ہوتا ہے جادہ پیما، پھر کارواں ہمارا!

کالم نگار  |  خالد احمد

پاکستان کرکٹ کے عالمی کپ 2011ءکے کوارٹر فائنل میں اترنے والی کالی آندھی کے اڑائے ہوئے گردوغبار کی دیوار سے ایک بگولے کی طرح گزرتا سیمی فائنل کے میدان میں رقص فرما ہو گیا! ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے اور ڈھاکا کا ”شیر بنگال سٹیڈیم“ ہوم گراﺅنڈ کا منظر پیش کر رہا تھا! برقیاتی ذرائع ابلاغ ممکن حد تک اس منظر کو پاکستانی آنکھوں سے اوجھل رکھنے کی کوشش میں مصروف رہے اور یہ ایک حد تک کامیاب بھی ہو گئے مگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مقبول ترین دو چینل پوری دنیا میں وہ پیغام عام کر گئے جو بنگلہ دیشی عوام نے ہمیں پوری دنیا کے سامنے بھیجا!
یہ فتح یوم پاکستان کی شام ہمارے دامن میں آ گری، شائقین کے جوش و خروش نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان واقع زمانی اور مکانی فاصلے ہوا کر دیئے۔ ”شیر بنگال سٹیڈیم“ منٹو پارک، کی یاد دلانے لگا جہاں آج سے 71 سال قبل ہمارا سفر شروع ہوا تھا، قائداعظمؒ کی سربراہی میں ہمارا قافلہ جادہ پیما ہوا تھا! بنگال کے وزیراعظم فضل الحق نے ”قرار داد لاہور“ پیش کی اور پھر ”لکھنو ترمیم، یا، امینڈمنٹ“ کے ذریعے سٹیٹس کا لفظ ”سٹیٹ“ کے لفظ سے بدل گیا! اور کیبنٹ پلان کی شق: 19(سی) پر مہاتما گاندھی کی تشریح پر ایک نیا خرخشہ اٹھ کھڑا ہوا جو پریوی کونسل تک پہنچا! پریوی کونسل نے حضرت قائداعظمؒ کی توضیح کی تائید کر دی تو قائداعظمؒ نے تمام جھگڑے ختم کرتے ہوئے! صاف صاف کہہ دیا، اب ہم پاکستان کے مطالبے کی منظوری سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہونے کے! اور پاکستان بن گیا!
کچھ نجومی پاکستان کا زائچہ 3 جون 1947ءکے روز سیاروں کے مقام سے طے کرتے ہیں! کچھ نجومی اس زائچے کیلئے 15 اگست 1947ءکے دن ”آسمانی کونسل“ کے اجلاس کا حال دیکھتے ہیں اور کچھ ستارہ شناس اسے ”لیلتہ القدر“ کا ”امرِ سلام“ قرار دیتے ہیں! آج کل کچھ نجومی 14 اگست 1973ءکی ”کواکبی نشست“ پاکستانی زائچے کی بنیاد بناتے ہیں مگر دوسری طرف کے ”پنڈت“ اس طوطے کی بھی گردن مروڑ دیتے ہیں ، جس کی چونچ میں ”پاکستان“ کا کارڈ آ جانے اور فال نکالنے والا کہہ رہا ہے، ”عالمی کرکٹ کپ کا وجئی پاکستان ہوگا!“ دوسرے لفظوں میں ہمارے نجومی بھی ”متفق الرائے“ نہیں جبکہ ان کے ”جیوتش ودیا“ کے ناگرک بھی یک سو اور یک رو ہیں حتی کہ طوطوں کی بھینٹ چڑھانے سے بھی نہیں چوکتے! حالانکہ اہل نظر کہتے ہیں کہ اس طوطے میں ایک ”تھرڈ ایمپائر“ کی جان تھی! اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ”تھرڈ ایمپائر“ کون ہے؟
آج نوائے وقت بھی اپنی ”بلاتعطل اشاعت“ کے 71 سال پورے کرکے 72ءویں سال میں قدم رکھ چکا ہے اور اس سال نوائے وقت کے ”تین کارکن“ قومی اعزازات سے نوازے گئے! یہ کون کون ہیں؟ کسی خوشگوار دن ہم یہ معلومات بھی مہیا کریں گے کیونکہ یہ ایک ایسی خبر ہے جسے ہم آہستہ آہستہ ”بریک“ کرنا ضروری سمجھتے ہیں!
ایک ایسے معاشرے میں جہاں سب کچھ رکا ہوا لگ رہا ہو ایک ہمہ جہت ترقیاتی سفر میں مبتلا ہے! اور ہر جہت میں ایسے ایسے کارنامے سر کئے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے! ہم زراعت سے لیکر صنعت تک ہر علم کی اعلیٰ ترین سطحوں پر ایسی پیش قدمی کر چکے ہیں کہ ہمارا یہ کہنا کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر قدم دھر چکے ہیں کسی مبالغے سے مملو نہیں! ہماری نگاہ میں وہ نوجوان سرے سے نہیں جنہیں اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں! وہ میاں شہر یار کے اس قول کی تفسیر لگتے ہیں! سب اپنے اپنے کام سے لگے ہیں! ہم بھی اپنے کام سے لگے ہیں!، انہیں قوم عزت دے رہی ہے کیونکہ وہ قابل عزت ہیں اور انہیں عزت کے اعلیٰ ترین معیارات پر جانچ کر عزت دی جا رہی ہے! اگر کوئی ہم جیسے ”انسان دشمن معاشرے“ سے بھی عزت پا رہا ہے تو ہم اسے اللہ تبارک و تعالیٰ کے احسان کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں! بلاشہ یہی وہ نوجوان ہیں، جن پر ہمیں فخر ہے! اور وہ پاکستان کا فخر ہیں!
دستان پاکستان جمہوریت نشان جناب مجید نظامی تک نوید پہنچے کہ ان کے آدرش کے حصول کیلئے کوشاں اہل علم، اہل سیف اور اہل قلم ہر جہت میں مستعد اور کامیاب و کامران ہیں اور ایسے عجوبے تخلیق کر رہے ہیں جن کے ثمرات ظاہر ہونے والے ہیں! اور یہ سال پاکستانی خود انحصاری کے آغاز کا سال قرار پانے والا ہے! انشاءاللہ! بات عشق کی ہے اور جناب ارشد شاہین پہلے ہی فرما چکے ہیں!
عشق اذیت ناک بھی ہے اور صبر طلب بھی
لیکن اس سے آدمی تازہ دم رہتا ہے!
عشاق کا قافلہ 1947ءسے جادہ پیما ہے اور اب خود انحصاری کی منزل کے قریب پہنچنے والا ہے! یہ ”پڑاﺅ“ قومی وسائل کے اجتماع کا پیغام دے رہا ہے! ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم اپنی حرص و ہوس کا دامن سمیٹ لیں تو یہ ”پڑاو“ بھی مختصر ہوکر پوری تیزی سے جادہ پیما ہو سکتا ہے!