجود میں آ جائے گی تو پھر سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ مغرب نے الیکشن رزلٹس پر متوازن رائے کا اظہار کیا ہے کیونکہ کوئی انقلابی تبدیلی تو وجود میں نہیں آئی ہے۔ رول آف عرب اسٹیبلشمنٹ اپنی جگہ پر ہے ویسے اسلامی ممالک سب کچھ رکھتے رہیں لیکن دنیا میں ان کا جو مقام ہونا چاہئے تھا وہ انہیں حاصل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ سب سے بڑا ادارہ ہے لیکن ویٹو پاور رکھنے والی اقوام اور ممالک میں کوئی مسلمان ملک شامل نہیں ہے۔ اگر سلامتی کونسل کے ممبران کی توسیع کا تذکرہ ہوتا ہے تو کسی اسلامی ملک کے بجائے غیر اسلامی ملک کا نام لیا جاتا ہے۔ کشمیر تمام فوجی تنازعات کی جڑ ہے۔ ادھر فلسطین کا مسئلہ حل طلب ہے لیکن مسلمان ممالک متحد اور ایک نقطہ نظر نہ رکھنے کی وجہ سے مختلف مسائل کا شکار رہیں۔ بعد میں شرکا ءنے بہت اچھے سوالات کئے جن کے سید مواحد حسین نے تسلی بخش جوابات دئیے۔