مسلم لیگ نواز کی جانشین

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
مسلم لیگ نواز کی جانشین

بی بی سی کی جانب سے ہر سال دنیا کی 100 بااثر ترین خواتین کی فہرست جاری کی جاتی ہے جس میں اس سال مریم نواز کا نام بھی شامل ہے۔ البتہ اس سال جاری ہونے والی فہرست میں ایسی خواتین کا خصوصیت سے تذکرہ کیا گیا ہے جو سربراہانِ مملکت کی بیٹیاں بھی ہیں اور ان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے ساتھ مریم نواز کا نام بھی موجود ہے۔ بلاشبہ مریم نواز توجہ مرکوز رکھنے والی خاتون ہیں اور اگر وہ نواز شریف کی سیاسی وارث نہیں بن پاتیں تب بھی وہ پاکستان کی ایک سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق 2013ءکے عام انتخابات میں مریم نواز نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا جب کہ اس وقت بھی وہ ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو وزیراعظم نواز شریف کے سیاسی محاذوں پر اثر انداز ہیں۔۔۔۔۔ مسلم لیگ نوا ز کی مستقبل کی لیڈرشپ مریم نواز کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔ مریم نواز کی چھوٹی صاحبزادی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر مریم نواز نے سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کیں۔ مریم اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر بیٹی کو پیار کرتے دکھائے گئے۔ تصویر خود بول رہی تھی کہ ”میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی“۔ فیملی اور سیاست کے لئے میاں بیوی کا راضی نظر آنا ضروری ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی تمام زندگی شوہر سے راضی ہونے کا دکھاوا کرتی رہیں۔ آصف زرداری کو کون نہیں جانتا۔ تعزیت کے ووٹوں پر حکمرانی کرنے والا شوہر۔ بے نظیر بھٹو کے باپ ذوالفقار علی بھٹو جیسا مقبول ترین سیاسی لیڈر پھر نہ آسکا اور بیٹی جیسی پاور فل خاتون قیادت بھی نہ آسکے گی لیکن مریم نواز اپنے والد کی مقبولیت اور پاور کو آگے لے کر چلنے کے لئے پرعزم ہیں۔ بنا بنایا تھالی میں رکھا مل جائے تو چلانا مشکل نہیں البتہ عمران خان کی طرح نیا بنانا مشکل ہے۔ عمران خان نے سیاسی پارٹی بنائی اور ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے عجز و انکساری کا ثبوت نہ دیا تو تحریک انصاف اس ملک کی نمبر ون پارٹی بن کر ابھرسکتی ہے۔ شریف فیملی کے بارے میں عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ لوگوں کو ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ زوال میں ان کے رویے عاجزانہ ہوتے ہیں اور اقتدار میں آنکھیں نہےں ملاتے۔ مغرور اور مطلب پرست ہیں۔ عمران خان ایک مرتبہ بھی وزیراعظم نہ بن سکے اس کے باوجود متکبر اور مطلب پسند مشہور ہےں۔ مریم نواز کا مقابلہ عمران خان سے ہے۔ نہ عمران خان تنقید برداشت کرتا ہے اور نہ مریم نواز کو تنقیدی کالم پسند ہیں۔ مریم نواز کے اطراف خوشامدی ٹولہ خاصا مضبوط ہے جو انہیں ابھرنے سے پہلے ہی لے ڈوبے گا۔ ہم دیہی علاقوں میں جاتے ہیں، شہروں اور بستیوں میں گھومتے ہیں، عوام پوچھتے ہیں کہ اگلی حکومت کس کی ہو گی؟ ہم کہتے ہیں ”تمہاری بشرطیکہ تمہیں شعور آگیا“۔۔۔۔ مریم نواز کی منزل والد کی کرسی ہے جبکہ عمران خان کا مقابلہ نواز شریف سے نہیں ان کی بیٹی سے ہے۔ مسلم لیگ نواز کے بانی اور قائد میاں نواز شریف اپنا ووٹ بینک اتنا مضبوط کر چکے ہیں کہ اگلے الیکشن میں بھی انہیں باآسانی شکست نہیں دی جا سکتی۔ بیٹی کو تیار کر دیا ہے لہذا 2018ءکے الیکشن میں عمران خان کا مقابلہ حریف کی بیٹی سے ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے مریم نوازکو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد مریم نوازشریف کو لاہور سے الیکشن لڑوانے کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، جس کیلئے حلقہ این اے 128 کے اہم پارٹی رہنماو¿ں کو ایک میٹنگ میں اس فیصلے سے آگاہ بھی کردیا گیا ہے۔ میٹنگ میں شامل ایک ن لیگی کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کو الیکشن میں کامیاب کروانے کے حوالے سے اجلاس بھی منعقد ہوچکا ہے۔

ذرائع نے بتایا مریم نوازشریف کے این اے 128سے الیکشن لڑنے کے باعث اس حلقہ سے منتخب ن لیگی ایم این اے ملک افضل کھوکھرکے حلقہ کو تقسیم کردیا جائے گا اور زیادہ تر شہری علاقوں پر مشتمل نئے بننے والے حلقہ سے مریم نوازشریف الیکشن لڑیں گی جبکہ موجودہ ایم این اے ملک افضل کھوکھر کے حلقہ میں شامل زیادہ تر دیہی علاقے شامل کروانے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ الیکشن 2018ءمیں عمران خان مریم نواز کو اپنا حریف سمجھتے ہےں، اس لئے ان کی میڈیا ٹیم مریم نواز کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔۔۔ مریم نواز کی نجی زندگی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ گو کہ کیپٹن صفدر کا کردار منفی پروپیگنڈہ کو جنم دیتا ہے لیکن مریم نواز سیاست کی نزاکت سمجھ گئی ہیں۔ شوہر کے ساتھ لندن مہینہ قیام اور بیٹی کی سالگرہ پر سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کرنا اچھی حکمت عملی ہے۔ عمران خان مرد ہیں لہذا ہر طرح کی حکمت عملی سے آزاد ہیں البتہ مسلم لیگی بیٹی کو خاندانی شرافت کا اظہار کرنا پڑے گا۔ اگلا الیکشن کانٹے دار مقابلہ ثابت ہو گا۔